اہم خبریں

دہلی فسادات مظلومین کی گرفتاری کے خلاف پولیس پر کورٹ برہم

جمعیت کی عرضی پر کورٹ نے دیا بڑا فیصلہ

لاک ڈاؤن کے باوجود دہلی پولس کے ذریعہ اندھا دھند گرفتاری پر دہلی ہائی کورٹ سخت
جمعیۃ علماء ہند کے جنر ل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ گرفتاری کے وقت ڈی کے باسو بنام ویسٹ بنگال گورنمنٹ میں طے کردہ سپریم کورٹ کے گائیڈ لائن کی پابندی کی جائے، جو گرفتار ہوئے ہیں وہ مستقل ضمانت کے لیے ذیلی عدالت میں درخواست دے سکتے ہیں۔

نئی دہلی، ۲۷/اپریل ۲۰۲۰ء:
لاک ڈاؤن کے باوجود دہلی فساد کی انکوائری کی آڑمیں،پولس کے ذریعہ مسلم اقلیتوں کی لگاتار گرفتاری پر روک لگانے سے متعلق جمعیۃ علماء ہند (جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی) کی عرضی پر آج سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے پولس کو ہدایت دی ہے کہ جو گرفتاری ہوئی ہے یا آئندہ جو بھی ہوگی، اس کو انجام دیتے وقت ڈ ی کے باسو بنام حکومت ویسٹ بنگال 1977مقدمے میں سپریم کورٹ کے ذریعہ طے کردہ گائیڈ لائن کی مکمل پابندی کی جائے۔ جسٹس سدھارتھ مریدول،جسٹس سنگھ کی دورکنی بنچ نے اپنے آرڈر میں یہ بھی کہا ہے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، وہ ذیلی عدالت میں ریگولر بیل(مستقل ضمانت) کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ عدالت نے آیندہ سماعت کے لیے ۲۴/جون کی تاریخ طے کی ہے۔
واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہندنے اپنے وکیل انوپ جارج چودھری، جون چودھری، ایڈوکیٹ نیاز فاروقی اور ایڈوکیٹ طیب کے تعاون سے ہائی کورٹ میں ۲۲/اپریل۲۰۲۰ء کو ایک عرضی دائری کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت جب کہ پورا ملک کرونا وائرس کی ہلاکت خیز بیماری سے جنگ لڑرہا ہے، ایسے میں دہلی پولس، ماہ فروری میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کی آڑ میں گلی کوچے سے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج رہی ہے۔ عدالت میں جمعیۃ علماء ہند نے ایسے ۴۵/ لوگوں کے نام پیش کیے ہیں، جن کو اس درمیان گرفتار کیا گیا۔گرفتار شدگان کا تعلق جعفرآباد، مصطفی آباد، برہم پوری، چوہان بانگر،موہن پوری، عثمان پور، چاند باغ سے ہے،دو طالب علم میران حیدر اور صفور ازرگان جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پی ایچ ڈ ی کے طالب علم ہیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب کہ قابل احترام سپریم کورٹ نے سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ پیرول، بیل اور فرلو کے ذریعہ قیدیوں کو رہا کیا جائے اور جیلوں کی بھیڑ کم کی جائے،اس طرح سے دہلی پولس نے سپریم کورٹ کی ہدایتوں کے بنیادی مقاصد کو پامال کیا اور جیلوں کے خالی کرنے کے بجائے اسے بھرنے کی کوشش کی۔ساتھ ہی دہلی سرکار کے ذریعہ قیدیوں سے متعلق ضابطے میں ایمرجنسی پیرول کے اضافہ کو بھی خاطر میں نہیں لا یا گیا۔
جمعیۃ علماء ہند نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ ایک سیکولر سماج کی پولس کا کردار ا س قدر تعصب، تفریق اور فرقہ واریت پر مبنی ہے۔حالاں کہ ایک لاء انفورسمنٹ ایجنسی کے طور پر اس کا کام انسانیت کی خدمت، شہریوں کے جان ومال کی حفاظت اور آئینی حقوق، آزادی ومساوات کا بلاتفریق تحفظ ہونا چاہیے، لیکن صد افسوس دہلی فساد میں خود متاثر ہوئے افراد بالخصوص اقلیتوں کے خلاف دہلی پولس کا کردارغیر انسانی اور غیر منصفانہ رہا ہے۔ لوگوں کی گرفتاری میں کسی بھی قانون اور ضابطے کی کوئی پروا نہیں کی گئی۔ایسے موقع پر ہائی کورٹ نے پولس کو ڈی کے باسو بنام اسٹیٹ آف ویسٹ بنگال 1977(1)SCC416 مقدمے میں سپریم کورٹ کے گائیڈ لائن کی پابندی کی ہدایت دی ہے جو اصلاح کی طرف بہترین قدم ہے۔اس گائیڈلائن میں کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے کے وقت گیارہ ہدایات دی گئی ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی شخص کو گرفتار کرنے یا قید کرنے کے وقت پولس عملہ کی وردی پر صاف صاف لفظوں میں ناموں اور عہدے کا بلہ لگاہونا چاہیے اورمذکورہ پولس عملے کی تمام تفصیلات ایک رجسٹر میں ریکارڈ ہونی چاہییں۔پولس عملہ کے پاس گرفتاری کا میمو ہونا چاہیے جس پر ایک گواہ کا دستخط بھی ہوجو گرفتار شدہ کے خاندان کا ممبر یا علاقے کا معزز شخص ہو، میمو پر گرفتار شدہ کا بھی دستخط ہو اور تاریخ اور وقت درج ہو۔جس شخص کو گرفتار کیا جارہا ہے، یا پولس لاک اپ میں رکھا جارہا ہے، اس کے سلسلے میں اس کے کسی رشتہ دار، دوست یا خیرخواہ کو جلد ازجلد مطلع کیا جائے، گرفتار شدہ کے قید کی جگہ، گرفتاری کا وقت نوٹیفائیڈ کیا جائے جب کہ اس کے رشتہ داریا یا دوست ضلع سے باہر رہتے ہوں، ضلع میں موجود لیگل ایڈ آرگنائزیشن کے ذریعہ سے یا اس علاقہ میں موجود پولس اسٹیشن کے ذریعہ سے گرفتاری کے آٹھ سے بارہ گھنٹے کے اندر اندر رشتہ داراوں کو مطلع کیا جائے۔ گرفتار شدہ شخص کو اس کا یہ حق معلوم ہو نا چاہیے کہ وہ اپنی گرفتاری کی اطلاع کسی شخص کو دے سکتا ہے۔گرفتار شدہ شخص کی ہر اڑتالیس گھنٹے پر سرکاری طور سے منظور شدہ ٹرینڈ ڈاکٹر کے ذریعہ چانچ کرائی جائے۔ گرفتار شدہ شخص کو اپنے وکیل سے ملنے کی اجازت دی جانی چاہیے، ضلع اور صوبہ کے مرکز میں ایک پولس کنٹر ول روم میں قیدی کی گرفتاری اورنوٹس بورڈ پر اس کا نام درج ہونا چاہیے۔ اگر ان چیزوں پر عمل نہیں ہوتا ہے تو ذمہ دارشخض کے خلاف دفتری کارروائی کی جائے گی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: