اہم خبریں

خواتین اور جوانوں میں دینی بیداری ایک اہم ملی ضرورت /مفتی محمد سہراب ندوی

خواتین معاشرہ کا نصف حصہ ہیں، اور ہمارے نوجوان ملت کا قیمتی اثاثہ اور معاشرہ کا سب سے مضبوط ستون، ان دونوں طبقے کے اندر دینی بیداری لائے بغیر معاشرہ میں دینی بیداری اور عملی انقلاب کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ضرورت ہے کہ ترجیحی طور پر خواتین کے اندر اسلامی شعور اور دینی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، چھوٹے چھوٹے گھریلو اجتماعات اور گھروں میں کم از کم نصف گھنٹہ کا حلقہ تعلیم منعقد کر کے اس کو بآسانی کیا جا سکتا ہے، امارت شرعیہ نے اصلاح معاشرہ کی موجودہ تحریک میں اس پہلو کو خصوصیت کے ساتھ شامل کیا ہے اور ہر آبادی کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ بہر صورت خواتین کے لئے کم از کم ماہانہ دینی اجتماع ضرور منعقد کریں، مرد حضرات، جمعہ، جلسہ و اجتماع اور عید و دیگر پروگراموں میں دینی باتیں سنتے ہیں، لیکن خواتین ایسے پروگراموں میں عام طور پر شریک نہیں ہو پاتیں، جبکہ گھر کے اندر دینی ماحول قائم کرنے کے لئے خواتین کا دیندار ہونا لازمی و ضروری ہے، اسی طرح معاشرہ کے نوجوان ہی معاشرہ کے سب سے مضبوط ستون ہیں، اگر یہ طبقہ دین کے رنگ میں رنگ جائے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کا پرچم اٹھائے، تو یقیناً سماج کے ہر طبقہ پر اس کا اثر پڑے گا، اور سماج کی تصویر بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے رات سبل بیگھہ جموئی اور ۱۲ / فروری کو پپرا پگار و نگری اور بندھا میں منعقد ہونے والے دن کے اجلاس’’ پپرا پگار و نگری اور بندھا‘‘میں عوام و خواص کے ایک بڑے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے کہا، انہوں نے کہا کہ امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی ہدایت پر امارت کا یہ دعوتی وفد۱۸ / فروری سے ضلع جموئی کے دورہ پر ہے اور یہ دورہ ۲۶ / فروری تک جاری رہے گا، ان اجلاسات میں مفتی صاحب نے امارت کے نظام کی اہمیت اور اس کی خدمات نیز امارت شرعیہ کی تعلیمی تحریک پر بھی روشنی ڈالی۔قاضی شریعت ضلع جموئی مولانا نعمان اختر قاسمی، مولانا عبداللہ جاوید ثاقبی صاحب امارت شرعیہ نے اجلاس سے خطاب کیا، انہوں نے امارت شرعیہ کی خدمات اور اس کے پیغام کو عوام و خواص تک پہونچایا اور بتایا کہ زندگی کی کامیابی کا راز اسلامی طریقے پر چلنے میں ہی ہے، مولانا مزمل حسین قاسمی مبلغ امارت شرعیہ نے نظامت کے فرائض انجام دئیے اور مولانا بشیرالدین قاسمی صاحب کی تلاوت کلام پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا، مولانا ارشاد رحمانی اور مقامی علماء و خواص کی محنت اور ان کی غیر معمولی عقیدت و محبت سے یہ اجلاس کامیاب ہوا، آخر میں قائد وفد کی دعا پر اس اجلاس کا اختتام ہوا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close