مضامین

دستور ساز اسمبلی کا اقتباس

جمہوریت کیا ہوتی ہے تمہیں قبائلی عوام سے سیکھنا چاہیے جئے پال سنگھ منڈا ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)

(سیاست داں، ہاکی پلیئر، جن کی پہلی تقریر 19 دسمبر 1946ء میں دستور ساز اسمبلی میں ہوئی)
”میں آج یہاں اُن لوگوں کی جانب سے گفتگو کررہا ہوں جو ناقابل شناخت خانہ بدوش ہیں -لیکن پھر بھی بہت اہم ہیں -جن کی بطور فریڈم فائٹر کوئی شناخت نہیں ہے۔ لیکن یہ ہندوستان کے اصلی لوگ ہیں۔ جنہیں کئی محاذوں پر بیک ورڈ ٹائپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بہت ہی چھوٹی موٹی جماعتیں ہیں اور مجرمانہ جماعتیں سب کچھ ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سر! میں اپنے آپ کو جنگلی ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ اس لیے کہ یہ وہی نام ہے جس کے ذریعہ ہم ہمارے ملک کے مختلف حصوں میں جانے جاتے ہیں جیسا کہ کوئی کہتا ہے جنگلی یا آدیواسی۔ میں اس بات کی بھی توقع نہیں رکھتا کہ اس کے قانونی کیا معنی جو ریزولیشن میں پوشیدہ ہیں۔ تم ان قبائلی لوگوں کو جمہوریت نہیں سکھا سکتے۔ تمہیں اُن سے جمہوریت سیکھنی چاہیے جو اُن کے طریقہ سے تم تک پہنچی ہے۔ وہ اس سرزمین پر سب سے زیادہ جمہوری لوگ ہیں۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دستور ساز اسمبلی کا اقتباس
”میں میرے نام کے ساتھ مشتہر کیا ہوا اینگلو کا لفظ اُس دن نکال دوں گا جب تم یہ بھول جائیں گے کہ تم ہندو ہیں۔“
دی ہندو (26/جنوری 2020ء)
فرینک انتھونی: ”ہندوستانی پارلیمنٹ کے طویل عرصہ تک اینگلو ممبر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ 26مئی 1949ء کو اقلیتوں کی ایڈوائزری کمیٹی کی رپورٹ میں کیا گیا اظہار خیال“
”بعض لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ او انتھونی کیوں تم اپنے نام کے آگے یہ لقب لگائے پھرتے ہو کہ اینگلو؟“ٹھیک ہے میں اُن سے کہتا ہوں کہ حرف اینگلو انڈیا اچھا ہے یا خراب، صحیح ہے یا غلط، لیکن مجھے اس نے کئی چیزوں سے جوڑ رکھا ہے۔ جنہیں میں عزیز رکھتا ہوں۔ لیکن میں اس سے آگے بڑھ کر اور اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ میں اس حرف کو ترک کرنے کے لیے تیار ہوں۔ جوں ہی آپ اپنا لیبل ”ہندو“ترک کردیں اور اُس دن جب آپ یہ بھول جائیں کہ آپ ہندو ہیں اور اُس دن نہیں بلکہ اُس سے دو دن پہلے ہی میں اس لقب کو ترک بھی کردوں گا اور عمل بھی کروں اور اس کا اعلان میں ذریعہ منادی کرڈالوں گا۔ یہ جو حرف اینگلو لگایا ہوا ہے یقین مانو اگر ہم جب اپنے القابات کو حذف کر ڈالے یا لیبل نکال ڈالے اُس دن کا میں سب سے پہلے خیر مقدم کروں گا اور سب سے آگے ہندوستان کی اقلیتیں بھی اُس کا استقبال کریں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: