مضامین

دوبارہ اعتماد قائم کریں

یہ مناسب وقت ہے کہ جموں اور کشمیر کے سیاسی محروسین کو رہاکیاجائے

اداریہ ٹائمز آف انڈیا (17مارچ 2020ء)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)
Cell:9890245367
حال ہی میں سات مہینوں سے محروس جو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار تھے، سابق جموں کشمیر کے چیف منسٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے محروسین جو جیلوں میں ہیں اور اس مرکزی علاقہ کے باہر ہیں اُنہیں واپس لایا جائے اور رہا کیاجائے۔ کیونکہ پانچ ہزار سے زیادہ لوگ آرٹیکل 370 کے خاتمہ کے بعد 5/اگست پچھلے سال سے حراست میں ہیں۔ حکومت کی یہ گرفتاریاں جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعدلا اینڈ آرڈر کی خاطر کی گئی ہیں۔ صحیح ہے، لیکن جیسے عبداللہ کو رہا کیا گیا ہے ویسے اُنہیں بھی رہا کیاجائے۔ جبکہ سینکڑوں لوگ جموں کشمیر کے باہر کی جیلوں میں ہیں۔
درحقیقت اس مسئلہ کو نئی تشکیل شدہ اپنی پارٹی نے جموں کشمیر کی میٹنگ میں اُٹھایا تھا اور اُنہوں نے اس سلسلے میں وزیر داخلہ سے ملاقات بھی کی۔ جس پر وزیر داخلہ نے اُنہیں تیقن دلایا تھا کہ سیاسی محروسین کو آنے والے وقتوں میں رہاکیاجائے گا۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہے۔ لیکن جب کشمیر میں سکون ہے اور حکومت بین الاقوامی سطح پر اس بات پر یقین دلادیاہے کہ انہوں نے وہاں سارے اقدامات ٹھیک سے کیے ہیں اور یہ اُن کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس لیے اب یہ بہتر وقت تھا کہ وہ سیاسی محروسین کو رہا کردیتے۔ دُنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ آرٹیکل 370 ایک عارضی طور پر ہندوستان کے دستور میں دفعہ تھی اور کسی طریقے سے اُس کی بازیابی نہیں ہوسکتی۔ اب حالات کو نارمل کرنے اور بحال کرنے کے لیے سیاسی گفتگو، بات چیت اور سیاسی لوگوں کے درمیان جموں کشمیرمیں اُن کی ریاست کے سلسلے میں گفتگو ہونی چاہیے۔
نئی دہلی نے متعدد مرتبہ کہاہے کہ وہ جموں کشمیرکی ترقیات کے لیے آہستہ آہستہ قدم اُٹھارہے ہیں اور اُس علاقہ میں انویسٹمنٹ (Investment) بھی کیا جارہا ہے۔ گفتگو نہ کرنے کی وجہہ سے وہاں کے لوگوں میں علیحدگی محسوس کی جارہی ہے۔ جس کی وجہہ سے جو نظریات پیدا ہورہے ہیں وہ بعد میں زیادہ مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ سیاسی محروسین کو رہا کرنے کا پہلا قدم اعتماد کو بحال کرنے کے سلسلے میں ایک بنیاد ہوگا کہ وہ نئی جموں کشمیر کوآگے لے جائیں۔ اسے مزید تعطل نہ دیاجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: