اہم خبریں

دارالتعلیم والتربیہ کا جلسہ دستار بندی بموقع تکمیل ِ حفظ ِ قران کریم

دارالتعلیم والتربیہ کا جلسہ دستار بندی بموقع تکمیل ِ حفظ ِ قران کریم ٹولی چوکی حیدرآباد تلنگانہ

10فروری ( مقامی نیوز، حیدرآباد)
آج 10 بجے صبح تا شام 3 بجے مدرسہ دارالتعلیم والتربیہ گرامر کالونی ، ٹولی چوکی کا ایک عظیم الشان جلسہ دستار بندی بموقع تکمیل ِ حفظ ِقرآن کریم بمقام گولڈن پیلس سات گنبد روڈ منعقد ہوا ، جس کی صدارت دارالعلوم دیوبند سے تشریف لائے مہمان خصوصی حضرت مولانا منیر الدین احمد صاحب عثمانی ،نقشبندی استادِ حدیث دارالعلوم دیوبند و خلیفہ مجاز حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ فرمارہے تھے۔مہمان خصوصی کے طور پر مولانا و مفتی تبریز صاحب قاسمی ،مولانا و مفتی حفظ الرحمان صاحب قاسمی، مولانا شمس تبریز صاحب مظاہری، مولانا و مفتی اسماعیل صاحب قاسمی و دیگر قابل قدر علمائے کرام اسٹیج پر موجود تھے۔مو لانا و مفتی تبریز صاحب قاسمی نے اپنی تقریر میں کہا کہ قرآن سب کے لئے رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے قرآن ہی کی تعلیم سے دونوں جہاں میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں اسی کی تعلیم کی دوری کی وجہ سے ہر طرف مایوسی و نا امیدی اور دین اسلام کی تعلیم سے بے رغبتی و بے توجہی ہے حامل القرآن طلبہ کے لئے یہ عظیم تاج الوقار ہے کہ انہوں نے حفظ کلام پاک کر کے اپنا مقدر سنوارے اور انہوں نے کہا کہ جو قرآنِ پاک کی قدر کرے گا اور اس کے مطابق زندگی بسر کرے گا اس کو دونوں جہاں میں کامیابی ملے گی۔
صدر محترم مولانا منیر الدین صاحب عثمانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ تعلیم کی اہمیت شاید مسلمانوں کو بتانے کی ضرورت نہیں ، جس کی مذہبی کتاب قرآن کریم کی شروعات ہی’’ اِقْرَاْ بِا سْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق‘‘ سے ہوئی۔ قر آن کریم کی با اعتبار نزول سب سے پہلی آیت کریمہ یہی ہے اور سب سے پہلی نعمت بھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اور اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جوارحم الر احمین نے اپنے رحم وکرم سے ہمیں دی۔ تعلیم کی اہمیت و فر ضیت کا اندازہ سورہ الر حمن کی ابتدا ئی آیات سے آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ سورہ کا آغاز’’الرحمٰن‘‘ سے کیا گیا۔ معاً بعد اپنی بے شمار نعمتوں اور نواز شوں کا ذکر کیا گیا۔ ان میں سب سے پہلی نعمت’’علم القر آن‘‘ یعنی تعلیم قرآن کو کہا۔ پھر انسان کی تخلیق وپیدائش کے ذکر کے بعد تعلیم القرآن کا دور آتا ہے۔تعلیم کے بغیر انسان کی تخلیق بے معنیٰ وبے مقصد ہے۔ رب العالمین نے غار حرا کے تا ریک گو شوں میں سب سے پہلے علم کا درس دیا۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے جب علم کا درس حضرت جبریل امین سے حاصل کرلیا اور وحی الٰہی سے ربط ہو گیا تو فرائض اور امر با المعر وف ونہی عن المنکرو احیائے شریعت کی دعوت دینا شروع فر مایا۔ اور اسٹیج پر موجود تمام علماء کے دست مبارک سے حفظ کی تکمیل کرنے والے تمام 4 خوش نصیب طلبہ حافظ محمد معاذ، حافظ محمد عمر، حافظ محمد شاہد اور حافظ محمد ساجد کی دستار بندی کی گئی۔ اس موقع سے مدرسے کے اساتذہ کرام کا خصوصی ذکر کیا گیا کہ انہوں نے طلبہ پر بے انتہا محنت کی ہے ۔ آخر میں مدرسہ ہذا کے موقر استاد و شاعر اسلام جناب راشد القمر صاحب نے اپنے نعتیہ کلام سے محفل کو زینت بخشا ، جس میں ان کا یہ شعر قابل ذکر ہے ۔
خم شام و سحر جس میں فرشتوں کی جبیں ہے
وہ شہر محمد ہے کہ فردوس بریں ہے۔
افلاک کے خیموں سے بھی افضل یہ زمیں ہے
کعبہ بھی یہیں گنبد خضریٰ بھی یہیں ہے۔
مدرسہ کے مہتمم مولانا تبریز صاحب قاسمی نے خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے تمام مہمانان کرام کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا اور مدرسہ کا تعلیمی ترقی اور مستقبل کا خاکہ پیش کیا ۔ صدر محترم کی دعا پر اس جلسہ کا اختتام ہوا۔

Tags

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close