مضامین

خوداپنی آنکھیں تو بند کرلیں، ہرآنکھ لیکن بھگوگیاہے

محمدامتیازعالم کشن گنجوی

٧/ڈسمبر٢٠١٨ ملکِ ہندوستان خصوصًاکشن گنج کے عوام الناس کےلیے بہت ہی افسوسناک رہاکہ ہرشخص کےدل کےعزیز، معروف عالم دین، علم وعمل کےپیکر، زہدوتقویٰ کےاعلیٰ مقام پرفائز، مظلوموں کےمددگار، حق کی آوازبےباک بیان کرنےوالی شخصیت، واعظ شیریں بیاں صاحب قلم، رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند، وممبرآف پارلیمینٹ کشن گنج حضرت مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ملک وقوم کے لیے حق کی آوازکوبلند کرتےہوۓاپنےحقیقی ربِ عالی سے جاملے اب ہرشخص اپنی آنکھوں سےآنسو پوچھتے ہوۓیہ صدالگارہاہےکہ اب کشنگنج کا کیا ہوگا؟ کشن گنج کےمظلوموں کوکون حق دلاۓگا؟ کیاانکی جگہ میں کوئی ان جیسا پیداہوگا؟ کیاانکے کمالات کسی دوسرےکےاندرپائے جائیں گے؟ ان تمام سوالات کےجوابات میں یہی کہاجاسکتاہےکہ کشن گنج کےاندراب خواہ بی جے پی کی حکومت ہو یاکانگریس کی یامجلس اتحادالمسلمین یاپھر کسی دوسری تنظیموں کی لیکن اب کشن گنج کےعوام کوایسی شخصیت کاملناناممکن نہیں تومشکل ضرور ہے اس لیے حضرت مولاناقاسمیؒ بزرگ شخصیت ہونےکےساتھ ساتھ ایک انصاف پسند کانگریسی لیڈربھی تھےمولاناؒ کی خدمات کوکبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتاہے مولاناؒبہار، بنگال، اڈیشہ، اوراترپردیش میں سوسےزائد مکاتب ومساجدکاقیام فرمایابےشماراسکولس وکالجس کی تعمیر کرائی خصوصًاکشن گنج میں ”ملی گرلس“اسکول بناۓاورعلی گڑھ یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنےطویل صبرآزماجدوجہدکی اورمکمل تحریک چلاکرکشن گنج کوتعلیمی تحفہ سےنوازا تاکہ نونہال طلبہ وطالبات اپنےکوسنوارسکیں، بےانتہاسڑک،پل تعمیر کرائے، مولاناصرف مسلمانوں کےحامی ومددگارنہیں تھے بلکہ تمام انسانیت کے حامی ومددگار تھے کہیں بھی کسی بھی وقت اگرکوٸ معاملہ درپیش ہوتاتوآپؒ فوراًحاضرہوجاتے تھے خواہوہ معاملہ مسلمانوں کاہو،یاپھر کسی اورمذاہب سے تعلق رکھنےوالوں کا، مولاناؒصرف اورصرف انسانیت کےناطےمددکرتےتھےنہ کہ مذاہب کےناطے، اس لیے مولانا مسلمان وغیرمسلمان ہرایک کے نزدیک ہردلعزیز تھے، یہی وجہ ہیکہ الیکشن کے موقع پر کشن گنج کاتقریبًاہرفردآپ کوووٹ دیتاتھااور آپ تمام امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ سےکامیاب ہوتےتھے، مولاناکواگرکسی مظلوم کی صداکانوں میں پڑتی توآپ فی الفور حاضرہوجاتےاورحق کی آوازکوبلندکرتےہوۓمظلوم کوحق دلاتےتھے خواہ وہ لوک سبھا میں ہو یاراجیہ سبھا میں یاپھرسپریم کورٹ میں آپ ہرمظلوم کوحق دلاکررہتےتھے، حضرت مولانامرحوم کبھی بھی ایم پی فنڈسےاپنےجیبوں کو بلکہ ہمیشہ دوسروں کی خالی جیبوں کوبھرتےرہے اورانصاف سےکام کرتےرہے اوربہارخصوصًاکشن گنج کوجوکہ ایک پسماندہ علاقہ شمارہوتاتھامالی اعتبارسے،تعلیمی اعتبارسے لیکن مولاناؒ نےمالی اورتعلیمی دونوں اعتبار سے آگے بڑھاتےرہےاورالحَمْدُ ِلله اس میں کامیاب بھی ہوئے۔
حضرت مولاناؒکی ساتھیوں میں حضرت مولاناابوالقاسم نعمانی مدظلہ العالی موجودہ مہتتم دارالعلوم دیوبند اور مولاناشمس تبریز سابق صدرشعبہ عربی لکھنو یونیورسٹی تھےحضرت مرحوم نےبھی فراغت کےبعد بیگوسراۓمیں قائم مدرسہ بدرالاسلام میں درس وتدریس میں مصروف رہےپھرقوم وملت کی دیگرمحتاج عوام کی طرف نظرکرتےہوۓملی وسماجی کاموں میں اپناوقت صرف کرناشروع کردیااور ہندوستان کی قدیم تنظیم ”جمعیت علماء ہند“سے وابستہ ہوۓاور ١٩٨٠/سے ١٩٩١/تک جمعیۃ علماء ہند کےجنرل سکریٹری کےعہدےپرفائزرہ کرقوم وملت کی خدمت کی،مولانامرحوم جمیعة کےترجمان ”اخبارالجمیعة“کےایڈیٹربھی رہے، مولانا مسلمانوں کی متحدہ تنظیم مسلم پرسنل لابورڈ کےتاحیات رکن رہے اور بہار کی تنظیم ”امارت شرعیہ“ سےبھی تعلق رہا اور برسوں تک اسکی شوریٰ کے رکن بھی رہے، مولانانے ملی کونسل کےذریعہ بھی قوم کی بھرپورخدمت کی پھرکچھ حالات ومسائل کےپیش نظر مولانانےاپنےمعاونین کےساتھ مل کر آل انڈیادینی وتعلیمی فاٶنڈیشن قائم کیااوراس پلیٹ فارم سے تا دم واپسیں بڑی خدمات انجام دیتے رہے، مولانامرحوم کی بیعت وخلافت کاتعلق مولاناقمرالزماں سے تھا، مولانا مرحوم ہمیشہ مادرعلمی دارالعلوم دیوبند سے الفت ومحبت رکھتےتھےاوراراکین دارالعلوم نےبھی آپ کی قدردانی کی اور چندسالوں دارالعلوم کا مولانا کو رکن شوریٰ بھی منتخب کیا گیا، حضرت مرحوم پہلی مرتبہ کانگریس کی طرف سے ٢٠٠٩/میں کشن گنج کے ایم پی چنے گئے،پھر جب ۲٠١٤ٕ/ میں ایم پی الیکشن کاوقت آیا توجہاں ملک ہندوستان کے ہر کونے میں بی جے پی لہرتھی تو وہیں کشن گنج کےاندرقاسمی لہرتھی اور جہاں کانگریس بری طرح سےہاررہی تھی تووہیں کشن گنج کےاندرکانگریس کے مایہ ناز لیڈر مولاناقاسمیؒ سب سےزیادہ دولاکھ ووٹوں سے پھرسےدوبارہ ایم پی منتخب ہوۓ اس سےآپ کی خدمات کااندازہ لگایاجاسکتاہے کہ مولانانے پانچ سال کے اندر کتنی خدمات انجام دی ہوں گی جس سےآپکو اتنے ووٹوں سےکامیابی ملی۔
مولانامرحوم کاشمار اولیااللّٰہ میں ہوتاتھامولانا جوبھی کام کرتے تھے وہ دکھلاوے کے لیےنہیں کرتےتھےبلکہ اس میں رضاۓالٰہی کا پہلو غالب رہتا، مولاناؒ ہر موڑپر دین کو مقدم رکھتے تھے اور جوبھی کام کرتے اسمیں دینی نکتہ نظر کاخاص لحاظ رکھتے تھےمولانا مرحوم کو اللّٰہ اور اسکےرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم سےبےانتہامحبت تھی آپ کی زبان سے اللّٰہ کا نام اس طور پر نکلتاجیساکہ سامعین کےدلوں میں امرت جل کابوند ٹپکاہو، حضرت مولانا مرحوم کو اپنےدین اورمذہب سے کتنی محبت تھی اسکا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جب مولاناؒ کو ٢٠٠٩/میں کشن گنج کے مشہورمیدان ”روٸ دھاسہ“میں ایم پی کا ٹکٹ دیاجارہاتھاتومولاناؒ نے فرمایاکہ اۓ لوگو مجھے ایک بار خدمت کاموقع دو،میں وعدہ کرتاہوں کہ تمہاری کامیابی کےلیے دن رات چوبیس٢٤/گھنٹوں میں سے تئیس گھنٹے تمہارے لیے وقف کردونگا لیکن وہ ایک گھنٹہ اگرتم مانگوگے تو میں نہیں دےسکتا کیونکہ میں نے وہ ایک گھنٹہ اپنے اس رب کےلیے وقف کررکھاہے جس نے مجھے اور تمام انسانوں کوپیداکیا، اس گھنٹہ کودینے کےلیے میں کسی بھی طور پر راضی نہیں ہونگا ”اللّٰہ اکبر“
قدرت خداوندی کے قانون کےمطابق حضرت مولانااسرارالحق صاحب قاسمی رحمةعلیہ کی بھی وفات ہوئی اور یہ وفات یقینًا مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَمِ کی حقیقی مصداق ہے
٧/ڈسمبر روزجمعہ کی صبح جب یہ خبرپہونچی تومجھے یقین ہی نہیں ہواکہ حضرت مولانا مرحوم کل یعنی جمعرات کے دن شام کے وقت ہمارے گاٶں کی طرف آۓ، مغرب کی نماز بھی ”مدرسہ ہاٹ پدمپور“ میں پڑھائی اور جلسہ میں تشریف لےگئے اوررات تقریبًاایک بجے تک آپ نے خطاب فرمایا تومیں نے اپنے ساتهی محمد رضا حسن متعلم عربی دوم مدرسہ زکریا مرادآباد سے فون سے بات کی تو انہوں نے بھی علیک وعلیک کےبعد یہی کہا کہ کیاآپ کوخبرپہونچی ہے کہ حضرت مولانا اسرارالحق صاحب قاسمیؒ ہمارے درمیان نہیں رہے تومجھےایسامحسوس ہواجیساہمارے اوپر جوسایہ تھا وہ ٹوٹ گیا،ہندوستان اورخصوصًاکشن گنج کاہرہرفردیتیم ہوگیا پس ایصال ثواب کے بعدسوچاکہ حضرت کے بارے میں کچھ ضرورتحریر کرناچاہیے لہٰذاچشمِ نم سےیہ مختصرًاتحریرقلم بند کیاہوں یوں توحضرت کے کمالات کو اگر لکھا جاۓ تو کتابوں کی جلدیں بن سکتی ہیں
🌹کڑے سفر کاتھامسافر، تھکاہے ایساکہ سوگیاہے 🌷
💐خود اپنی آنکھیں توبند کرلیں،ہرآنکھ لیکن بھگو گیاہے🌹
آخرمیں قارئین سے یہی درخواست ہے کہ اپنی ہردعامیں مولانامرحوم کویادرکھیں اوران کے لیے دعاۓمغفرت کرتےرہیں اوراپنی دعاٶں میں اس گنہگارکوبھی یادرکھیں کہ اللّٰہ رب العزت صحیح علم وعمل سےمالامال فرمائے۔(آمین)
🌷🌹آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے🌹🌷
💐🌹سبزہٕ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے🌷🌹

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: