مضامین

خوشگوار ازداواجی زندگی کے رہنما اصول

خالد انور مظاہری بانکوی

*بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ خوبصورت انسان ہے ، اللہ نے اس کی خوبصورتی بیان کرنے کے لئے مختلف قسمیں اٹھائیں ہیں* ، *” والتین والزیتون و طور سینین و ھذا البلد الامین ، لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم "*
*یہ تمام الفاظِ قسم و تاکید اس پر پر دال ہیں کہ انسان یقینا بہت حسین ہے ، مگر یہ بات مسلّم ہے کہ انسان اس وقت تک اکیلا اور ادھورا ہے جب تک کہ کوئی ہم سفر و ہم شریک نہ ہو ، قرآن نے اسی ہم سفر کو لباس سے تعبیر کیا ہے ،*
*جس طرح لباس کے بغیر انسان ادھورا اور ننگا ہے اسی طرح کسی ہم سفر اور شریک حیات کے بغیر انسان ناقص ہے ، اسی لئے پاکیزہ اسلام ہمیں جائز اور فطری طریقے سے اس کو اپنانے اور ان سے نکاح کی اجازت دیتا ہے ، ساتھ ساتھ ان کے ساتھ حسن سلوک کا بھی حکم دیتا ہے* ،
” *وعاشروا ھن بالمعروف "*
*(اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے انداز سے زندگی گزارو )*
*اس آیت کے ذریعہ اللہ نے خاوندوں سے بیویوں کے حق میں سفارش کی ہے کہ ان کے ساتھ اچھی معاشرت رکھو؛*
*اور اچھی معاشرت کہتے ہیں؛ در گزر کے ساتھ معاملہ کرنے کو ۔*
*(معروف؛)*
*اچھائی اور بھلائی، منکر و ناپسندیدگی کی ضد ہے ،*
*اس فرمان باری تعالی سے ہمیں اشارہ ملتا ہے کہ میاں بیوی کی زندگی میں بعض مرتبہ مصائب و مشکلات بھی آئیں گی ، آپس میں خلفشار بھی ہوگا ، آپس میں نوک جھونک اور کھیچا تانی بھی کوئی بڑی بات نہیں ؛* *یہ تمام حالات پیش آسکتے ہیں اور آئیں گے ، مگر انہیں حالات کے وقت اپنے آپ کو سمبھالنا ہے اور "عاشروا ھن بالمعروف” پر آپنے آپ کو لے آنا ہے ،*
*میاں بیوی کا رشتہ انتہائی لچک دار اور بہت نازک ہوتا ہے ،*
*ہر شریک اپنے شریک سے سکون و اطمنان ، اعتماد ، اور یقینِ کامل چاہتا ہے ،*
*اس رشتہ میں سب سے بڑا دخل قوتِ برداشت اور ایک دوسرے پر اعتماد و بھروسہ کا ہے ، اگر ایک مرتبہ اعتماد ختم ہو جائے تو دوبارہ اس کو بحال کرنا آسان نہیں ہوتا ۔*
*ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور پر اعتماد کیسے بنائیں ؟ اس کے لئے چند قیمتی و مفید اصول مندرجہ ذیل ہیں :*
*1__میاں بیوی ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھیں ،اور غصے و محبت ہر وقت اپنے ہم سفر کے ساتھ ان کے مزاج کے مطابق برتاؤ کریں! اس سے محبت میں نکھار پیدا ہوگا ۔*
*2__ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ شریکین ایک دوسرے کے عیوب کی مکمل پردہ پوشی کریں ، ایک دوسرے کے عیوب و غلطیوں کو نظر انداز کرکے ان کی خوبیوں و اچھائیوں پر نگاہ رکھیں ، کیونکہ اچھائیاں اور برائیاں ہر انسان کے اندر ہوتی ہیں بس دیکھنے والے کی نظریں مختلف ہوتی ہیں ، ہر ایک اپنے اپنے انداز سے دیکھتا ہے اگر ہم صرف برائیوں پر ہی نظر رکھیں گے تو اچھا انسان ہمیں زندگی بھر نہ ملے گا ،*
*چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو جھگڑوں کے وقت بیان کرکے گڑے مردے اکھاڑنے کا کام نہ کریں ، ان چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیں ، لڑائی جھگڑے اور غصے کے وقت اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں ،* *غصے میں آپے سے باہر نہ ہوں ،*
*یاد رکھیں غصہ انتہائی خطرناک اور نقصاندہ چیز ہے ، اس کی انتہاء شرمندگی ذلت و رسوائی ہے ، غصہ غصہ کی حد تک رہے تو بجا ہے ، غصہ میں آپے سے باہر ہوکر اول فول بکنے والا ہمیشہ شرمندگی ، ذلت و رسوائی کا سامنا کرتا ہے ،*
*ذرا ذرا سی بات کو انا کا مسئلہ بنا لینا حد سے زیادہ غصہ میں مارپیٹ ، یا بیوی کو دوسری شادی کرنے یا طلاق کی دھمکی ؛ اسی طرح غصے میں خاوند کو بیجا کوسنا طعنہ دینا یا ایک دوسرے کے خاندان اور ان کے گھر والوں کو برا بھلا کہنا وغیرہ یہ سب انتہائی درجے کی حماقت کی بات ہے ،* *اس لئے جب غصہ حد سے زیادہ آنے لگے اور بات کہیں سے کہیں پہنچنے لگے تو شریکین کو چاہئیے کہ ان پر بریک لگانے کے لئے باتوں کے رخ کو دوسری طرف پھیرنے کی کوشش کی کریں ،اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظر انداز ؛چشم پوشی اور معافی و درگزر سے کام لینا چاہئیے _*

*3__ تیسرا اہم اصول یہ ہے کہ آپس میں بد گمانی سے بچیں ، بعض مرتبہ بدگمانیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں اور بات کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہیں ، حقیقت معلوم ہونے کے بعد پھر شرمندگی ہوتی ہے ،*
*کسی بھی بات کی تحقیق کا مزاج بنائیں اس رشتے کو اتنا کمزور نہ سمجھیں کہ جیسے کوئی ملنے والا آیا اور سلام کلام کے بعد رخصت ہوگیا ؛ نہیں یہ رشتہ تو زندگی بھر کا رشتہ ہے بلکہ جنت میں بھی قائم رہنے والا رشتہ ہے اس لئے اس رشتہ کو بد گمانی سے بچائیں ، بعض مرتبہ بدگمانیاں خود بخود پیدا ہوجاتی ہیں ، مثلاً*: *شوہر آفس بن سنور کر جائے یا آفس سے دیر سے لوٹے تو خواہ مخواہ بد گمانی نہ ہو کہ میاں کسی اور کے چکر میں ہیں ، اسی طرح بیوی کبھی کسی کی بات پر خوش ہو کر مسکرا دے یا بے ساختہ* *مسکراہٹ ہونٹوں پر آجائے ، یا فون پر کسی سے ہلکی پھلکی ہنسی مذاق ہوجائے ؛ تو جب تک تحقیق نہ کرلی جائے خواہ مخواہ بد گمان نہ ہوں !*

*4__ اسی طرح ایک دوسرے کے ٹوہ میں نہ پڑیں اس سے رشتوں میں دراڑ پیدا ہوتا ہے ، ٹوہ کا مزاج بنا لینا آپس میں بھروسہ کو ختم کرتا ہے ، اور نفرت کو بڑھاتا ہے ، قرآن میں ایک دوسرے پر بد گمانی اور ٹوہ سے منع فرمایا ہے ۔*

*5__ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کا اظہار بھی کرتے رہیں ، بعض مرتبہ دل میں محبت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے مگر بروقت اس کا اظہار نہیں ہو پاتا ، اور سامنے والے کو کما حقہ خوشی نہیں مل پاتی ،*
*یاد رکھیں! محبت میں گرم جوشی کا اظہار اور ٹوٹ کر ایک دوسرے کو چاہنا، اور اس عمل پر تکرار و مداومت ، زن و شو کے تعلقات و محبت میں چار چاند لگاتا ہے ۔*

*6__اسی طرح ایک دوسرے کی خوشی کا خیال رکھیں خاص طور پر ایسے مواقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں جن سے شریکین کو خوشی ملتی ہوں ، باہم خوشی کے مواقع سے روشناس رہیں اور ایسا کام یا ایسی باتیں وقفے وقفے سے ضرور کریں کہ دوسرے کو غیر متوقع خوشی حاصل ہو ،یاد رکھیں بیوی کو خوش رکھنا بھی باعث اجر و ثواب ہے ۔*
*7__ایک دوسرے کی دل آزاری کا سبب نہ بنیں ، ایسے کام یا ایسی باتیں جو ایک دوسرے کے دل آزاری کا سبب ہوں ان سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں ۔*
*8__ بعض مرتبہ میاں بیوی کی زندگی میں کوئی تیسرا دخل اندازی کی کوشش کرتا ہے ،*
*اس لئے ایسا ہرگز نہ ہونے دیں ،*
*اس نازک رشتے میں کسی تیسرے کی دخل اندازی کا دروازہ ہمیشہ بند رکھیں ،*
*ضروری نہیں کہ یہ تیسرا کوئی اجنبی، حاسد، یا جلنے والا ہی ہو بلکہ دخل انداز بعض مرتبہ پاس پڑوس رشتہ دار اور اہل خانہ بھی ہو سکتے ہیں ، نیک پاکدامن حاجی نمازی بھی ؛* *یہاں تک کہ والدین بھائی بہن اعز و اقرباء بھی بعض مرتبہ دخیل ہو سکتے ہیں ، اس لئے میاں بیوی اس دخیل کو پہچانیں اور اپنی نجی زندگی میں ان کو شامل نہ ہونے دیں ۔*

*9__جب باہر سے گھر آئیں تو چہرہ ہشاش بشاش رکھیں ، اس کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیں ، اس کا نجی زندگی پر ایک خاص اثر پڑتا ہے ، اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے ، اور بیوی کو چاہئیے کہ شوہر باہر سے آئے تو خوشی خوشی ان کا استقبال کرے ، اور محبت بھری باتیں کرے ، اور پریشانی کے آثار یا سفر کے تھکان سے چہرہ پریشان کن ہو تو اپنی محبت والی اداؤں سے ان کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کرے ۔*
*10__بیوی کے اچھے کاموں کی تعریف کرے ، اس سے محبت میں اضافہ ہوگا ، کیونکہ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کوئی اچھا کام کرے تو وہ چاہتا ہے کہ میری تعریف ہو ، اگر غلطی پر تنقید کرنے سے نہیں چوکتے تو ایک دوسرے کی تعریف کرنے سے کیوں چونکیں ؟*
*نیز بسا اوقات ان کو ہدیہ تحائف بھی دیا کرے ، یاد رکھیں بیوی کو بغیر مانگے اگر اپنی محبت سے معمولی چیز بھی دی جائے تو وہ اس کو بہت بڑی نعمت سمجھتی ہے ، خاوند کا دیا ہوا تحفہ بیوی کو یاد رہتا ہے ، اور ایک دوسرے کو تحفہ و ہدیہ دینا نبی کی سنت بھی ہے ۔*
*یہ چند اصول ہیں اگر ان کو اپنی نجی زندگی میں اپنانے کی کوشش کی جائے تو ان شاء اللہ ازدواجی زندگی بڑی خوشگوار گزرے گی اور میاں بیوی کو ایک دوسرے سے حقیقی پیار ملے گا ، دنیا جنت جیسی بن جائے گی ۔*
_________________________*مضمون نگار:*
*( قاضی و مفتی )*
*خالد انور مظاہری بانکوی*
*خادم دار العلوم محمدیہ دیسڑا بانکا بہار*

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: