مضامین

دائرہ حربیہ 1933میں : جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی، قسط نمبر (26)

محمد یاسین جہازی

دسویں ڈکٹیٹر کی گرفتاری
جمعیت علمائے ہند کے دسویں ڈکٹیٹر حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کو 30ستمبر1932کو دریبہ کلاں دہلی سے ایک جلوس کی قیادت کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔ اور مقدمہ چلایا گیا۔
مقدمہ
”دہلی، یکم جنوری 1933۔ آج حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب ڈکٹیٹر دہم جمعیت علمائے ہند اور مولانا عبید اللہ صاحب و مولانا فضل الرحمان صاحب کارکنان جمعیت علمائے ہند کا مقدمہ ڈسٹرکٹ جیل دہلی میں مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوا۔
بغیر کسی کارروائی کے مقدمہ کو 4جنوری کے لیے ملتوی کردیا گیا۔“ (الجمعیۃ یکم جنوری 1933)
”دہلی 17جنوری۔ کل (16جنوری) مسٹر ایس ایم رشید مجسٹریٹ کی عدالت و کمرہ جیل میں جمعیت علمائے ہند کے دسویں ڈکٹیٹر مولانا عبد اللہ اور جمعیت علمائے ہند کے دو کارکنوں کا مقدمہ پیش ہوا۔ مذکورہ بالا کارکنوں کو 30ستمبر1932کو آر ڈی نینس ڈے کے سلسلہ میں ایک جلوس کی رہنمائی کرتے ہوئے دریبہ کلاں میں گرفتار کیا گیا تھا۔ نیز ان کا چالان زیر دفعہ151 تعزیرات ہند کیا گیا تھا۔
رائے بہادر ملک دیو دیال نے بیان کیا کہ جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام چاند کے ہر ماہ کے پہلے ہفتہ میں جلسہ کیا جاتا ہے، اسی سلسلہ میں 30دسمبر کو تقریبا ساڑھے تین بجے جامع مسجد سے جلوس نکالا گیا تھا۔ مولانا عبد اللہ بٹالوی اس جلوس کی رہنمائی کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں ایک سبز جھنڈا تھا۔ دیگر دو ملزمان نے ایک موٹو ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا، جس پر موٹے الفاظ میں لکھا تھا کہ”آر ڈی نینسوں کی حکومت کو تباہ کردینا انسانی شرافت ہے“۔ اس کے علاوہ جلوس انقلابی نعرے لگارہا تھا، جس کی وجہ سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوجانے کا اندیشہ تھا۔ چنانچہ دریبہ کلاں میں اس جلوس کو روک لیا گیا۔ مجمع کو خلاف قانون قرار دے کر پانچ منٹ کے عرصہ میں منتشر ہونے کا حکم دیا گیا۔ ملزمان کے منتشر نہ ہونے پر پانچ منٹ کے بعد ان کو گرفتار کرلیا گیا۔
مولانا عبد اللہ نے دریافت کیا: آیا 30دسمبر کو آر ڈی نینس کی میعاد ختم نہیں ہوچکی تھی؟
رائے بہادر ملک دیو دیال نے جواب دیا: مجھے اس بات کا علم نہیں۔
عدالت نے مولانا عبد اللہ ڈکٹیٹر دہم جمعیت علمائے ہند کو 3ماہ اور مولانا فضل الرحمان و مولوی عبید اللہ کو دو ماہ قید بامشقت کی سزا کا حکم سنایا۔ مولانا عبد اللہ کی حیثیت کے متعلق پولیس سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور مولوی عبید اللہ کو سی کلاس دی گئی ہے۔“ (الجمعیۃ20جنوری 1933)
سی کلاس پر احتجاج
”دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور بٹالہ کے مشہور و معروف عالم باکمال حضرت مولانا محمد عبد اللہ بٹالوی کو جن سے ہندستان کے اہل علم حضرات عموما اور پنجاب کے علما خصوصا اچھی طرح واقف ہیں، جمعیت علمائے ہند کے دسویں ڈکٹیٹر کی حیثیت سے چھ ماہ کی قید کی سزا دی گئی تھی اور وہ پچھلے دنوں دہلی کی ڈسٹرکٹ جیل ہی میں محبوس تھے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ موصوف کو دہلی ڈسٹرکٹ جیل سے منتقل کرکے ملتان بھیج دیا گیا ہے۔ اور اس نقل مکان کے ساتھ ساتھ غالبا لوکل گورنمنٹ کی منشا اور حکم کے مطابق ان کی بی کلاس کو بھی بدل کر سی کلاس کردیا گیا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے اور حقیقیت یہی ہے کہ اس قسم کے احکام جاری کیے گئے ہیں تو ان سے زیادہ افسوس ناک اور غلط احکام اور نہیں ہوسکتے۔ کلاسوں کی تعیین و تشخیص میں یہاں کی حکومت سے پہلے بھی بہت سی صریح غلطیاں ہوچکی ہیں اور یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ اور اذیت رساں بات اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ ان کے مسلمہ علما کو جنھیں وہ انتہائی عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں، سی کلاس میں رکھ کر معمولی قیدیوں کی طرح سلوک کیا جائے اور ان کی پبلک پوزیشن اور ذاتی حیثیت کا کوئی لحاظ نہ رکھا جائے۔ اگرچہ ہم یہ جانتے ہیں کہ حضرت مولانا عبد اللہ بٹالوی نے جو کچھ کیا ہے، وہ سوچ سمجھ کر کیا ہے اور وہ یقینا اس کی پاداش کے لیے تیار ہوں گے اور اگر انھیں سی کلاس سے بھی کم کوئی کوکلاس دے دیا جائے گا، تو وہ چون و چرا نہ کریں گے؛ مگر یہ معاملہ مقامی حکومت کے غور کرنے کا ہے کہ وہ جو کچھ سلوک کر رہی ہے وہ اہل علم کے لیے کہاں تک درست و مناسب ہے اور اس سے خود اس کے خلاف کس قسم کے جذبات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ اگر حکومت نے اس فیصلہ پر دوبارہ غور کیا، تو وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گی کہ جمعیت کے دوسرے ڈکٹیٹروں کی طرح مولانا محمد عبد اللہ بٹالوی کو بھی کم سے کم بی کلاس میں رکھا جائے۔“ (الجمعیۃ 20فروری1933)
ڈکٹیٹر دہم کی رہائی
آپ کو 18اپریل 1933کو ملتان جیل سے رہائی ملی۔
”دہلی،18اپریل۔ حضرت مولانا عبد اللہ صاحب بٹالوی ڈکٹیٹر دہم جمعیت علمائے ہند اپنی سزا کی میعاد پوری کرکے ملتان جیل سے رہا ہوگئے۔ موصوف کو آر ڈی نینس کے خلاف مظاہرہ کرنے والے جلوس کی قیادت کرنے کے الزام میں تین ماہ قید سخت کی سزا دی گئی تھی۔“ (الجمعیۃ20اپریل1933)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: