مضامین

خادم ملت جناب ماسٹرانورعلی صاحب کھورؒ

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت 1903ء ……وفات 14اکتوبر 1989ء ……میٹرک پاس

میں جب ماسٹرصاحب کی نورانی صورت کودیکھتاتھاتوایسامعلوم ہوتاتھاکہ ایک فرشتہ آسمان سے نازَ ہواہے،آپکے اندرمحبوبیت کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی،شرافت خاندانی پیشانی سے جھلکتی بلکہ ابلتی نظرآتی تھی،جذبہ خدمت کانورانکی ہراداسے اورہرپہلوسے ظاہرہوتاتھا۔1976ء میں وہ عمرکے اس مرحلے میں تھے کہ گوشۂ عافیت سے ہمکنار ہوجائے، لیکن اس وقت بھی لاٹھی کے سہارے عیدگاہ فیض اللہ انجناکے لئے مچلتے پھرتے تھے،جوحضرات سالوں ٹال مٹول کرتے رہتے تھے ناامیدی کے باوجودآپ انکے درکا بار بار چکرلگاتے رہتے تھے،ایک مرتبہ کچھ ایسے ہی خوش نصیب کے یہاں سے وصولی کے لئے میری انکے ساتھ رفاقت ہوگئی،ہماری معیت میں حضرت مولاناابراہیم صاحب انجناامام عیدگاہ،جناب مکھیاالفت حسین صاحب کسمہارااورجناب شرافت حسین شاحب کسمہارا تھے،ہم لوگ کئی ایسے شحیح القلب کے دروازے پرپہنچے جنہوں نے ان مخلص اورپیرانہ سال بزرگوں کورودرروگالیاں دی ہم جیسے بے تحمل وجذباتیوں کادل توابلنے لگالیکن ماسٹر انورصاحب کی چوڑی پیشانی پربل تک نہیں آیا،انکے رخساروں پرابھی بھی تبسم کھیل رہا تھا،مجھے خیال ہواکہ شایدراستے میں ماسٹرصاحب اس کڑوی ضیافت پرکچھ تبصرہ فرمائینگے، لیکن انہوں نے اس طرح پی لیاکہ ڈکارتک نہیں لیا،صرف اتنافرمایاکہ ”ثمیرالدین دنیامیں ہرطرح کے لوگ ہوتے ہیں،ہمیں توصبرہی سے کام لیناچاہئے ”اورمیں انکی اس نصیحت سے محجوب ساہوگیا،اس وقت اسکی شان اس شعرکے حسب حال تھی ؎
نگہ بلند سخن دلنواز جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے
مجھے ایسامحسوس ہواکہ وہ ہمیشہ ایسے طعنوں کے لئے سینہ پررہتے ہیں،انکی جانبازی وجانفروشی ہی کاثمرہ تھاکہ عید گاہ انجناصدیوں سے ویران پڑی تھی،غیرمسلم کے مقدمے کے باعث احاطہ بندی کی آرزومنقطع ہوگئی تھی لیکن انکی نظامت میں صرف تین دنوں میں پورے احاطے کی تعمیر ہوئی اوردوسری عید سے پہلے اسکے مناروں پربلال عید چمکنے لگا،ہم رفقاء کواتنی مسرت ہوئی کہ بھری عید گاہ میں ماسٹرصاحب کی مدح میں قصائدپڑھے گئے اورماسٹرصاحب کی گل پوشی کی گئی،آپکے انہماک کاعالم یہ تھا کہ آپکے اکلتے صاحبزادے کااکسیڈنٹ میں ہاتھ ٹوٹ گیاپھربھی آپ تعمیرمیں اس طرح غرق رہے کہ گویاکچھ ہواہی نہیں۔
پرساہائی اسکول کی تعمیر وترقی میں جن نفوس قدسیہ کاخون جگرشامل ہے ان میں سے ایک وقیع شخصیت ماسٹرانورصاحب کی ہے،یہ پرسامڈل اسکول کے ماسٹرتھے،تعلیم میں پوری تندہی کاثبوت دیتے اورساتھ ہی حسبتہ للہ ہائی اسلول کے آمدوخرچ کاپوراحساب درج کرتے اورمحفوظ رکھتے،صبح وشام کاجزیاتی حساب رکھناپھراس میں صحت وصفائی کاالتزام بڑی دلسوزی اورلگن کاکام ہے لیکن ماسٹرصاحب بڑی دریادلی سے مفت کرتے رہتے تھے۔جناب مجیب الحق صاحب کی اس درخشاں حدمت کی بڑی دریادلی سے شکریہ اکاکیاہے اورخاص طورپراسکاذکرچھیڑاہے،حساب کی صفائی اورعوام کے سامنے اسکی پیشگی آپکی فطری عادت تھی جوہزار نفلی عبادتوں سے وزنی اورقیمتی ہے،اس وقت بھی عید گاہ کاپوراآمدوخرچ ہرعید کے موقع پرازخودفراخ دلی سے پیش فرماتے اورلوگوں کومطمئن کردیتے تھے۔
مدرسہ اسلامیہ کھوردکے قیام اوراسکے عروج میں آپ دامے،درمے،قدمے سخنے شریک وسہیم رہے ہیں،اس مدرسے میں قرآن پاک کی تلاوت اورحدیث وفقہ کے اسباق میں آپکاضرورحصۂ اجرہوگااوررب شکورکی بے پایاں رحمتیں آپکوبے حساب نعمتوں سے نوازے گی۔
آپ نے زندگی میں اتنے روشن خدمات انجام دی کہ تاریخ کے زریں صفحات پرآپ ایک جانباز مجاہداورسینہ سپرمصلح کے نام سے یادکئے جائینگے ؎
آسماں اس کی لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: