اہم خبریں

دہلی اقلیتی کمیشن نے اقلیتوں کے مددگار، بہترین اسکول ، خصوصی اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ زدئے

نئی دہلی ، 16 جون 2020 : سال 2019 کے لئے اپنے ایوارڈز کی تقسیم کے آخری مرحلے پر، دہلی اقلیتی کمیشن نے آج اقلیتوں کےمددگار ، بہترین اسکول ، خصوصی ایوارڈز اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ زدئے ۔ اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اور ممبر انستاسیا گل نے تقریب میں موجود انعام یافتہ شخصیات اور تنظیموں کو ایوارڈز کے شیلڈز اور کتابچے پیش کیے۔

ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ دہلی اقلیتی کمیشن نے صوبۂ دہلی اور کچھ معاملات میں ملک کے دوسرے لوگوں کی شناخت بنانے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ ایوارڈز شروع کیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی طرح اقلیتوں کی خدمت اور دفاع کر رہے ہیں اور مختلف طریقوں سے اقلیتوں کی سربلندی کے لئے کام کررہے ہیں لیکن شاذ و نادر ہی ریاست یا قومی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی کمیشن کے ذریعے منتخب کردہ کچھ شخصیات اور ادارےدر حقیقت ان ایوارڈز کو عزت دیتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر دہلی کے گوبند سدن کا ذکر کیا ، جو مہرولی علاقے میں پوری ہم آہنگی کے ساتھ رہنے والے مختلف عقائد کے کئی سو افراد کی ایک جماعت ہے۔ گوبند سدن ایک گرودوارے پر مبنی ہے لیکن اس میں ہندو مندر ، مسجد ، چرچ اور یہودی عبادت خانہ وغیرہ بھی زندہ حالت میں موجود ہیں یعنی وہاں دوسرے مذاہب کے لوگ اپنے اپنے طور سے عبادت کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام نےسب کو اس انوکھے مقام پر جانے کی دعوت دی جس کو انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور رواداری کی ایک عظیم اور زندہ مثال بتایا اور کہا کہ اس بنیاد پر ایک جامع اور ہم آہنگ ہندوستان تعمیر ہو سکتا ہے جہاں ہر ایک کو عزت اور مقام ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ ایوارڈز کی فہرست میں موجو د بہترین اسکول اقلیتوں کے ادارے ہیں لیکن اس فہرست میں ایک سرکاری اسکول بھی ہے اور یہ دوارکا میں واقع راجکیہ پرتیبھا وکاس اسکول ہے جو ایک سرکاری اسکول ہے جس نے ملک کے سبھی سرکاری اسکولوں میں پہلا درجہ حاصل کیا ہے ، لہذا اسے خصوصی اعزاز اور حوصلہ افزائی سےنوازا گیا ہے۔

پچھلے پانچ دنوں کے دوران ، کمیشن نے دہلی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اقلیتی طلباء ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے کارکنان ، اردو اور پنجابی زبانوں کو فروغ دینے والے ،کھلاڑیوں ، بہترین اساتذہ ، سماجی کارکن اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں میں ایوارڈ تقسیم کیے۔

اس کمیشن نے اس سے قبل ایوارڈز دسمبر 2018 میں وگیان بھون میں منعقدہ ایک یادگار تقریب میں تقسیم کیے تھے لیکن اس بار کوویڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایک بڑی تقریب کا انعقاد ممکن نہیں تھا ، لہذا کمیشن نےسماجی دوری کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دفتر میں ہی چھوٹے چھوٹے فنکشن منعقد کرکے یہ ایوارڈز تقسیم کئے ۔

آج تقسیم کئے جانے والے ایوارڈز کی فہرست یہ ہے:

اقلیتوں کے معاونین: بھورو سنگھ (امبیڈکر معاشرہ ترقی سنگٹھن) ، ڈاکٹر ایس ایس منہاس (نوجوان طلبا کی جامع ترقی کے لئے کوشاں) ، گورمندر سنگھ متھارو (ممبر ، ایس جی پی سی امرتسر) ، جگتار سنگھ اور گورپریت سنگھ بنڈرا اور بلجیت سنگھ اور ہرمندر سنگھ اور ججندر سنگھ (ان پانچ لوگوں نے 32 پھنسی ہوئی کشمیری لڑکیوں کو بحفاظت ان کے گھر واپس پہنچایا) ، سوسائی سیبسٹین (سابق ​​ڈائریکٹرچیتنالیہ) ، وکٹر ہنری سیکیرا (سماجی کارکن)، بشپ وارث مسیح (گرجا گھروں کے معاشرے میں صلح سازی) ، فرینکلن سیزار تھامس (عیسائی اور مسلم دلتوں کے حقوق کے لئے لڑنے والے) ، ڈاکٹر ایف۔ پی آر جان (پرنسپل ودیا جیوتی کالج) ، اجیت سنگھ سیہرا (اُجول بھویشیا این جی او) ، سلیم بیگ (کمیونٹی کی ترقی کے لئے کارکن ، آر ٹی آئی کارکن)۔

ممتاز اسکول: ہمدرد پبلک اسکول ، نیو ہورائزن اسکول ، اسکالر اسکول ، سینٹ زیویرز اسکول شاہ آباد دولت پور ، میٹر ڈائی اسکول ، ڈان باسکو اسکول الکنندا ، ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول جعفرآباد ، راجکیہ پرتیبھا وکاس اسکول دوارکا (ملک بھر میں سرکاری اسکولوں میں نمبرایک)۔

خصوصی ایوارڈز: محمد رضوان (نوجوان موجد) ، این ایم تھیریت گوڑا (ثالث اور وکیل) ، محترمہ خورشید نریمان (مجسمہ ساز) ، بھوپندر پال سنگھ والیا (افریقہ میں گرودواروں کے مورخ) ، گوبند سدن مہرولی (سکھ قیادت میں قائم بین المذاہب برادری) ۔
لائف ٹائم اچیومنٹ : ڈاکٹر منظور عالم (چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف ا ٓٓبجکٹیو اسٹڈیز) ، ایس راجندر سنگھ جی (ہیڈ گرنتھی ، گرودوارہ رکاب گنج) ، میری پیٹ فشر ( بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے والی مصنفہ) ، ایف۔ سیڈریک پرکاش (انسانی حقوق ، بین المذاہب مفاہمت ) ، نرمل کمار جین سیٹھی (جین برادری کی فلاح و بہبود اور فروغ) ، پروفیسر حسینہ حاشیہ (اکیڈمک اور مسلم برادری کی فلاح و بہبود) ، تیستا سیتلواد (انسانی حقوق اور حکمرانیٔ قانون) ، پروفیسر اختر الواسع (اسلامی اسکالر ، بین المذاہب مکالمہ اور مسلم کمیونٹی کی فلاح و بہبود) ، مفتی عطاء الرحمن قاسمی (اسلامی اسکالر ، دہلی ، ہریانہ ، پنجاب اور ہماچل کی مساجد کے مؤرخ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: