مضامین

خلافت اسلامیہ -شرعی تصوراورتاریخ

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

خلافت مسلمانوں کاایک مذہبی مسئلہ ہے،یہ اسلامی اجتماعیت کی کلیدہے،اسلام کایہ سب سے روحانی اورمقدس منصب ہے،جس پراسلام کےملی،سیاسی اورروحانی نظام کاانحصار ہے،اسی کوامامت کبریٰ بھی کہاجاتاہے،خلیفہ روئے زمین پراللہ اوررسول اللہﷺ کانائب اورامت مسلمہ کاامیرہوتاہے ،وہ دنیامیں وحدت اسلامی کانقیب اوراسلامی احکام وقوانین کےاجراء کاذمہ دارہوتاہے،پوری امت کی حیات ملی اورنشاط دینی کی نبض اس کےہاتھ میں ہوتی ہے،اس کی ذات سےساری امت مسلمہ کی موت وحیات وابستہ ہوتی ہے ۔۔۔۔اسی لئےتمام مسلمانوں پربحیثیت مجموعی قیام خلافت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،یہ مسلمانوں کا سب سے بڑاقومی فریضہ ہے،اگرمسلمانوں کی غفلت سےدنیاکےکسی حصہ میں خلافت کانظام موجودنہ ہوتوتمام امت گناہ گارہوگی ،اوراگرچندلوگوں کی کوششوں سے نظام خلافت قائم ہوجائےتوساری امت کی طرف سے فرض کفایہ اداہوجائے گا،یہ امت اسلامیہ کااجماعی نظریہ ہےجس میں کسی قابل ذکرعالم وفقیہ کااختلاف نہیں ہے ۔
متعددروایات حدیث میں نظام خلافت کوامت محمدیہ کےلئےنظام نبوت کامتبادل قراردیاگیاہےمثلاًحضرت ابوہریرہ ؓ سےمروی ہےکہ :
كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء كلما هلك نبي خلفه نبي وإنه لا
نبي بعدي وسيكون خلفاء فيكثرون ) . قالوا فما تأمرنا ؟ قال ( فوا ببيعة
الأول فالأول أعطوهم حقهم فإن الله سائلهم عما استرعاهم ۔
ترجمہ:بنی اسرائیل کی دینی وملی قیادت انبیاء کرام کرتے تھے،ایک نبی کی وفات کےبعد دوسرےنبی تشریف لےآتے تھے،لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے،البتہ میرے بعد بکثرت خلفاء ہونگے،صحابہ نےعرض کیا:کہ آپ ہمیں کیاحکم دیتےہیں؟آپ نےارشاد فرمایا:بالترتیب ان کےہاتھ پربیعت کرو،اوران کاحق اداکرو،اس لئے کہ وہ اللہ پاک کےیہاں اپنی رعیت کےخیروشرکےبارے میں جواب دہ ہونگے۔
اس مسئلہ کی اہمیت کاندازہ اس سے ہوتاہے کہ صحابۂ کرام نےاس کونبی اکرم ﷺکی تجہیزوتکفین پرمقدم رکھا،وفات نبوی کےبعدصحابہ نےپہلاکام سقیفۂ بنی ساعدہ میں خلیفہ کےانتخاب کاکیااورپھراس کی نگرانی میں حضوراکرم ﷺکی تجہیزو تکفین کاعمل انجام دیاگیا،رسول اللہ ﷺکےوصال کےبعدامت کاپہلااجماع خلافت کےمسئلہ پرہوا،اس منصب کےمستحق فردکےانتخاب میں گواختلاف ہوالیکن نصب امام کےمسئلہ پرصحابہ میں کوئی اختلاف نہیں تھا،تمام ہی شرکاء نےاس کی ضرورت تسلیم کی ۔
فقہاء اوراصولیین نےخلیفہ کی شرائط وصفات ،اورعزل ونصب کےمسائل پربہت تفصیل سے گفتگو کی ہے،جس کےاعادہ کی یہاں حاجت نہیں ۔
خلافت اسلامیہ کاتاریخی تسلسل
اسلامی تعلیمات کےمطابق امت میں خلافت کاتسلسل ہردورمیں قائم رہا،اورتاریخ کےایک مختصرعرصہ کااستثناکرکےکبھی ایسانہیں ہواکہ دنیاکےکسی حصہ میں خلافت کانظام قائم نہ رہاہو،فتنۂتاتارکےزمانہ میں جب ہلاکونےبغدادپرحملہ کیاتودرمیان میں چندسال اسلامی تاریخ میں ایسےگذرےجن میں کوئی خلیفہ موجودنہیں تھا،اس سےبے چین ہوکرعلامہ ابن تیمیہ ؒ اپنےگوشۂ علم اورکنج عبادت سے شمشیربکف میدان میں نکل آئے،اورعلامہ ابن کثیرؒنے سالہاسال تک اپنی شہرۂ آفاق تاریخ میں اس محرومی کاماتم کیا ۔
وقفۂ تعطل
اس کی تھوڑی تفصیل حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادصاحبؒ کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
"آج سے تقریباًپونےسات سو(۷۰۰)سال(اب پونےآٹھ سوسال–اس
لئےکہ یہ تحریرآج سےتقریباًایک صدی پیشتر ۱۳۴۳؁ھ میں لکھی گئی تھی)
پہلے ایسازمانہ گذراہےجس میں تقریباًساڑھے تین سال تک تمام دنیائے
اسلام کے اندرخلافت اسلامیہ کانام ونشان بھی باقی نہ تھا،کیونکہ ۴۲۲؁ھ
میں اندلس سےخلافت بنوامیہ کاخاتمہ ہوچکاتھا،اس کےبعددو جگہ خلافت
اسماًورسماًتھی،ایک مصرمیں خلافت فاطمیہ اوردوسرے بغدادمیں خلافت
عباسیہ ،لیکن ۵۶۷؁ھ میں جب مجاہداعظم سلطان صلاح الدین نےمصرسے
فرنگیوں کوماربھگایا،تونورالدین الشہیدکےحکم سےعاضدباللہ ابومحمدعبداللہ
آخری خلیفہ فاطمی کانام بہ حیثیت خلیفہ نکال دیاگیا،اورمصروقاہرہ کے
خطبات میں بھی خلیفہ عباسی المستضی باللہ کانام پڑھاجانےلگا،چنانچہ اسی
صدمہ سےدسویں محرم ۵۶۷؁ھ کوعاضدباللہ نےالماس کاٹکڑاکھاکرخودکشی
کرلی،اور اسی دن سےخلافت فاطمیہ کابھی خاتمہ ہوگیا،اس کےبعد دنیا
میں صرف ایک بغدادکی خلافت عباسیہ کانام ونشان باقی رہا،مگراس کے
بعد فتنۂ تاتاربرپاہوگیا،اورآخرمحرم ۶۵۶؁ھ ہلاکوخان نےمدینۃ الاسلام
بغدادکو تاراج کیا،اورقتل وغارت کرکے۳۰/محرم ۶۵۶؁ھ کوعباسی خلیفہ
المستعصم باللہ کوقتل کرڈالا،جس کےبعدبغدادکی خلافت عباسیہ کاآخری
ٹمٹماتاہوا چراغ بھی ہمیشہ کے لئےگل ہوگیا،اس وقت سے ۶۵۹؁ھ تک
دنیائے اسلام کےکسی حصہ میں بھی خلافت کاوجودنہیں رہا،آخرجب مصر
پرسلطان نورالدین الملقب بالظاہرقابض ہوگیا،تواس نےسلطان العلماء
شیخ الاسلام علامہ عزالدین ابن عبدالسلام کے مشورہ کے بعد احمدابن
الخلیفۃ الظاہر باللہ کوخلیفہ بنایااوران کےہاتھ پر۹/رجب المرجب ۶۵۹؁ھ
بیعت خلافت ہوئی ،اوراس دن تمام دنیائے اسلام کو ایام جاہلیت اور
فوضیت سے ایک طرح کی نجات ملی ،اس سے ظاہر ہےکہ تقریباًساڑھے
تین سال تک یعنی ۳۹/محرم ۶۵۶؁ھ سے لے کر ۱۸/رجب ۶۵۶؁ھ تک
اسلامی دنیابلاخلافت رہی ۔
افسوس۲۵/رجب المرجب ۱۳۴۲؁ھ مطابق ۳/مارچ ۱۹۲۴؁ء کوخلافت عثمانیہ کی تنسیخ سے لےکرآج تک تقریباًچورانوے(۹۴)سال سےدنیائےاسلام بغیرکسی خلیفہ کےجی رہی ہے،اوردوردورتک اس کےاحیاء کےآثارتک نظرنہیں آتے،اناللہ واناالیہ راجعون ۔
ہندوستان نےہردورمیں مرکزخلافت کی قیادت تسلیم کی
جہاں تک ہندوستان کامعاملہ ہےتوگوکہ یہاں نظام خلافت کبھی قائم نہیں ہوا،لیکن یہاں کےاکثرحکمراں اپنےاپنےدورمیں خلافت اسلامی کےمطیع وفرمانبرداررہے،مرکز خلافت سےوہ اپنی سلطنتوں کی منظوری کےپروانےحاصل کرتے تھے ،جمعہ کےخطبوں میں یہاں کےسلاطین عظام کےبجائےخلفاء اسلام کےنام لئےجاتے تھے،اوراس ملک کےبڑے بڑے سلاطین اس کواپنےلئےباعث سعادت سمجھتےتھے۔
ہندوستان عہدخلافت راشدہ سےعہدخلافت عثمانیہ تک
اسلام کی دعوت تویہاں بعض روایات(مثلاًتحفۃ المجاہدین کی روایت)کےمطابق عہدنبوت ہی میں پہونچ گئی تھی،لیکن سندھ میں اسلامی حکومت کےقیام کےبعدباقاعدہ ہندوستان کارابطہ حضرت عثمان غنی ؓ کی خلافت راشدہ سےاستوارہوا،جونہایت مضبوطی کے ساتھ بعدکےخلفاءکےساتھ بھی قائم رہا ،یہاں تک کہ ہندوستان پرانگریزی تسلط کے بعد اسلامی اقتدارہی کاخاتمہ ہوگیا۔
دربارخلافت سےہندوستان کےمضبوط تعلقات کےموضوع پرعلامہ سیدسلیمان ندویؒ کی ایک مستقل کتاب "خلافت اورہندوستان”کےنام سےہے،جس میں انہوں نے خلافت راشدہ(عہدحضرت عثمان غنی ؓ)سےخلافت بنی امیہ،خلافت بنی عباس،اورخلافت عثمانیہ تک عہدبہ عہدروشنی ڈالی ہے،اسلامی ہندکےابتدائی عہدحکمرانی سےلےکرسلطان ٹیپوتک ہردورکےبڑے بڑےحکمرانوں نےمرکزخلافت سے اپنی وابستگی قائم رکھی،اورخلیفۃ الاسلام کی اطاعت کوطرۂ افتخارتصورکیا،عہدبنی امیہ اورعہدبنی عباس میں مرکزخلافت سےجونائبین ہندوستانی حکومتوں کےپاس آئے ان کی فہرست بھی علامہؒ نےنقل کی ہے،اس میں حضرت عثمان غنی ؓ ،حضرت علیؓ ،حضرت امیرمعاویہ ؓ،اورحضرت عمربن عبدالعزیزؒ سے لےکرخلافت امویہ میں ہشام بن عبدالملک تک اورخلافت عباسیہ میں خلیفہ معتصم باللہ تک کےنائبین کےنام شامل ہیں ۔
٭عرب خلفاء کےنام پرہندوستان میں مختلف شہربسائےگئے،سندھ میں خلیفہ منصورکےنام پر”منصورہ "شہرآبادکیاگیا،اس زمانہ میں یہاں خلیفہ کےنائب مفلس عبدی تھے ،ان کےبعدموسیٰ بن کعب تمیمی تشریف لائے،خلیفہ مامون کےزمانہ میں شہر”بیضاء”آباد کیا گیا،اس وقت خلیفہ کےنائب ہندوستان میں موسی ٰ بن یحیٰ تھے ۔
٭بعدکےادوارمیں جب خلافت عباسیہ کمزورہوئی،توہندوستان میں کئی خودمختار سلطنتیں بن گئیں ،لیکن اس کےباجودخلفاء سےتعلق ختم نہیں ہوا،مسلکی لحاظ سے اختلاف ضرورپیداہوالیکن ہرایک کارشتہ اپنے اپنےمسلک کےلحاظ سے کسی نہ کسی خلیفہ سےقائم رہا، خلافت عباسیہ بدستوراہل سنت کامرکزتھی،لیکن باطنی شیعہ مصرکےفاطمی سلاطین کواپناخلفاء تصور کرتے تھے،بشاری مقدسی چوتھی صدی میں ہندوستان آئےتھے،ان کابیان ہےکہ پایۂ تخت منصورہ میں خلیفۂ عباسی کاخطبہ پڑھاجاتاتھا،جب کہ ملتان کےلوگ خلیفۂ فاطمی کاخطبہ پڑھتے تھے،اوراسی کےاحکام کی تعمیل کرتے تھے ۔
عہدغزنوی
٭جومسلم حکمراں افغانستان کی راہ سےہندوستان آئے،ان میں سب سے مضبوط اورنامورحکمراں سلطان محمودغزنوی تھا،سیاسی اورفوجی لحاظ سےپورے وسط ایشیامیں اس سے بڑی کوئی طاقت نہیں تھی،بلکہ یہ کہناصحیح ہوگاکہ یہ اپنےزمانے کاسب سے بڑاطاقتورمسلمان حکمران تھا،اس زمانہ میں خلافت عباسیہ بزرگوں کی مقدس ہڈیوں کاایک ڈھانچہ بن کررہ گئی تھی،لیکن اس کےباوجودمحمودغزنوی عباسی خلیفہ قادرباللہ کی اطاعت کواپنےلئے ضروری سمجھتاتھا،ہرنئی کامیابی کااطلاع نامہ دیوان خلافت میں معمول کےمطابق بھیجاجاتاتھا،کسی نئے ملک پرقبضہ وتصرف کےلئےدربارخلافت سے اجازت حاصل کی جاتی تھی،ایوان خلافت سے اس کو”یمین الدولۃ”اور”کہف الدولۃ والاسلام”کےخطابات ملےتھے،اس پراس کوبہت فخرتھا،سلطان نےگوایران وترکستان کےتمام ممالک اپنےزوربازوسے حاصل کئےتھے ،لیکن وہ اس وقت تک ان ممالک کاجائزبادشاہ نہ ہوسکاجب تک ۴۱۵؁ھ (۱۰۲۴؁ء)میں خلیفہ نےاس کےلئے فرمان جاری نہ کردیا،خودسلطان کالقب جومحمودغزنوی سے پہلےکسی دوسرےبادشاہ
نےاختیار نہیں کیاتھا،یہ بھی خلیفہ کی جانب سے اس کوعطاہواتھا ۔
غوریوں کاعہد
غزنوی سلاطین کےبعد غوریوں کادورآیاتوان کےاکثرسلاطین نےبھی دربار خلافت سےسےخطابات حاصل کئے،غوری خاندان میں سلطان شہاب الدین غوری بڑے جاہ وجبروت کابادشاہ تھا،وہ اپنےآپ کوناصرامیرالمؤمنین لکھ کرفخرمحسوس کرتاتھا ،اسی دورمیں دہلی کاقطب میناراورمسجدقطبی کی تعمیرہوئی ان پرسلطان کےنام کےکتبے انہی القاب کےساتھ لگے ہوئے ہیں۔
ہندوستان کےخودمختارسلاطین میں سلطان شمس الدین التمش کانام سب سے پہلےآتاہے،جس نےباقاعدہ ہندوستان کی مملکت کوایک مستقل سلطنت کےقالب میں ڈھال دیا،وہ ۶۰۷؁ھ (۱۲۱۰؁ء)میں تخت نشیں ہواتھا،اور۶۱۶؁ھ(۱۲۱۹؁ء)میں خلیفہ نےاس کوخلعت بھیجا،اس کےیہ معنیٰ تھےکہ ایوان خلافت نے ہندوستان کےاستقلال اورخودمختاری کوتسلیم کرلیا،یہ زمانہ خلیفہ "الناصرلدین اللہ”کاتھا،شمس الدین التمش کےسکوں پربھی اس کےنام کےساتھ”ناصرامیرالمؤمنین "کندہ ہوتاتھا،سلطانہ رضیہ،سلطان ناصرالدین محموداورسلطان علاءالدین محمدکےسکوں پران کےناموں کےپہلوبہ پہلویاتنہاخلیفہ مستنصرباللہ کانام کندہ کیاجاتاتھا۔
عہدتغلق
عہدتغلق میں محمدشاہ تغلق بھی واضح طورپراس نظریہ کاعلمبردارتھاکہ خلیفہ کی اجازت کےبغیرحکومت درست نہیں ،چنانچہ تاتاریوں نےجب بغدادمیں خلافت عباسیہ کاپیرہن تارتارکردیا،اورسالہاسال کےبعد اس کومعلوم ہواکہ بغدادکی خلافت ختم ہوچکی ہےاوراب خلیفۂ عباسی مصرمیں متمکن ہے تواس نےاپنےتمام اعیان سلطنت کےساتھ مصری خلیفہ کےہاتھ پربیعت کی،اورایک وفدعرضداشت کےساتھ خلیفہ کی خدمت میں روانہ کیا ۔
عہدخلجی
۸۳۹؁ھ(۱۴۳۶؁ء)میں سلطان محمودخلجی نےمالوہ میں اپنی مستقل سلطنت قائم کی اوراجین کےقریب منڈوکواپنادارالسلطنت قراردیااور چونتیس(۳۴)سال نہایت عدل وانصاف اور شہرت ونیک نامی کےساتھ حکومت کرکے۸۷۳؁ھ(۱۴۶۸؁ء)میں وفات پائی ،اس نے ۸۷۰؁ھ(۱۴۶۶؁ھ)میں عباسی خلیفہ مستنجدباللہ (مصر)سے خلعت شاہانہ اورفرمان سلطنت سلطان حاصل کئے،پھرخطبہ میں خلیفہ کانام پڑھاگیا ۔
ہندوستان کےعہداسلامی کےسکےاورکتبات
انگلستان کےمشہورمستشرق اڈورڈتھامس (Edward Thamas)نے۱۸۷۱؁ء میں سلاطین ہندکی تاریخ ان کےعہدکےسکوں کےنقوش وکتبات سےمرتب کی ہے،سلاطین اوربادشاہوں کےسکےفراہم کئے،ان کےکتبےپڑھے،ان کتبوں کوپڑھ کربے انتہاحیرت ہوئی ،کہ جوباتیں تاریخ کےکرم خوردہ اوراق میں بہت کم پائی جاتی ہیں،سونےچاندی کےپتروں میں کس بہتات کےساتھ موجود ہیں ،ان میں سے ہرسکہ پراورہرکتبہ پرہندوستان کےسلطان وقت کےنام کےساتھ برابرخلیفۂ زمان کانام بھی ثبت ہے،اس سے یہ ثابت ہوتاہےکہ ہندوستان کےتمام سلاطین عملاًبھی یہ اعتقادرکھتے تھے،کہ وہ بجائے خودمستقل بادشاہ نہیں ہیں ،بلکہ ان کی حیثیت اپنی مملکت میں خلیفہ کےایک نائب اورقائم مقام کی ہے۔
٭بلکہ حیرت کی بات یہ بھی ہےکہ نہ صرف سلاطین دہلی بلکہ اطراف ہندکےوہ بادشاہ بھی جودہلی کی سلطنت سےہٹ کر اپنی مستقل خودمختارحکومتیں قائم کرتے تھےوہ ہزاروں کوس دورپڑے ہوئےخلیفہ کی اطاعت سے باہر نہیں تھے،جیساکہ سلاطین گجرات ، مالوہ ومشرق وبنگالہ،بہمنیہ دکن اورجونپور کےسکّوں سے ظاہرہوتاہے۔
یہ سکےمعزالدین غوری سے لےکربہ ترتیب ابراہیم شاہ سکندرلودی تک کےہیں ،اس کےبعدتیموریہ سلطنت شروع ہوتی ہے،اورمصرمیں خلفاء عباسیہ کابھی خاتمہ قریب قریب ہوجاتاہے،اس کتاب میں ایک سوسات (۱۰۷)سکوں اورکتبوں کےنقش دئیے گئےہیں ۔
خلافت عثمانیہ کاآغاز
مصرکی خلافت عباسیہ کےخاتمہ کےبعدترکی میں خلافت عثمانیہ رونماہوئی ،سلطان سلیم نے ۹۲۳؁ھ(۱۵۱۷؁ء) میں اپنی خلافت کااعلان کیا،اس کےبعد تین برس وہ زندہ رہا، ۹۲۶؁ھ(۱۵۲۰؁ء) میں اس کابیٹاسلطان سلیمان اعظم اس کاجانشین ہوا،جس نےاپنےباپ کی مذہبی بلندحوصلگیوں کےخواب کوپوراکیا،دنیائے اسلام کےدوسرے ملکوں کی طرح ہندوستان نےبھی اس کی خلافت اورمذہبی عظمت کوتسلیم کیا،اس کااثرسب سےپہلےگجرات کےسلاطین پرپڑاجن کےعرب اوردیگرممالک اسلامیہ سے براہ راست تعلقات تھے۔
گجرات کےایک محدث عالم محمدبن عمرآصفی الفخانیؒ جن کی آمدورفت مکہ معظمہ
رہاکرتی تھی ،اورجوسلاطین گجرات کےدرباروں میں بھی معزز تھے،انہوں نےعربی میں ظفرالوالہ کےنام سے گجرات کی تاریخ لکھی ہے،اس میں انہوں نےسلطان سلیمان کاتذکرہ ان الفاظ میں کیاہے:
وکان فی وقتہ سلطان الاسلام علی الاطلاق وخلیفۃ اللہ
فی الآفاق،وھوسلیمان خان ۔
ترجمہ :اس وقت ترکی کابادشاہ اسلام کاسلطان علی الاطلاق تھا،اورتمام دنیا
میں خداکاخلیفہ تھا،اور وہ سلیمان خان تھا۔
اس سےسلاطین گجرات کےتصورخلافت کاپتہ چلتاہے۔
ہندوستان عہدخلافت عثمانی میں
دلی کےبادشاہوں نےخلافت عثمانی کی برتری تسلیم کرلی تھی ،حالانکہ خاندانی طورپرآل تیمواورآل عثمان باہم حریف کی حیثیت رکھتے تھے،لیکن انصاف بالائے طاعت است ومذہب بالائے سیاست،اس ناگواری کےباوجودشاہان تیمور اس قبلۂ اسلام کوترک نہیں کرسکتے تھے،جہاں آل عثمان کےنام کاخطبہ ہرہفتہ پڑھاجاتاتھا۔
بابرسےعالمگیرتک
۹۳۲؁ھ(۱۵۲۶؁ء) میں بابرنےہندوستان کےتخت پرقدم رکھا،اوراس شہنشاہ ہندنے
اپنےپہلےفرض کےطورپرہدایاوانعامات کےذریعہ دربارخلافت عثمانی سے اپنارابطہ استوار کیا۔
٭ ۹۳۷؁ھ(۱۵۳۱؁ھ)میں بابرنےوفات پائی اورہمایوں تخت نشیں ہوا،اس کے زمانےمیں یہ رابطہ اور مستحکم ہوا،دلی کی شکایتیں قسطنطنیہ کےدربارخلافت میں پہونچتی تھیں ، اورفیصلےجاری ہوتے تھے،سیدی علی کاسفرنامہ "مرآۃ الممالک "لاہورسےشائع ہواہے،اس سےاندازہ ہوتاہےکہ تمام اقصائےعالم میں ترکی خلیفہ کاخطبہ پڑھاجاتاتھا،اورہمایوں نے اپنے وزراء کی طرف دیکھ کرکہاتھاکہ:
"سلطان ترکی ہی بادشاہ کہلانےکےحقدارہیں ،اورسطح زمین پروہی اس
عزت کےمستحق ہیں ”
٭ہمایوں کےبعدشیرشاہ سوری(متوفی ۹۵۲؁ھم۱۵۴۵؁ء)بھی خلافت ترک کامعتقد اورمعترف رہا،اکبر،جہانگیر،شاہجہاں اورعالمگیرکےزمانوں میں بھی خلافت ترکی کی عظمت مسلسل تسلیم کی گئی ،البتہ مسجدوں میں سلاطین ترکی کےنام کاخطبہ نہیں پڑھا جاتا تھا ، لیکن عالمگیرکےبعد جب مغلیہ حکومت کازوال شروع ہوااورملک کے مختلف حصے آزاد ہونے لگے تو پھرخطبوں میں سلاطین ترکی کانام لیاجانے لگا،۱۱۷۵؁ھ (۱۷۶۲؁ء)میں دکن کےایک بزرگ سید قمرالدین اورنگ آبادی حج سےواپسی پرسیلون پہونچے تھے،میرآزاد بلگرامی سبحۃ المرجان میں لکھتے ہیں کہ:
"ساحلی مقامات میں ڈچوں کی حکومت ہے،اوراندرون ملک میں ہندوراجہ
ہے،یہاں کےمسلمان بادشاہ ہنداورسلطان روم کےنام کاخطبہ پڑھتے ہیں،
لکونہ خادماًللحرمین الشریفین ۔
٭آخری ادوارمیں حیدرعلی اورسلطان ٹیپواورنظام حیدرآبادنےبھی دربارخلافت کےساتھ اپنی عقیدت برقراررکھی ،حیدرآبادکی مکہ مسجدسے لےکرچھوٹی سےچھوٹی مسجدتک ہرجگہ حضورنظام سے پہلےسلطان ترکی کانام لیاجاتاتھا۔
یہ وہ تاریخی تسلسل ہےجس کی بناپرہندوستان ہمیشہ دربارخلافت سے وابستہ رہا، ہندوستان کےلوگوں نےہمیشہ دربارخلافت سے نیک توقعات قائم رکھیں،اس کی ہدایات پرعبادت سمجھ کرعمل کیا،مرکزخلافت پرکوئی افتادآئی تواس کےلئے تن من دھن کی بازی لگادی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: