مضامین

دہلی کا فساد مسجدیں جلانا، مسلمانوں کا قتل عام کرنا۔ امن کی اپیل ٹیوٹرپر؟ واہ مودی واہ!

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور

دہلی کامسلم کش فساد ہندوستان کے بدترین فسادوں کی فہرست میں ایک اور اضا فہ ہو گیا، تین دنوں تک بلا روک ٹوک جاری رہنے والے اس قتل وغارتگری میں اب تک میڈیا رپوٹ کے مطابق49 بے گناہ ہ لوگوں کی جان چلی گئی،سیکڑوں اسپتالوں میں تڑپ رہے ہیں، مسجدوں میں آگ لگانا،کلام الٰہی قرآن مجید کو جلا نا، محلوں،پوری پوری بستیوں کو جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا۔ مشہور شاعر ساغر صاحب فر ماتے ہیں:
؎ کس طرح بھلا ئیں ہم اس شہر کے ہنگامے ٭ ہر درد ابھی باقی ہے ہر زخم ابھی تازہ ہے
یہ راکھ مکانوں کی ضائع نہ کرہ ساغرؔ ٭ یہ اہل سیاست کے رخسار کا غازہ ہے
دہلی میں تین دنوں تک لا قانونیت اور مسلمانوں کی مار کاٹ کا جوننگا ناچ ہوا، اس سے پوری دنیامیں ہندوستان کی بد نامی ہورہی ہے، امریکہ اوربہت سی بین الاقوامی تنظیموں نے دہلی کے مسلم کش فساد پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بدنامی کیوں نہ ہو جب پوری پلاننگ اور جدید سو شل میڈیا،ٹیوٹر، انسٹا گرام، واٹس ایپ، فیس بک وغیرہ کے ذریعہ منظم طریقے سے مسلمانوں کو قتل و برباد کیا گیا اخبارات کی رپورٹ سے معلوم ہورہا ہے کہ واٹس ایپ اور دوسرے ذرائع سے فسا دیوں کو گا ئڈ کر کے مسلمانوں کے گھر ودو کانوں کی نشاندہی کی جارہی تھی، تو پھر ہمارے پرائم منسٹر مودی جی امن کی اپیل ٹیوٹر پر کیوں نہ کریں؟
پہلا فساد دہلی کا با قاعدہ اعلان کرکے کیا گیا: یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ یہ ملک کا پہلا فساد ہے جس کا اعلان کیا گیا گولی مارو سا…..کو، اس کو ان کے فالور وں نے سچ کر دیکھایا۔حکمراں جماعت کے لوگوں نے پوری تیاری کی اور جامعہ کے و شاہین باغ کے پروٹیسٹروں پر ہزا روں کے مجمع اور دہلی پولیس کے سامنے آز مایا، دہلی پولیس نے اور زرخرید میڈیا نے گولی مارنے والے رام بھگت گوپال کو نابالغ ثابت کرنے میں پوری طاقت جھونک دی کہ ابھی وہ بچہ ہے(بوتل سے دودھ) پیتا ہے اس کو سزا نہیں دی جاسکتی؟(سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا) جس کا یار کوتوال اسے ڈر کاہے کا۔ دہلی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی،جامعہ میں کھلے عام ظلم کیا اورحد یہ کہ لائبریری میں گھس کر طلبہ پر لاٹھیاں بر سائیں اور خوب برسائیں دل کے ارمان پورے کئے بچوں کو مار مار کر ٹانگیں توڑ کر بر باد کردیں اور دہلی پولیس اب ان ویڈیوز کی انکوائری کا ڈرامہ کررہی ہے، جے این یو میں طالب علموں پر کھلے عام ظلم ہوتا رہا دہلی پولیس کے نوجوان ماتھے کی آنکھوں سے دیکھتے رہے،ٹک ٹک دیدم دَم نہ کشیدم، پولیس والے دیکھتے رہے کوئی کاروائی نہیں کی۔اسی طرح بی جے پی کے کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش صاحب سنگھ، وغیرہ نیتاؤں کے منافرت پھیلانے والے بیانات گولی مارو سا….. کو ، دہلی کی جامع مسجد پر بلڈوزر چلانے کی کھلے عام دھمکیاں دینے والے پر ویش ورما پر کوئی کار راوئی نہ کر نے پر جب سپریم کورٹ کے جج جناب ایس مر لی دھر صاحب نے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی اور ویڈ یو دیکھایا اور ان کی بے عملی پر سوال کیا اور دوسرے دن کی تاریخ دی تو راتوں رات مودی حکومت نے جج صاحب کا تبادلہ کر کے یہ پیغام دے دیا کی ہم ہر طرح سے ظلم و ستم کا بازار گرم رکھیں گے۔(اور میڈیا اپنی نمک حلالی سے اسے پرانی ڈیٹ بتاکر معاملہ کو ہلکا کر دیا۔) مودی حکومت اپنے سابقہ پروگرام2002 گجرات دنگوں کے تحت اس اسکیم کو اور آگے جدید میڈیا وطاقت ودولت کے ذریعہ مسلمانوں کی قتل وغارت گری کرتے رہیں گے۔
دہلی فساد،ٹیوٹر Twitterپر امن کی اپیل کیوں؟:کیا آپ نے اس پر توجہ فر مائی؟ کہ مودی جی نے امن کی اپیل ٹیوٹر پر ہی کیوں کی،جی جنابِ عالی جدید مواصلاتی نظام پر جتنا قبضہ اس وقت آر ایس ایس و بی جے پی کاہے اتنا پوری دنیا میں کسی کا قبضہ نہیں ہے(جی ہاں پوری دنیا) اس کو سمجھناہے تو آپ گجرات دنگوں پر لکھی کتابوں کا مطالعہ فر مائیں تو یہ بات آپ کو سمجھ میں آجائے گی، میں چند ”اقتباس“ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہا ہوں بغور مطالعہ فر مائیں، مسٹر،آر۔بی۔سری کمار(ریٹائرڈ گجرات کیڈر) کی آنکھیں کھول دینے والی کتاب”پسے پردہ گجرات“ میں آپ لکھتے ہیں حکومت گجرات کی پوری مشنری مسلم کش فساد میں شامل تھی،خاص کر96فیصد مسلمانوں کے قتلِ عام کے مجرم مودی،شاہ کی جوڑی ہے۔ دوسری بہت اہم کتاب،”مودی۔دی لائن آف گجرات“ جس کے مصنف فرحان سعید خان ہیں،پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔فرحان سعید خان صاحب لکھتے ہیں ”کہ میڈیا کے ذریعہ فساد کس طرح پھیلا یا جاتاہے اور اس پر کنٹرول کس طرح کیا جاتاہے۔2001 سے 2014 تک مودی کجرات کے وزیر اعلیٰ رہے اور اب وہ بھارت کے چودہویں وزیر اعظم ہیں، میڈیا کے سیل ٹیم سے سب کنٹرول کیا جا تا ہے،دہلی کے فساد میں آپ نے دیکھا فیس بک اور واٹس ایپ،انسٹا گرام، و ٹیو ٹرTiwtter پر کس طرح کنٹرول کیا گیا۔ مشہور ومعروف مصنفہ ارون دھتی رائے جو انڈین حکومت اور فوج کے اقدامات پر سخت تنقید کے لیے شہرت رکھتی ہیں۔آپ نے کشمیر اور دیگر علاقوں میں انڈین آر می کی سخت کار روائیوں پر تنقید کی ہے جس کے بعد ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلایا جارہا ہے،ابھی حال میں آپ کئی بار شاہین باغ جاکر اپنے جذبات کا اظہار کر چکی ہیں۔ اپنی ایک تحریر وتقریر میں مسٹر مودی کا ذکر کچھ اس طرح کرتی ہیں ”میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ یہ شخص کون ہے؟ مودی آر ایس ایس نامی تنظیم کا ممبر ہے جو1927اٹلی کے فاشسٹ مسولینی سے متاثر ہوکر بنی تھی اوراڈلوف ہٹلر ((Adolf Hitlerاس تنظیم کا ہیرو ہے، اور مودی کھلم کھلا ہٹلر کی تعریف کرتے ہیں۔
دہلی کا فساداور social media:بھڑ کاؤبھاشنوں اورsocial media سو شل میڈیا کے ذریعہ بھڑ کائے گئے،دہلی فساد کی آگ میں بستی کی بستیاں جل کر خاک ہوگئیں سوشل میڈیا کو ابھی بھی کچھ لوگ ہلکے میں لیتے ہیں جب کہ دہلی کی تباہی کا پورا پرنٹ در اصل میڈیا ہی نے تیار کیا ہے، میڈیا میں ہونے والی فر قہ وارانہ ڈبیٹ نے ہی اس کی زمین تیار کی ہے، اوراب بھی زیادہ تر چینل جانب داری سے کام لے رہے ہیں ایک کمیو نیٹی کے کچھ خاص افراد کو نشانہ بنارہے ہیں، 49 لوگ مارڈالے گئے سو سے زیادہ مسنگ ہیں، مسنگ کا مطلب وہ بھی شہید ہی سمجھیں،جے این یو کے طالب علم جناب نجیب بھی مسنگ میں ہیں،آپ خوب سمجھ سکتے ہیں۔ بات بات پر بولنے والے مودی جی نے امن کی اپیل ٹوئیٹر پر اس لیے کی کہ ان کے فالوور سوشل میڈیا پر سر گرمِ عمل ہیں اور اس کے ذریعہ انھوں نے لوگوں کو آگاہ کر دیا کام ہوگیا۔(اللہ اللہ خیر سلّا)/thank god it is over that is all there is to it) گجرات دنگوں پر لکھی کتاب”گجرات فائلس“ بہت معلو ماتی کتاب ہے خاص کر سوشل میڈیا کا استعمال بی جے پی اور آر ایس ایس نے کب سے شروع کیا اور اب اسے کس طرح سے استعمال کررہے ہیں۔ رعنا ایوب صاحب اپنی کتاب ”گجرات فائلس“ میں لکھتے ہیں،”جب میں اپنی پہچان چھپاکر مودی سے ملا اور گجرات کے فساد کے تعلق سے سوال کیا، تو انھوں نے اس فساد میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں ہزار لوگوں پر کسی افسوس،یا اعتذار(شر مندگی کا اظہار کرنا،یا افسوس کر نا) کے بجائے صاف طور پر شہید ہونے والے لوگوں کا الزام میڈیا پر لگا یا اور کہا کہ میڈیا نے خبریں بڑھا چڑھا کر شائع کیں، جس کی وجہ سے ان کی اِمیج کو نقصان پہنچا،آگے مودی کہتے ہیں کہ وہ میڈیا کو مینجManage نہیں کر پائے آگے اس کا خیال رکھوں گا،جی جناب! اس کے بعد ہی آنجناب نے میڈیا کو مینج کرنے پر”خاص دھیان“ دینا شروع کر دیا،حتیٰ کہ جب ہندوستان میں میڈیا کا دور شروع ہوا، توسب سے پہلے اسے اپنی سیاسی تشہیر(ڈھنڈورا، رسوا کرنا، شہرت دینا) استعمال کر نا شروع کیا،کانگریس کو خوب رسوا،بدنام کیا، اپنی پالیسیوں کا ڈھنڈورا پیٹا اور آج تو بی جے پی اس میں سب سے آگے ہے، مسٹر مودی کا بولا ہوا وہ جملہ کہ اب میں میڈیا کو مینج کروں گا آج میڈیا کو مینج کرنے میں مودی کا ہی ہاتھ ہے۔ سچ کو جھوٹ، جھوٹ کو سچ کرنے میں میڈیا دن رات ایک کئے ہوئے ہے،یہ ہے میڈیا کا کمال،2009 سے ہی سوشل میڈیا کے سب سے اہم ستون ٹیو ٹرTiwtter سے مودی جڑے ہوئے ہیں، جبکہ راہول گاندھی کو2015 میں اس کی افادیت(فائدہ) واہمیت کا احساس ہوا اور وہ اس سے جڑے پھر بعد میں اوربہت سے لیڈران بھی سوشل سائٹس پر ایکٹیو ہوئے۔ بی جے پی کا آفیشیل ٹیو ٹر اکاؤنٹ2010 سے ہی ایکٹیو ہے، اس کے علاوہ تمام ریاستی یو نیٹیں گاؤں گاوں تک سوشل میڈیا سے جڑی ہیں۔ جبکہ کانگریس 2013 سے اس پر آئی اور ابھی گاؤں تک اس کا دور،دور تک نام ونشان نہیں ہے۔بی جے پی اور کانگریس کے درمیان آسمان اور زمین کا فرق ہے۔تبھی تو ہمارے وزیر اعظم مودی جی،دہلی فساد کی آگ کو روکنے کے لیے امن کی اپیل ٹیو ٹر پر کرتے ہیں، عقلمند را اشارہ کافی است……چہ عقلمند است گنگ؟؟؟۔
اس میں کوئی شک نہیں کی جس طرح بی جے پی نے میڈیا کو مینج کیا ہوا ہے،دوسری پارٹیاں اس سے کوسوں دور ہیں۔ مودی حکومت کی سب سے پہلی توجہ انٹر نیٹ کی دنیا کو کنٹرول کرنے پر ہوتی ہے، کشمیر سے لیکر آسام تک دنیا دیکھ رہی ہے،اور آج مودی حکومت کے دور اقتدار میں 99٪ فیصد میڈیا مودی حکومت کے آگے سجدہ ریز ہے۔ جو سر پھرے قبضے میں نہیں آئے ان کو نوکری سے نکال دیا گیا یا ان کا بائیکاٹ کر دیا گیا پنئے پرسون باجپئی،ابھیشار شرما، ونود دواوغیرہ اس کی زندہ مثال ہیں اب بیچارے وہ یوٹیوب،فیس بک سے لائیو ہوکر مدھم آواز نکال رہے ہیں۔ یہ کتنی عجیب اور شرمناک و لیکن سچ بات ہے کہ 400 سے زائد چینلوں کے در میان اگر کسی نیوز چینل نے واقعی صحافتی ذمہ داری نبھانے کا بیڑہ اٹھایاہواہے تو وہ واحد چینل”این ڈی ٹی وی،ndtv“ہے،جسے بی جے پی اوراس کے فالوروں نے اچھوت بنایا ہوا ہے۔
گجرات فساد،دہلی فساد کردار ایک چہرہ ایک: گجرات فساد کے ہیرو اس وقت گجرات کے سی ایم تھے اور شاہ جی اس وقت وزیر داخلہ تھے، اب صرف اتنا بد لاؤ ہوا ہے مودی جی پی ایم ہیں اور شاہ جی وزیر داخلہ ہیں جو پہلے سے زیادہ پاور میں ہیں اور پاور کو کیسے استعمال کر رہے ہیں کہ عوام تباہ تباہ ہے۔ زر خریدمیڈیا جو مینج کیا ہوا ہے کے ذریعہ شرجیل امام دیش دروہی(دیش کا غدار) کپل مشرا،انوراگ ٹھاکر وغیرہ سب دیش بھگت،دیش پریمی، ایک بندوق بردار انوراگ مشرا کو شاہ رخ ثابت کرنے میں پوری طاقت لگا دی اور دہلی کے فساد کا پورا ذمہ دار بتا دیا اور ساری تباہی کا بھی، اور اس کو انکوائری کے جال میں ڈلواکر اس کو سرد خانہ میں ڈالدیا اسی کو کہتے ہیں۔ ؎ ؎ خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد ٭ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
حکومت نے دہلی فساد کی آڑلیکر سی اے اے کے خلاف چل رہے سارے دھرنوں کو ختم کردیا ہے اور منظم کرنے و الوں پر سنگین الزامات کی دفعات لگاکر سالوں سال عدالتوں کے چکر کاٹنے کے لیے لین میں لگادیا ہے اب صرف شاہین باغ کا احتجاج چل رہا ہے،آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے عدالتوں کا رویہ کیسا ہے سبھی جانتے ہیں اللہ خیر فر مائے،ظالموں کی پکڑ فر مائے آمین اسوقت سب سے ضروری ہے فسادسے متاثر ہوئے لوگوں کی مدد کی جائے،واٹس ایپ،فیس بک میں امدادی این جی اوز کی مدد کی خبریں مل رہی ہیں اور مدد کی اپیل کے ساتھ بینک اکاؤنٹ میں رقم ڈالنے کی بھر مار ہے دماغ کام نہیں کرتا کس کو رقم بھیجی جائے،بہر حال اگر مگر سے بہتر یہ ہے کی پرانی این جی اوز کی کار کردگی کو دیکھتے ہوئے انکو رقم بھیجی جائے۔ ملک کی بڑی تنظیمیں فسادیوں کے خلاف قانونی لڑائی میں مظلوموں کی مدد کریں اور ظالموں کو کیفر وکردار تک پہنچایا جائے۔قانونی لڑائی لڑنے والی تنظیموں کی مالی مدد حیثیت میں کروں گا ان شا اللہ،بلا تفریق مسلک ومشرب،مذہب وملت سب کا تعاون کیا جائے لیا جائے۔ مسجد جلانے والے،قرآن مجید جلانے والے کہیں فلاح نہیں پائیں گے اللہ کی پکڑ بہت مضبوط اور سخت ہے،ا للہ تعا لیٰ مظلومین کی مدد فر مائے سب کے غموں کو جلد سکون میں بدل دے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: