مضامین

خاندانی نظام کی خوبیاں

مولانا محمد عالم قاسمی جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار

امام وخطیب جامع مسجد دریا پور ، باغ، پٹنہ،بہار
اسلام دین رحمت ہے جس نے فطری بنیاد پر زندگی کے تمام مراحل کے نشیب وفراز کو واضح کرتے ہوئے اس میں پیش آمدہ مسائل کا حل نہایت خوش اسلوبی سے اور پوری تفصیل سے بیان کیا ہے اسی میں سے ایک اہم ترین چیز خاندانی نظام ہے چونکہ خاندان ہی وہ کار گاہ انسانیت ہے جہاں انسانی قدریں پروان چڑھتی ہیں۔
وہ ایسی تربیت گا ہ جہاں قوم کا مستقبل تیار ہوتا ہے اور معمار ملت وپاسبان سماج پرورش پاتے ہیں پھر اسکے نقوش سادہ لوح انسانی پر ایسے ابھرتے ہیں جو تاعمر مرتسم رہتے ہیں۔ اسکی حیثیت خشت اول اور سنگ بنیاد کی ہے جس پر پوری شخصیت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے، یہ جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی انسانی معاشرہ مستحکم ہوگا ورنہ اسکے بکھراؤ پر پورا سماج منتشر ہو جاتاہے۔
انسانی زندگی کے مشن میں خاندان سازی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس پر بہت زور دیا ہے اور اسکے تفصیلی احکامات بیان کرتے ہوئے اس سے متعلق چھوٹے بڑےتمام خدوخال کو پیش کرتے ہوئے اسکے اصول و ضوابط بھی متعین کئے ہیں نیز رہنما ہدایات بھی جاری کردیئے ہیں اور ساتھ ہی عملی نمونہ بھی چھوڑا ہے۔
’’خاندان ‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے فارسی میں ’’خانوادہ‘‘ اور عربی میں اسے ’’اسرہ‘‘ کہتے ہیں انگریزی میں اسکے لئے فیملی (Family)کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس سے موجودہ زمانے میں مراد صرف شوہر،بیوی اور بچے ہوتے ہیں۔ جبکہ اسلام نے اس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے شوہر، بیوی اوربچوں کے علاوہ والدین اور حقدار قریبی رشتہ دار کو بھی شامل کرتا ہے پھر اس سے متعلق ہر ایک کے حقوق کو واضح کرتے ہوئے اس پر کچھ فرائض بھی عائد کرتا ہے۔ چونکہ اس کے استحکام کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ خاندان کے تمام افراد اپنے حقوق و فرئض سے کما حقۂ واقف ہوں اور ایک دوسرے کے تئیں ہمدردی اور ایثار کا جذبہ رکھیں تبھی اس میں پائیداری ممکن ہے۔
خاندانی نظام کو بہتر اور مستحکم بناناہمارے اختیار میں ہے اور یہ ہمارے فرائض منصبی میں بھی داخل ہے ۔ حضور اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا’’ کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتۃ (بخاری) یعنی تم میں کا ہر شخص اپنے اہل خانہ کا نگہبان وذمہ دار ہے اس سے لاپرواہی پر قیامت میں باز پرس ہوگی۔
اسلام میں خاندان اور عائلی زندگی کا آغاز نکاح کے پاکیزہ رشتہ سے قائم ہوتا ہے۔حدیث پاک میں ارشاد ہے ’’لم ترللمتحا بین مثل النکاح(ابن ماجہ) یعنی نکاح سے بڑھکر محبت کا کوئی دوسرا رشتہ ہوہی نہیں سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی میںالفت ومحبت کو اللہ کی نشانی قرار دیا ہے۔(لروم:21)
مگر ایسے پاکیزہ رشتہ کو غیر اسلامی رسومات اور شادی بیاہ کے بیجا مصارف نے تجارت اور ایک بوجھ بنادیا ہے جس سے لڑکیوں کو رحمت کے بجائے زحمت سمجھا جارہاہے۔ غیروں کی دیکھا دیکھی، جھوٹی شہرت اور نام ونمود نے سب سے آسان عمل کو مشکل ترین بنادیا ہے۔ جسکے باعث بہت سے مفاسد پیدا ہوگئے ہیں اہل ایمان اپنے پاکیزہ سادہ طریقہ کو پیش کرنے کے بجائے غیروں کی نقالی میں تباہی وبربادی کو خود ہی دعوت دے رہے ہیں۔ جس سے معاشرہ کو بچانے کی سخت ضرورت ہے۔
مردوعورت ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں اور ایک کے بغیر دوسرے کی زندگی ادھوری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’ ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجہ‘‘(البقرہ:228) یعنی جس طرح مردوں کے حقوق ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں۔ البتہ نان ونفقہ کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے اس بنا پر اسے ایک گونہ برتری حاصل ہے۔ مگر یہ برتری اس بنیاد پر ہے کہ گھر کا نظام خوش اسلوبی سے چلتا رہے دنیا کا کوئی ادارہ نہیں جو بغیر سربراہ کے ہو ایسا نہ ہوتو وہ اناکی شکار ہو جائیگا۔ اسی طرح گھر کا نگراں اور محافظ مرد کو بنایا گیا ہے۔ (نساء:34) اس لئے مرد پر لازم ہے کہ اپنے اہل خانہ کی دینی واخلاقی تربیت کی فکر کرے۔ مگر یہ نگرانی نہایت حکمت وتدبر اورحلم وشفقت سے کرے۔
حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقا والطفہم اھلا(ترمذی) یعنی ایمان کے اعتبار سے کامل شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور عمدہ اخلاق کا سب سے پہلے مظاہرہ اپنے گھروالوں پر ہو۔
دوسری جگہ حضورؐ کا ارشاد ہے ’’خیرکم خیر کم لاھلی وانا خیرکم لاھلی‘‘(ترمذی) یعنی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تم سب سے بہتر وہ ہے جواپنے اہل وعیال کی لئے بہتر ہو اور میں اپنے اہل خانہ کے لئے سب سے بہتر ہوں۔
مگر نرمی کا معاملہ یہ ہو کہ حسب استطاعت ضروریات زندگی خوردونوش اور لباس وپوشاک میں فراخدلی کا مظاہرہ کرے، لیکن تربیت میں نرمی اسکے لئے ہمدردی نہیں بلکہ یہ سخت مضرت رساں ہے اس لئے تربیت کے معاملے میںنہایت چاق وچوبند رہے۔
خاندان کی درستگی اور اچھائی کا معاملہ بہت حدتک عورت کی سلیقہ مندی پر موقوف ہے اگر وہ باشعور تعلیم یافتہ اور سلیقہ مند ہو تو گھر کو جنت نظیر بنا سکتی ہے۔ اور یہ بات تو سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے چونکہ مستقبل انہی کی گود میں پلتا ہے۔ اور سب سے زیادہ اثر بھی بچے اسی کا قبول کرتے ہیں۔ اسلئے انکی ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔
خواتین کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے شوہر کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ انکی پسند نا پسند کا خیال رکھیں۔ اگر شوہر کسی کو اپنے گھر آنا پسند نہ کریں تو اسے ہرگز اجازت نہ دیں حضورؐ نے فرمایا کہ اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کی اجازت ہوتی تو عورت کو حکم دیا جاتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کریں۔(ترمذی)
ایک حدیث پاک میں حضور ؐ نے فرمایا کہ اگر کسی عورت میں یہ چار خوبی ہو کہ پانچوں وقت کی نماز اداکرے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی عزت وناموس کی حفاظت کرے اور پنے خاوند کو خوش رکھے تو اس سے کہا جائیگا کہ تم جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو سکتی ہو۔(مسند احمد)
اسی طرح مرد کو یہ تاکیدکی گئی کہ’’وعاشروھن بالمعروف‘‘(النساء:19) معروف طریقہ پر انکے ساتھ زندگی بسرکرو۔ یعنی اپنی حیثیت اور عورت کی عادت ومزاج کی بھر پور رعایت کرو۔ وہ نازک آبگینہ کے مانند ہے اسکے دل نازک کو ٹھیس پہونچانے سے بچو، اس میں خراش نہ لگنے پائے ورنہ ٹوٹ جائیگی۔ اگر شوہر کی دلجوئی اور وفاداری ہوتو وہ بڑے سے بڑا غم کو بھی جھیل لیتی ہے مگر جب اسے محبت اور پیار نہ ملے تو بڑی دولت اور مال واسباب کو بھی ٹھوکر ماردیتی ہے۔
مرد چاہتا ہے کہ ہم اپنی مرضی کے مطابق اسے ڈھال لیں یہ ممکن نہیں حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ اگر کوئی عادت تمہیں ناپسند ہو تو دوسری اچھی خصلتیں بھی اسمیں ضرور ہونگی۔(مسلم) اسلئے نہایت خوش اسلوبی سے نبھاہ کی کوشش کی جائے۔یہ گھروں کی زینت ہیں، اسکے بغیر زندگی بے لطف ہے۔ اسی کے دم قدم سے گھرمیں بہار ہے۔ لہٰذا اس پر حکمرانی کرکے نہیں بلکہ ایک ہمدرد جیون ساتھی بنکر خوشگوار زندگی کا مزہ لیں۔
اولاد کے سلسلے میں حضورؐ نے فرمایا کہ بچےجنت کے پھول ہیں۔ بلاشبہ یہ قدرت کا انمول تحفہ ہے خوشی کا مژدہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ بے اولادزندگی بے ثمردرخت کے مانند ہے۔ اسکی کلکاریوں سے ہی گھر خاندان میں خوشی کے آبشار پھوٹتے ہیں مگر وہ نعمت خداوندی اسی وقت ہوسکتے ہیں جب اسکی عمدہ تربیت کریں۔ ہر انسان اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اسکے لئے اپنا سب کچھ نچھاور بھی کرتا ہے مگر حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ ’’مانحل والد افضل من ادب حسن(بخاری) یعنی ماں باپ کا اولاد کے لئے سب سے عظیم تحفہ اسے عمدہ اخلاق سے مزین کرنا ہے۔ بچے بہت سی چیزیں گھر میں دیکھ کر سیکھتے ہیںاسلئے گھر کا ماحول پاکیزہ بنایا جائے۔ اسی طرح بچے اور بچیوں میں کوئی تفریق نہ کی جائے عدل کا معاملہ کیا جائے حضور اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص دو یا اس سے زیادہ بچیوں کی پرورش کی آزمائش میں ڈالا جائے اور وہ بغیر کسی تفریق کے عمدہ تعلیم وتربیت کرکے پرورش کرے تو وہ میرے ساتھ جنت میں مل جائیگا اور اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا جس طرح دونوں ملی ہوئی ہے اسی طرح وہ جنت میں مجھ سے مل جائیگا۔
والدین: اسکے متعلق ارشاد خداوندی ہے میرا اور اپنے والدین کا شکر اداکرو(لقمان:14) والدین کی خوشی اللہ کی خوشی ہے اور انکی ناراضی اللہ کو ناراض کرنا ہے۔ حضورؐ نے فرمایا افضل عمل یہ ہے کہ نماز کو اسکے وقت میں ادا کی جائے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے(ترمذی)
رشتہ دار: رشتہ دار وں کے بھی حقوق ہیں خوشی اور غم کے موقع پر وہ آتے ہیں انکے ساتھ حسن سلوک کیا جائے خوش کے موقع پر انکی آمد مسرت کو دوبالا کرتی ہے اور رنج والم میں وہ ہمارے غم کو ہلکا کرتے ہیں۔ اسلئے قطع رحمی سے منع کیا گیا ہے۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا ــلاید خل الجنۃ قاطع الرحم‘‘ (مسلم) قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔اسلئے حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ ’’ رشتہ داروں پر خرچ کرنا دوہرے اجر کا باعث ہے‘‘ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اسکی عمر میں اضافہ اور مال ورزق میں برکت ہو تو وہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔
مذکورہ بالا خطوط پر خاندان کی تشکیل ہو تو نہ صرف یہ کہ ایک مثالی معاشرہ ہوگا بلکہ اسکے اثرات اہل خاندان کے علاوہ معاشرے کے دیگر افراد پر ہونگے اور یہ ایک مثبت عملی پیغام ہوگا۔ اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ بڑے خاندان کے لوگوں میں حالات سے نبرد آزماہونے کی صلاحیت بنسبت چھوٹے پریوار کے زیادہ ہوتی ہے۔ مشترکہ خاندان میں چند دقتیں بھی ہیں مگر اہل خاندان افراد خانہ کی عمر اور مزاج کی رعایت کرتے ہوئے ایک دوسرے کی سہولت اور پرائیویسی کا لحاظ کرلیں تو بہت سے فائدے سے بہرہ ور ہوجائنگے۔
اس گئے گذرے دور میں بھی مسلمانوں کے یہاں خاندانی ڈھانچہ موجود ہے۔کمزور ضرور ہواہے مگر مغربی اقوام کی طرح منہدم نہیں ہوا ہے۔
مادہ پرستی نے یورپ کو اخلاقی انحطاط سے ایسا دوچارکیا ہے کہ خاندانی نظام ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے۔ اب انکی زندگی کا مقصد ہی انجوائے موج مستی رہ گیا ہے اور اسکے خاطر کسی طرح کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں یاس والدین رشتہ دار تو دور کی بات اب تو شریک زندگی بھی بنانانہیں چاہتے جسکے نتیجے میں ہم جنس پرستی اور لیوان ریلیشن کا نہ صرف یہ کہ چلن ہوا ہے بلکہ اسے حکومتی سطح پر قانونی جواز بھی فراہم کردیا گیا ہے اور اب یہ چیزیں ہمارے ملک میں رائج ہورہی ہیں اور یہاں بھی قانونی طور پر اسے تسلیم کر لیاگیا ہے۔
عورتوں کو حقوق دلانے کے نام پر آزادی کے لبادے میں سامان تفریح بنادیا گیا ہے کہ منڈی میں جو چاہے قیمت ادا کرکے لطف اندوز ہو سکتا ہے اسکے لئے تمام حدود قیود کو روندنے کی کوشش ہورہی ہے۔
مغربی معاشرہ اب اس نظام سے اتنا دور گیا ہے کہ وہ لوگ اس لذت سے بھی نا آشنا ہوگئے ہیں ۔ وہ کیا جانیں کہ بوڑھے والدین کی خدمت سے کتنا سرور ملتا ہے۔ شوہر کی تمام تردلداری کے باوجود اسکے گھر کی ملکہ بنکر جب اپنے شوہر کو ڈانٹ کر اس کا احتساب کرتی ہیں تو انہیں اس گھر میں اپنی عظمت کا کتنا احساس ہوتا ہے۔ بچوں کے ساتھ گھل مل کر کھانے میں کتنا لطف آتا ہے اور نانی دادی کے ذریعہ خاندانی کو بھولی بسری کہانی سننے میں کیسے خوشی کے فوارے چھوٹتے ہیں۔
خاندانی طو پر زندگی گذارنے میں کتنا حوصلہ ملتا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے کام میں آپس میں صلاح ومشورہ کرنے میں کتنا اچھا لگتا ہے۔ خاندان کے کسی فرد کی غیر حاضری میں کوئی فکر نہیں ہوتی سب ایک دوسرے کی خبر گیری کرتے ہیں۔ کوئی من مانی نہیں کرتا اور شیطان کو وسوسے خرافات میں مبتلا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اور بڑی سے بڑی پریشانی کو سب مل کر جھیل جاتے ہیں۔ اس طرح خاندانی نظام کے بہت سے ثمرات اور بہت ساری خوبیاں ہیں۔ امن وسکون کے لئے سرگرداں انسانوں کے لئے اسلامی خاندانی ایک مثالی معاشرہ کا نمونہ بن سکتاہے۔ عبادات سے دنیا متاثر نہیں ہوئی وہ دنیا کوسب کچھ سمجھتے ہیں اوردنیوی زندگی کی خوشحال کا جب نمونہ وہ دیکھیں گے تو ضرور اپنائیں گے یہی وجہ ہے کہ یورپ میں ہزار پابندی کے باوجود مسلم خواتین کی پاکیزہ مہذب زندگی کو دیکھ کر زیادہ تر خواتین اسلام قبول کر رہی ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ہم بغیر کسی مرعوبیت کےدین رحمت کا خاندانی نظام عملی طور پر دنیا کے سامنے پیش کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: