مضامین

دائرہ حربیہ کا اختتام: جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی قسط نمبر(31)

محمد یاسین جہازی

بارھویں ڈکٹیٹر کے بعد19،20،21اگست 1933کو مرادآباد میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس ہوا، جس میں سول نافرمانی کی تحریک کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے، دائرہ حربیہ یا مجلس حربی کے اس نظام کو بند کردیا گیا۔اور حسب سابق جمعیت علمائے ہند کے صدر وسکریٹری کے عہدوں کو بحال کیاگیا۔ فیصلہ کا متن درج ذیل ہے:
تجویز نمبر 3: جمعیت عاملہ کا یہ جلسہ مولانا عبد الحق صاحب ڈکٹیٹر دوا زدہم جمعیت علمائے ہند کے اس بیان کی جو انھوں نے28/ اپریل1933ء مطابق 5/ محرم1352ھ کو جامع مسجد دہلی کے عظیم الشان جلسہ میں دیا تھا،تصدیق کرتا ہے۔ اور مقتضیات ِاحوال و قومی ضروریات پر کامل غور و خوض کرنے کے بعد سول نا فرمانی کے اس پر و گرام کو جو حضرت صدر محترم نے اپنے اختیار خصوصی سے جاری فرمایا تھا، ملتوی کرتے ہوئے اس امر کی تصریح کرتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند کا سیاسی مسلک تحصیل آزادی و استخلاص وطن کے متعلق آج بھی وہی ہے، جس پر وہ تیرہ سال سے گامزن ہے۔
اور اپنے اس اذعان و یقین کا اعلان کرتا ہے کہ جمعیت کو انگریزی حکومت کی طرف سے ہرگز یہ توقع نہیں ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے ان مستحکم وعدوں کو، جو اس نے مختلف مواقع میں ہندستانیوں سے کیے تھے، پورا کرے گی۔ اور ایسا موقع بہم پہنچائے گی کہ وہ اپنے فطری حقوق آزادی سے متمتع ہوسکیں۔ جیسا کہ وائٹ پیپر اور اس کے بعد پار لمینٹری کمیٹی کے رویّہ سے صاف ظاہر ہے۔
نیز حکومت کے موجودہ جابرانہ رویہ اور ہندستانی محبان وطن کی طرف سے انتہائی شریفانہ سعی مصا لحت کے باوجود حکومت کی رعونت و نخوت اور طا لبان آزادی کو کچلنے اورتباہ و بر باد کرنے کی پالیسی نے اگر چہ سر دست ہندستانیوں کے عملی جوارح کو شل کردیا ہو؛ مگر ان کے قلوب کو اس اذ عان و یقین سے لبریز کر دیا ہے کہ آزادی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہر قسم کے مصائب و شدائد کا تحمل اور مخلصانہ سر فروشی و قر بانی ہے۔
مجلس عاملہ کا یہ جلسہ آئندہ کے لیے عملی پرو گرام مرتب کرنے کی غرض سے حسب ذیل حضرات کی سب کمیٹی مقرر کرتا ہے اور اس کو اجازت دیتا ہے کہ جو پر وگرام اتفاق رائے سے مرتب ہواسے شائع کردے:
(۱) حضرت صدر محترم (۲)ناظم جمعیت علمائے ہند(۳)حضرت مولانا حسین احمد صاحب(۴) حضرت مولانا ابو لمحاسن محمد سجاد صاحب۔
پورے دودن کے بحث و مبا حثہ کے بعد بالا تفاق پاس ہوئی۔“ (جمعیت العلما کیا ہے، جلد دوم، ص/177)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: