اسلامیات

خطبہ حجۃ الوداع کے چند اہم نکات

محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی

مکرمی! عرفات کے میدان میں رحمت عالم ﷺ نے 9 ذی الحجہ 10 ہجری/7 مارچ 632 عیسوی کو اپنا آخری خطبہ دیا تھا جو تاریخ اسلام میں خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور و معروف ہے آئیے اسی خطبے کے چند اہم نکات کو دہرا لیں اور دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں کیونکہ سب سے پہلے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔اب ان نکات پر نظر ڈالیں جو ہمارے لئے مشعل راہ اور دارین میں کامیابی کے اساس ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو.تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر ، حسب و نسب کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔ برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ اور عمل کر سکیں۔پھر آپ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہااے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: