مضامین

دنیا انسانی تایخ کے ایک منفرد دور میں ۔۔۔

مفتی احمد نادر القاسمی

قرانی ۔صحفی اور مابعد تایخ کی ۔تاریخ وضاحتوں ۔کے مطابق طوفان نوح کے بعد جب سے انسانی دنیا اپنی شأت ثانیہ کے دور سے گزری ہے اور دنیا دوبارہ روۓ زمین پر آباد ہوٸی ہے یوں ہی بہت سے آسمانی اور زمینی آفتوں سے گزری ہے۔۔بہت سی انسانی جانیں بھی تلف ہوٸ ہیں ۔دنیا اجڑی اور آباد بھی ہوٸی ہے ۔قران نے جابجا ماضی کی ان اقوام کی زندگی کو قریب سے دیکھنے ۔سمجھنے ۔ان وجوہات پر غور اور پھر ان سے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔۔مثلا قران نے کہا ”الم ترکیف فعل ربک بعاد ۔ارم ذات العماد۔ التی لم یخلق مثلھا فی البلاد۔ وثمود الذین جابوا الصخر بالواد۔۔وفرعون ذی الاوتاد۔الذین طغوا فی البلاد۔فأکثروا فیھا الفساد۔ فصب علیھم ربک سوط عذاب۔ ان ربک لبالمرصاد۔“{سورہ الفجر۔6-14}۔اسی طرح سورہ الحاقہ اور دیگر سورتوں ۔دنیا کی سرکش اور ظالم وجابر قوموں کا تذکرہ ہے ۔یہ تذکرے قران میں یوں ہی نہیں ہیں ۔بلکہ ۔ان تذکروں کا مقصد۔ہے اور مقصد وہ مقصد یہ کہ جن وجوہات کی بنیاد پر ماضی کی ان اقوام کو عذاب اور آزماٸش سے گزنا پڑا ۔۔ان ناروا اعمال کو زمین پر نہ دہرایا جاۓ ۔انسانوں کے داتھ توہین آمیز رویہ نہ اختیار کیا جاۓ ۔اگر وہی طرز عمل انسانوں کا مذھب کی بنیاد پر ۔طاقت کی بنیاد پر ۔حکومت اور عسکری غرور کے نشہ میں اور حق تلفیاں کی جاٸیں گی تو اللہ کے قانون کے مطابق ۔اسی طرح زمین کے مجرموں کا غرور توڑاجاۓ گا۔اسکی شکل جوبھی ہو ۔طوفان کی شکل میں۔سیلاب اور پانی کی تباہی کی شکل میں ۔زلزلہ کی شکل میں۔قحط سالی اور بیماری کی شکل میں ۔۔سمندر کی طغیانی اورسنامی کی شکل میں وغیرہ وغیرہ ۔
اب اس وقت دنیا جس صورت حال سے گزر رہی ہے اور جس کو کرونا واٸرس کا نام دیکر دنیا کو اپنے گھروں میں قید کرکے اس سے نجات پانے کی تدبیر بتارہی ہے ۔اس کو دنیا میں تین طرح سے دیکھا جارہاہے ۔نمبر ایک بیماری ۔نمبر دو عذاب الہی ۔نمر تین حیاتیاتی جنگ اور باٸیو لوجیکل وار۔اور ایک چوتھا زاویہ فکر بھی ہے وہ ہے دنیا میڈیکل انڈسٹیز کابیماری کے نام پر ری اسٹیبلیش منٹ ہے۔جس کی قیادت ۔who.اور دنیا کے معاشی اور عسکری طاقت ور ممالک۔دنیا پر اپنی بالادستی قاٸم رکھنے کےلٸے کررہے ہیں ۔اور ان ممالک کے متاثر ہونے کی جوبات میڈیا میں دکھاٸی جارہی ہے وہ صرف اور صرف ایک میڈیاٸ ملمہ سازی ہے اور حقاٸق اس کے برعکس ہیں ۔اگر یہ حقیقت ہوتا تو پھر وہ ممالک ان مرنے والوں کی لاشیں کیوں نہیں ریلیز کر کرتا ۔رہی مسلم دنیا تو وہ تو کسی گنتی ہی میں اس معاملہ میں نہیں ہے ۔اس کوصرف اتنا پتہ ہے یا بتا دیا گیاہے یہ کوٸی طاعون جیس وباٸی اور متعد ی بیماری پھیلی ہوٸ ہے ۔جس سے مجھے بچنا ہے ۔ اور اس کا واحد راستہ گھروں میں قید رہنا ہے ۔حقیقت کیا ہے ۔ہمیں نہیں سوچنا۔ یہ ہے کیا ہمیں نہیں جاننا ۔اس کا کوٸی دوسرابھی پہلو ہوسکتا ہے ۔ہمیں اس سے غرض نہیں ۔بیماری کس کو کہتے ہیں ہمیں پتہ نہیں ۔اچھو میاں نے یہ بتایاہے یہ یہ وباٸی بیماری تو بس بیماری ہے۔باقی دوسری تیسری بات میں ہمیں نہیں الجھنا ۔نہ ہمیں دنیا کی قیادت کرنی ہے ۔نہ یہ میری ذمہ داری ہے ۔یہ صورت حال ہے۔ اس لٸے۔وہ تو موضوع بحث ہی نہیں ہے ۔جب ہم نے دیکھ کہ ہمارے ملک میں اس بیماری کے بہانے ملک کے ایک طبقہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہاہے ۔تو ایک اور پہلو اس بیماری کانکل کر آیا کہ اچھا یہ کوٸ سازش ہے ۔جو اس ملک میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کے لٸے ۔کرونا کے نام سے رچی گٸی ہے۔۔مگر جب اس کے موجودہ نتاٸج پہ غور کرتا ہوں ۔اور یہ دیکھتاہوں کہ پوری دنیا اس کی دہشت میں مبتلا ہے ۔ڈر کے مارے گھروں میں بند ہے ۔کب تک یہ صورت حال رہے گی ۔اور کتنے دنوں کے لٸے دہشت پھیلاۓ رکھنے کی ٹریننگ دے کر زمین میں جناب کرونا جی کو روانہ کیا گیا ہے یہ بھی نہیں معلوم ۔اور روزانہ اربوں کھربوں کا دنیا کا مالی نقصان ہورہاہے ۔جانی نقصان سے تو کوٸ لینا دینا دنیا کو ہے نہیں ۔کیونکہ مرنا غریب کوہے وہ مرجاۓ یازندہ رہے ۔ساہوکاروں کو اس سے کیا غرض ۔۔بڑے لوگ ۔عسکری ٹولے ۔ملکوں کے ہتھیار بردار ان کو کچھ نہیں ہوناچاہٸیے اور ہوبھی نہیں رہاہے ۔اس لٸے آپ کے کانوں تک یہ خبر ہیں آرہی ہوگی کہ فلاں ملک کے فوجوں کی اتنی تعداد کرونا مریض ہوگٸی۔ اتنے سیاسی لوگ متاثر ہوگٸے ۔یہ خبر دنیا کے کسی ملک سے نہیں آرہی ہے ۔کونکہ کرونا مہا شیٸ کو ہر ملک کے غریبوں کی فہرست دی گٸی ہے ۔ان کے گھروں میں گھس گھس کر پکڑناہے ۔Covi19پازیٹیو کی تعداد بڑھانی ہے ۔اور ابھی تو فری میں سب چل رہاہے بعد میں ٹیسٹ میں 5000کے حساب سے وصولنا ہے اور چکانا تو انھیں کو ہے۔بہر حال جب دیکھتا ہوں کہ غریبوں کی آہ نے اربوں کھربوں کی یومیہ معیشت کو لوگوں کی داٶ پر لگادیاہے اور پوری چیخ اٹھی ہے تو ۔یکا یک یہ خیال آتاہے کہ اللہ رب کریم جب دنیاکو اپنی گرفت میں لیتا ہے ہےتو اسی طرح پکڑ بناتاہے ۔جیسے اس نےماضی کے مجرموں پر شکنجہ کسا تھا ۔مکروا ومکراللہ واللہ خیر الماکرین۔ اس اعتبار سے دیکھاجاٸے تو اس وقت دنیا تاریخ کے ایک منفرد دورسے گزررہی ہے ۔جہاں چاروں طرف مایوسی ہے ۔خوف ہے دہشت ہے اور مستقبل تاریک ہے۔ہم تو گناہ گار اور اپنے رب کو بھولے ہوۓ لوگ ہیں ۔رمضان جیسے مبارک مہینہ میں دنیاسے کیاشکوہ کرنا اپنے رب سے معافی مانگیں شاید اس بھٹکی ہوٸی انسانیت کو معاف کردے ۔اور اپنے نام لیواٶو ں سے روۓ زمین کو آباد کردے ۔۔ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان أن آمنوابربکم فآمنا ربنا فاغفرلنا ذنوبنا وکفر عنا سیٸاتنا وتوفنا مع الابرار۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: