مضامین

خطیب عصرحضرت مولانااخترحسینؒ صاحب شری چک

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت 1938ء تقریبا……فاضل دیوبند1958ء

طلاقت لسانی،زورخطابت اورشیریں کلامی کی مسندصدارت پراگرکوئی شہبازعلاقہ جلوہ افروزہوسکتاہے تووہ حضرت مولانااخترحسین صاحب کی ذات گرامی ہے،علاقے میں کوئی جلسہ ہویاکانفرنس حضرت کوضروردعوت خطابت دی جاتی ہے،آپ کی سحر آفریں تقریر سے ایک سماں بندھ جاتاہے اورسامعین کادل اچھلنے لگتاہے اور”ہل من مزید“کی صدائیں آنے لگتی ہیں،انکی تقریرکااعلان سنکرلوگ اپنے گھروں سے نکل آتے ہیں۔
نہ جانے کیاکشش ہے اخترؔتری شبستاں میں
کہ ہم شام آودھ صبح بنارس چھوڑآئے ہیں
آپکااصل میدان خدمت صوبہ بنگال رہاہے،آپ غالبا1965 میں مرشدآبادبنگال میں پہنچے تووہاں کی فضابریلویت سے مسموم تھی اورعوام بدعات کی دلدل میں پھسے ہوئے تھے،آپنے پوری حکمت عملی سے انکاقلع قمع کیااورمسلمانوں کے قلوب میں اتباع سنت کی تخم ریزی کی اورالحمدللہ وہ بارآورہوئی،اس وقت آپ وہاں کے رہبرکامل سمجھے جاتے ہیں، وہاں کے لوگ آپکے فضل وکمال کے معترف اورخدمات جلیلہ کے دلدادہ اورگرویدہ ہیں۔
آپ مدرسہ اسلامیہ ضلع مرشدبادکے صدرمدرس اوراستاذحدیث ہیں،طلبہ آپ کے اندازبیاں سے بہت مطمئن اورآپ کے علمی شہ پاروں کے گرویدہ ہیں،مطالب احادیث میں نکتہ آفرینی کی شان آپ کاطرکرہ امتیازہے جوخال خال اساتذہ میں پائی جاتی ہے۔ آپ ناظم اعلی کمیٹی حضرت مولاناخلیل الرحمن صاحب شری چک کے خاندان کے چشم وچراغ ہیں۔
آپکی ساخت وپرداخت انہیں کی نگرانی وسرپرستی میں ہوئی ہے،فطری ذوق وذہانت کے ساتھ اس تربیت نے آپکودوآتشہ بنادیااورتراشیدہ ہیرے کی طرح چمکادیا،1958ء میں آپنے کارالعلوم دیوبندسے سندفراغت حاصل کی اورمسلسل درس ومطالعہ کی وجہ سے آپ اس وقت علاقے میں یکتائے روزگارعلماء میں سے شمارکئے جاتے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: