غزل

دشمنوں کے ہمیں خنجر نہیں دیکھے جاتے.

*غزل*
ازقلم 🖊 افتخار حسین احسن.
رابطہ📲 6202288565
دل شکن اس گھڑی منظر نہیں دیکھے جاتے.
دشمنوں کے ہمیں خنجر نہیں دیکھے جاتے.

سوچتا ہوں کہ تجھے اپنا بنالوں مجھ سے
تری آنکھوں میں سمندر نہیں دیکھے جاتے.

عاشقوں نے ہے یہ اسرار محبت کھولا
عشق میں ادنی وکمتر نہیں دیکھے جاتے.

رہنما ملک کا ہونا تھاجنہیں اس وقت
وہ ہمیں جیل کے اندر نہیں دیکھے جاتے.

بیٹیاں روتی ہوں جس گھر میں غریبی کے سبب.
ہم سے دل دوز وہ منظر نہیں دیکھے جاتے.

گرم ہے ظلم وتشدد کاہراک سو بازار.

زخم سے چور کبوتر نہیں دیکھے جاتے.

تنگ جو کرتا ہے بیوی کو ہمیشہ احسن.
آج کل ایسے بھی شوہر نہیں دیکھے جاتے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: