مضامین

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

امریکی دانشور اور سیاسی رضاکار ایلی ویزا نے حق بیانی کی مثال قائم کرتے ہوئے بڑے پتے کی بات کہی ہے "ظلم و ستم کے بیچ جانبداری ظالم کی طرفداری کے مترادف ہے اور خاموشی جابر کے ہی ہاتھ مضبوط کرتی ہے۔ جہاں بھی مرد وخواتین نسل، مذہب یا سیاسی آرزوؤں کی پاداش میں ستائے جائیں وہ کائنات کا مرکز ہونا چاہیے” عالم اسلام کی بے حسی پہ کیا کہا جائے کہ القدس کی سرزمین پر ظلم و ستم کی داستان برسوں سے لکھی جا رہی ہے اور اب ظلم و ستم آخری حدوں کو چھو رہا ہے لیکن اب تک عالم اسلام کی طرف سے کو ئی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اور نہ ہی صحیح طریقے سے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے پوری دنیا میں مسلمان اس ظلم کےخلاف ریلیاں نکال رہے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ سے اپیل کی جا رہی ہے پوری دنیاپر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے مگر نہ ظالم کا ہاتھ رکتا ہے اور نہ ہی ظلم حوصلہ ہارتا ہے اور صورتحال یہ ہے کہ فلسطینی مسلمان نان شبینہ کے لئے ترس رہے ہیں. اور مسلم ممالک اپنی آنکھیں بند کئے رقص و سرود میں مگن ہیں۔ انکی زبانیں گنگ ہیں اور مصلحتوں کے لبادھے اوڑھے ظالم کے ہم قدم ہیں۔
اے مسلمانوں ہوش کے ناخن لو اس سے پہلے کہ کفر تم پر یوں چھا جائے کہ تمہیں راستہ نہ ملے۔ 1948 کے بعد سے ہی غاصب اسرائیلیوں نے فلسطین کی سرزمین پر ظلم و بر بریت کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اسکی کہیں نظیر نہیں ملتی. اسرائیلی فوج گھروں میں گھس کر جوانوں ، عورتوں ، بوڑھوں اور بچوں کو بلا تمیز قتل کردیتی ہے یا پکڑ کر اپنی بدنام زمانہ جیل میں ڈال دیتی ہے ۔فحش گالیوں اور تھپڑوں سے ظلم کا آغاز ہوتا ہے پھر ہتھیاروں اور مختلف قسم کے حربوں سے وحشیانہ تشدد کیاجاتا ہے۔ عورتوں کی آبروریزی سر عام کی جاتی ہے ۔مقدس چیزوں، جیسے قرآن پاک وغیرہ کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور احتجاج کرنیوالوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا جاتاہے۔ جامعات کو مسلسل تباہ کیا جا رہا ہے آخر مسلمانوں کا جرم کیا ہے بس یہی نا کہ ہٹلر کے ستاۓ ہوئے مٹھی بھر یہودیوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دے کر زندگی کی خیرات دے دیا تھا بس اسی رواداری اور انسانیت نوازی کی سزا وہاں کے مسلمان بھگت رہے ہیں اورانسانی حقوق کے دعوے دار خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ مسلمان بہنیں لٹ رہی ہیں ، معصوم بچے پیروں تل کچلے جا رہے ہیں ،مائیں سر عام تشدد کا شکار ہو رہی ہیں۔ نوجوانوں کے جسموں کے ٹکڑے کئے جا رہے ہیں مسلمان بارود وبم کے ڈھیر میں دفن کئے جارہے ہیں فلسطینیوں پر غیر انسانی روح فرسا مناظر سے پوری دنیا دہل رہی ہے ۔ چیخ و پکار سے فضائیں بین کر رہی ہیں مگر عالم اسلام کے شہزادوں اورانصاف کے دعوے داروں کے ایوان نہیں لرزتے۔امت مسلمہ کے بعض شاہوں کے حالات یہ ہیں کہ تلواروں کے سائے تلے رقص کر رہے ہیں اور مسلمانوں پر مظالم توڑنے والوں کو اربوں روپے امدادفراہم کر رہے ہیں مگر اپنے بھائیوں کیلئے ایسی آواز بلند نہیں کرتے جو کفر و باطل کے کلیساﺅں کو ہلا کر رکھ دے۔
آج فلسطینی عوام کو دنیا کے ہر مسلمان کی مدد کی ضرورت ہے۔ غزہ پٹی کے ایک اسپتال میں دو سال کے ایک معصوم بچے کو دیکھا گیاجو یہودی اسرائیلی فوج کے مزائیل کا شکار ہوا تھا۔ اس معصوم نے کہا: میں اللہ کو جاکر سب بتاؤ گا اس معصوم نے دم توڑدیا وہ شہید ہوگیا۔ مگر کچھ سوالات چھوڑ گیا۔ کیا عالم عرب کی ذمہ داری نہیں جو اس جارحیت کے خلاف فلسطین کا ساتھ دیتے ؟ کیا دنیا کے White Collor ممالک کا کام نہیں جو نا جائز اسرائیل کا ساتھ دیتے ہے ؟ کیا وہ نام نہاد تنظیمیں جو دہشت گردی کو اسلام سے جورتی ہیں انہیں اسرائیل کی دہشت گردی نظر نہیں آتی۔؟ وہ حکومتیں جو اسرائیل کو اپنا دوست کہتی ہے۔ اور فلسطین سے دوری بنائے ہوئے ہے کیا انھیں یہ سب نظرنہیں آتا؟ مسئلہ فلسطین کو حل کرنا بہت ضروری ہے، فلسطینی مسلمانوں کے حقوق کو بحال کرنا دنیا کی ذمہ داری ہے۔
میں آخر میں فلسطین کی عوام کو سلام پیش کرتا ہوں کہ اے میری قوم کے غیور جیالو آپ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ایک وقت آئے گا ہمارے ساتھ اللہ رب العزت کی مدد شامل حال ہوگی اس دن ہم اپنے اوپر کئے گئے ہر ظلم کا بدلہ لیں گے۔ یہودونصاریٰ جہاں بھی چھپے رہیں گے انھیں وہاں سے کھدیڑا جائے گا۔ انھیں نست و نابود کیا جائے گا۔ مسجد اقصیٰ کی حفاظت ہوگی۔ انشا ء اللہ فلسطینی مسلمانوں کی قربانی کا بدلہ اللہ رب العزت ضرور عطا فرمائے گا۔ بیت المقدس پھر ایک بار اسلامی شاہراہ کا مرکز بنے گا۔ ناعاقبت اندیش ظالم یہ نہیں جانتے کہ ظلم کی تاریخ میں تاتاریوں کے مظالم اور پھر ان کی تباہی کی داستان بھی رقم ہے ظلم جب اپنی حدوں سے تجاوز کرجاتا ہے پانی جب سر سے اونچاہو جاتا ہے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ظالموں کو اس طرح نیست ونابود کردیتا ہے جیسے ان کا وجود صفحہ ہستی پر رہا ہی نہ ہو۔
‪‬ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: