مضامین

دار القضاء کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت

خالد انور مظاہری بانکوی
خادم دار العلوم محمدیہ دیسڑا بانکا بہار انڈیا
7250817292
جب سے اس جہانِ رنگ و بو میں انسانوں کا وجود ہوا ہے ان کی طرز زندگی کو لچک دار اور خوشنما بنانے کے لئے ان کو ایک منظم قانون کا سہارا دیا گیا ہے ۔ انسان بغیر قانون و ضابطے کے اندھیرے میں بھٹکنے والوں کی طرح بے سہارا ناقص اور گم راہ ہے ۔ جس کے پاس قانون ہے وہ مکمل و راہ یاب ہے؛ بشرطیکہ نافذ کردہ قانون پر اس کا عمل ہو ۔ رب کریم نے ہم انسانوں کو کبھی بے آسرا و بے سہارا نہیں چھوڑا ہر موڑ پر ہماری دستگیری فرمائی ہے ۔ جب طرزِ زندگی اور سلوک و معاشرت کی بات آئی تو سب سے بہترین و اعلی ترین؛ دن کے اجالے سے زیادہ روشن چمکدار؛ اور تابندہ، افراط و تفریط سے پاک ؛نہایت معتدل اور مضبوط ضابطہ حیات بطور امانت ہمیں سپرد کی گئی ، ساتھ ساتھ تاکید بھی کی گئی کہ اس سے قبل تم سے زیادہ ڈیل ڈول اور مضبوط اشیاء ؛یعنی زمین و آسمان اور پہاڑ جیسے مضبوط اور وسیع و عریض طاقت کو یہ امانت سپرد کی گئی مگر ان میں ہمت نہ تھی اور ان سب نے قبول کرنے سے انکار کردیا بلکہ ڈر سے تھرّا گئے، اور اپنے اپنے طور پر پگھلنے لگے ۔ اب تم انسانوں نے اس امانت کو قبول کرلیا اور اس پر ایمان لے آئے ، تو اس کی مکمل اتباع و تابعداری تمہاری اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ آج اس قانون کے راعی؛ پاسبان و محافظ پریشان و پشیمان ہیں، راہ دکھانے والے خود راہ یاب نہیں ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اس کو عملاً اپنی زندگی میں نافذ نہیں کیا ۔ قرآن کریم میں وضاحت کے ساتھ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ: اگر کسی معاملے میں اختلاف ہونے لگے تو رفع نزاع کے لئے اللہ اس کے رسول یا ان دونوں کے اصول پر کاربند فقیہ ذی علم سے اپنا معاملہ حل کرائیں، یعنی فیصلہ شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہو ۔ آج ہم اس اصول کو چھوڑ کر در در کی ٹھوکریں کھاکر ذلت و رسوائی کے غارِ عمیق میں گرے جارہے ہیں۔
ازدواجی گھریلو و عائلی حالات کبھی یکساں نہیں رہتے ۔ خوشحال زندگی میں بعض مرتبہ مشقتیں پریشانیاں الجھنیں اور دیگر تبدیلیاں بھی آتی رہتی ہیں اور انسان مختلف حالات سے دوچار ہوتا رہتا ہے ؛ ایسے میں نجی عائلی اور ملی مسائل کے حل کے لئے سب سے بہترین اور واحد حل دار القضاء ہے ، اس لئے اس کا قیام ہر ہر ضلعے اور خطے میں نہایت ضروری ہے ۔
شرعی دار القضاء امت کے ہر ہر فرد کی اشد ضرورت ہے۔
خلف اور سلف سب کا اتفاق ہے کہ حالات امتِ مسلمہ پر کتنے ہی دشوار ہوں دارالقضاء کا قیام اور اس کا نظام امت پر لازم اور ضروری ہے۔
لا خلاف بین الائمۃ ان القیام بالقضاء واجب.
(تبصرۃ الاحکام ۱؍۱۲ )۔

دار القضاء کا نظام کوئی نیا نہیں ہے بلکہ یہ تو نظامِ الہی و نظامِ نبوی ہے۔ اللہ تعالی نے داؤد علیہ علیہ السلام کو منصبِ قضاء کی ذمہ داری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی‘‘(صٓ ۲۶)۔
اسی طرح کئی ایک مواقع پر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو شریعتِ مطہرہ کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم فرمایا :وان احکم بینہم بما انزل اللہ ‘‘(مائدہ، ۴۸)۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں متعدد صحابہ کرام کو منصبِ قضاء پر مامور فرمایا، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کے ایک حصے پر قاضی مقرر فرمایا، اور ایک حصہ کی قضاء کی ذمہ داری حضرت معاذ ر ضی اللہ عنہ کو سونپی، اسی طرح یمن کے ایک علاقے کی قضاء کی ذمہ داری حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمائی، اور حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکۃ المکرمہ میں عہدہ قضاء پر مامور فرمایا، پھر یہی تعامل خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی جاری رہا، حتی کہ خود حضرات خلفائے راشدین نے بھی قضاء کی ذمہ داریاں سنبھالی اور اس کو بحسنِ خوبی انجام دیا، (ادب القاضی، ۱؍۳۵، ۳۷)۔

ایسے ماحول میں جبکہ ہر طرف نا انصافی ، جھوٹ ، خیانت ، دھوکہ دھڑی، ظلم و جبر؛ اور تشدد کا ماحول ہو، وہاں مسائل کے حل کے لئے صاف و شفاف قانون کو پس پشت ڈال کر گندے اور میلے قانون کی متابعت کرنا در اصل اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مانند ہوگا۔
ایک صاحبِ ایمان جب اپنے نجی و عائلی معاملات دنیوی عدالت میں لے کر جاتا ہے تو ان کو کس طرح کی پریشانیوں سے ہمکنار ہونا پڑتا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ وہاں جھوٹ پر مبنی گواہیاں ، رشوتیں، وکیل کی موٹی فیس، اور نتیجے میں ہار ، ذلت و رسوائی اور شرمندگی ملتی ہے۔ اس کے بالمقابل اگر ہم اللہ کے نافذ کردہ احکامات کے مطابق شرعی دار القضاء سے اپنے نجی عائلی و ملی معاملات کو حل کرائیں تو یہاں شرعی ضابطے کے مطابق بہت معمولی(نا کے برابر) خرچ میں صاف و شفاف طریقے سے بسہولت فیصلے ہوجاتے ہیں، نہ جھوٹے گواہوں کو خریدنے کی ضرورت، نہ رشوت کی لین دین سے کوئی سابقہ؛ اور نہ ہی دیگر پریشانیاں و الجھنیں ۔ بہت کم وقت میں اسلامی قانون کے مطابق بآسانی معاملات کو حل کردئے جاتے ہیں ۔
جہاں جہاں اب تک شرعی دار القضاء کا قیام عمل میں نہیں آسکا وہاں کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنے یہاں مکمل جد جہد اور پوری کوشش کے ساتھ دار القضاء کا قیام عمل میں لائیں ، اور اس کو اپنا فرض منصبی سمجھیں ، یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: