مضامین

خصوصی نشست قسط نمبر 10

ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی سابق صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ

بتاریخ 12/ مئی1978ء زیر صدارت محمد شمس الضحیٰ صاحب صدر ضلع جمعیت بمقام مکان مولوی محمد حسین دمکا ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ جس میں تجویز نمبر(۱) کے تحت 11/ جون 1975ء کے اجلاس عام جمعیت علمائے ضلع سنتھال پرگنہ منعقدہ کھٹنئی میں منظور کردہ تجویز نمبر 15 بابت ’شرعی پنچایت‘ اور جمعیت علمائے ہند کے تعمیری پروگرام دفعہ ۸ بعنوان سماجی خدمات بسلسلہ شرعی پنچایتپر عمل کرتے ہوئے خاندانی تنازعات اور آپسی معاملات کو حل کرنے کے لیے شرعی پنچایت قائم کی گئی۔ چوں کہ یہ ضلع بہت بڑا ہے اور جنوبی و شمالی دو حصوں پر مشتمل ہے اس لیے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے فی الحال اس کا دفتر مدرسہ و یتیم خانہ دودھانی دمکا ہی میں رکھا گیا۔ میٹنگ میں ضلع کے ہمدردوں سے اپیل کی گئی کہ ضرورت مند افراد کو ترغیب و توجہ دلاکر اپنے تمام معاملات بالخصوص پرسنل لاء سے متعلق عائلی مسائل کو شرعی پنچایت سے حل کرائیں اور اس کے اجراء میں تعاون کریں۔ اراکین شرعی پنچایت سے گذارش کی گئی کہ وہ دین کی خدمت سمجھ کر اپنی ذمہ داری کو نبھانے کی پوری کوشش کریں۔ شرعی پنچایت کے اراکین کے نام یہ ہیں:
1۔ محمد شمس الضحیٰ صاحب صدر جمعیۃ علماء ضلع سنتھال پرگنہ
2۔ مولانا محمد مظہر الحق قاسمی جہاز قطعہ ناظم اعلیٰ ضلع جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ
3۔ مولانا محمد عرفان مظاہری جہاز قطعہ صدر مدرس مدرسہ تجوید القرآن پاکوڑیا
4۔ حاجی مولوی محمد ظہور الحق کھٹنئی
5۔ الحاج مولانا محمد علاء الدین دگھی صدر مدرس مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی
6۔ مولوی محمد حسین تھانہ روڈ دمکا۔
7۔ قاری حافظ محمد زین العابدین مدرسہ و یتیم خانہ اسلامیہ دودھانی دمکا۔
8۔ مولانا محمد منیر الدین قاسمی مدرسہ و یتیم خانہ اسلامیہ دودھانی دمکا۔
9۔ مولانا محمد بدرالدین قاسمی صدر مدرس مدرسہ اعزازالعلوم سرسرا نواڈیہہ سارواں
تجویز نمبر(2) شہر دمکا میں ”مسلم فنڈ دمکا“ کے قیام کا فیصلہ لیا گیا۔ اس کا سرپرست جناب محمد حسین صاحب دمکا، سکریٹری مولوی عبدالرزاق صاحب ریکھا بنی اور خزانچی مولوی محمد یاسین صاحب شور مرچنٹ دمکا کو بنایا گیا۔
تجویز نمبر(3) اس میں شہر دمکا کے مسلم باشندوں سے اپیل کی گئی کہ وہ جلد از جلد مسلم فنڈ کو عملی شکل دے کر کام شروع کریں اور لوگوں کی اقتصادی حالات سدھارنے میں اپنا کردار ادا کریں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مسلم فنڈ کے لیے حضرت فدائے ملت ؒ نے بھی 20 / روپیے، اسی طرح ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب نے 10/ روپیے کا علیٰ الفور تعاون کیا۔اور دیگر حضرات نے بھی امداد کی۔
اجلاس مجلس منتظمہ
بعد نماز جمعہ12/ مئی 1978 ء، بمقام مکان مولوی حسین صاحب دمکا جمعیت علمائے ضلع سنتھال پرگنہ کی مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا۔ جس کی صدارت جمعیت علمائے ریاست بہار کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد ازہر نعمانی صاحب مہتمم و بانی مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی نے کی۔مولانا محمد عالمگیر کبیری ؔ صدر مدرس مدرسہ سلطان المدارس روپنی دیوگھر کی تلاوت سے مجلس کا آغاز ہوا اور درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں:
(1) تجویز تعزیت پیش کرتے ہوئے تمام وفات پانے والوں کے لیے بالعموم اور بالخصوص حاجی محمد اشرف باگھاکول، عبدالرحمان منجھلاٹیکر، والدہ عبدالغفار روپنی، والدہ حاجی محمد حسن دگھی کے لیے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی گئی۔
(2) گذشتہ کارروائی کی خواندگی و توثیق کرتے ہوئے جدید انتخاب کے بارے میں یہ طے ہوا کہ حسن کارکردگی کی وجہ سے سابقہ عہدیداروں کو ہی خدمت کا موقع دیا جائے اور صدر ضلع کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابع ضلع کے ہمدرد و مخلص کارکنوں میں سے چھ افراد کو ضلع جمعیت کے رکن کی حیثیت سے نامزد کرلیں۔
(3) طے کیا گیا کہ مقامی جمعیت کو تاکید کی جائے کہ اپنی سہولت کے مطابق تعمیری پروگرام میں سے کوئی دفعہ اپنے یہاں جاری کرکے جلد ہی اس کی رپورٹ اعلیٰ دفتروں کو بھیجیں تاکہ ضلع اس کی نگرانی اور مدد کرسکے۔
(4) شرعی پنچایت کے قیام کی تاکید کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ تمام عہدیدار، ذمہ دار اور کارکن حضرات اپنے اپنے حلقہ میں اپنے عائلی مسائل کو شرعی پنچایت سے حل کرانے کے لیے لوگوں کی ذہن سازی کی جائے، تاکہ عدالت کی بیجا پریشانیوں اور قیمتی سرمایہ کے ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔
(5) مدنی مسافر خانہ دمکا کے قیام کی تفصیلات کی پیشی کے بعد طے کیا گیا کہ ضلع کے ہمدرد حضرات مالیات کی فراہمی میں خود بھی تعاون کریں اور دوسروں کو بھی متوجہ کریں۔ اور تیاری کمیٹی کو ہدایت دی گئی کہ اپنی کوشش کو مزید تیز کرتے ہوئے جلد از جلد زمین وغیرہ کا معاملہ طے کرلیں۔
(6) دینی تعلیم کی توسیع کے سلسلے میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ ضلع جمعیت کے تحت ضلع دینی تعلیمی بورڈ قائم کرکے دیہاتوں کا سروے کیا جائے اور جگہ جگہ دینی مکاتب و مدارس قائم کیا جائے۔
(7) ضلع حج کمیٹی کی تشکیل کی جائے اور اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے ریاستی حج کمیٹی سے رابطہ کیا جائے تاکہ اس میں کوئی قانونی پریشانی نہ ہو۔
(8) مرکزی حکومت نے اقلیتی کمیشن قائم کرنے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ ”حکومت اقلیتوں کے مسائل پر ہمدردانہ غور وخوض کرکے شکایات کو دور کرے گی“۔ اس اعلان کے تحت صدر ضلع جمعیت کو یہ اختیار دیا گیا کہ ضلع کے کارکنوں، ذمہ داروں اور ہمدردوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اقلیتوں کے مسائل پر رپورٹ تیار کرے اور حکومت کے سامنے پیش کرے۔ اس پر عمل کرتے ہوئے درج ذیل افراد پر مشتمل ایک ”ضلع اقلیتی کمیٹی“ تشکیل دی گئی:
۱۔جناب ماسٹر محمد شمس الضحیٰ صاحب صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ۔ ۲۔ مولانا محمد مظہر الحق صاحب جہاز قطعہ ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ۔ ۳۔ مولانا محمد بدر الدین صاحب نوا ڈیہہ سرسرا۔ ۴۔ جناب محمد انوارالحق صاحب ایڈوکیٹ دودھانی دمکا۔ ۵۔ جناب محمد قمر الزماں صاحب ایڈوکیٹ پاکوڑ۔ ۶۔ جناب محمد سعید صاحب ایم ایل اے مہگاما۔ ۷۔ حاجی عین الحق صاحب ایم ایل اے پاکوڑ راج محل۔ ۸۔ جناب محمد حسن الدین ایڈوکیٹ گڈا۔ ۹۔ محمد کمال الدین صدیقی صاحب گنج۔ صدر صاحب کو اس فہرست میں ناموں کے اضافہ کا مکمل اختیار دیا گیا۔
(9) ریاستی جمعیت بلڈنگ کے لیے مالیات کی فراہمی کے حوالے سے یہ طے کیا گیا کہ فی الوقت بذریعہ دستگرداں حاصل کرکے ایک ہزار کی رقم پیش کردی جائے۔ چوں کہ ضلع کانفرنس کی وجہ سے چندہ فراہمی کا موقع نہیں مل سکا، اس لیے حسب سہولت بعد میں فراہم کرکے دستگرداں رقم وصول کردی جائے اور فاضل رقم جمعیت بلڈنگ کے واسطے بھیج دی جائے۔
(10) ضلع جمعیت کی تنظیمی استحکام کے لیے بغرض فراہمی مالیات وفود کی تشکیل کی جائے اور مناسب موقعوں پر ضلع کا دورہ کیا جائے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: