اہم خبریں

دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور میں حضرت مولانا عبدالمنان سیتا مڑھی،مفتی خالد و دیگر علما کا خطاب

سنتوشپور: قرآن کریم ایک ابدی کتاب ہے اور اسے اپنے سینے میں محفوظ کرنے والے طلبا خدا کے محبوب و مقرب بندے ہیں ـ اللہ تعالی جن لوگوں کو پسند کرتا ہے انہی لوگوں کو قرآن کا علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہےـ ان خیالات کا اظہار دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور کولکاتا میں منعقدہ ایک تعلیمی و اصلاحی پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی سیتامڑھی کے ناظم حضرت مولانا عبدالمنان نے کیاـ انھوں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ طلبۂ کرام کے لیے حصولِ علم کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے اور جب طالب علم اپنے علم پر عمل کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے نامعلوم چیزوں کا علم عطا کرتے ہیں ـ مولانا نے دوران خطاب طلبہ پر آساتذہ، کتابوں، مدرسہ اور اس کے ذمے داران کے ادب و احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علم کے راستے میں ادب سب سے ضروری چیز ہےـ مولانا نے دارالعلوم اسراریہ کے تعلیمی و تربیتی نظام کی خاص طور پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شہر سے دور ایک پسماندہ علاقے میں حفظ قرآن کا ایسا معیاری ادارہ دیکھ کر مجھے دلی خوشی ہوئی ہےـ آل انڈیاعلما بورڈ کے اعلی سطحی وفد نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی اور مدرسہ کی تعلیمی و تربیتی کارکردگی پر دلی خوشی کا اظہار کیاـ ممبئی سے تشریف بورڈ کے جنرل سکریٹری علامہ بنئی نعیم حسنی نے مدرسہ کے ذمے داران و آساتذہ کو مبارکباد پیش کی کہ انھوں نے تجوید اور قواعد کی مکمل رعایت کے ساتھ قرآن کریم کا مظبوط نظام قائم کرکے ایک قابل تحسین کارنامہ انجام دیا ہےـ علامہ نے مزیدکہا کہ گیارہ سے تیرہ سال کی عمر کے بچوں کے قرآن حفظ کرنے اور ان کی یادداشت سے متاثر ہوا کہ محض گیارہ سال کے قلیل عرصے میں اس مدرسے نے دو سو بارہ بچوں کو حافظ بنایا ہے جو ایک بڑا کارنامہ ہے اور اس مدرسے پر بزرگوں کے اثرات کا نتیجہ ہےـ خصوصااس کے بانی مولانا اسرارالحق قاسمی کے اخلاص کو بتاتے ہوئے یہ کہا کہ ان کی وفات کے بعد قرآن کے ماہر گجرات ترکیسر دارالعلوم کے شیخ القراء حضرت قاری و مقری صدیق سانسروردی کی سرپرستی میں یہ مدرسہ مزید آگے بڑھ رہا ہے اور اب 4 اپریل کو 27بچوں کی دستار بندی ہونے والی ہے جو ایک بڑی کامیابی ہےـ علما بورڈ کے صدر مفتی خالد اعظم حیدری نے مدرسہ کے تعلیمی و تربیتی نظام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں تعلیم کے ساتھ بزرگوں کے نقش قدم پر خصوصا حضرت مولانا اسرارالحق کے بتائے ہوئے گائڈلائن کے مطابق بچوں کو فرائض، واجبات، سنن ومستحبات کی عملی مشق کروائی جاتی ہے، یہاں کے آساتذہ مستعد اور باصلاحیت ہیں اور گجرات کے تعلیم یافتہ ہیں جو کہ نہایت خوش آیند بات ہے ـ اس موقعے پر انھوں نے بچوں سے قواعد و مخارج اور یاد داشت کے حوالے سے مختلف سوالات بھی کیے جن کا جواب طلبہ نے مکمل اعتماد اور تفصیل کے ساتھ دیا جس پر انھوں نے مسرت کا اظہار کیاـ اس وفد میں ان کے علاوہ بادشاہ خان،مولاناعزیراصلاحی،مٹیابرج
کے حاجی غیاث احمد،حافظ دانش،حافظ سعید،اور جناب اعظم ودیگر حضرات موجود تھےـ مدرسے کے مہتمم مولانا نوشیر احمد نے اس موقع پر تمام معزز مہمانوں کا استقبال کیا اور مدرسے کی تعلیمی و تربیتی کارکردگی کی مختصر تفصیل بھی پیش کی ـ پروگرام میں مدرسے کے تمام طلبہ و آساتذہ کے علاوہ و دیگر علم دوست حضرات بھی بڑی تعداد میں شریک رہےـ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: