مضامین

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

محمد ہاشم اعظمی مصباحی* نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی

عالمی وبا کورونا وائرس( کووڈ ١٩)کی اس مہا ماری میں جہاں پوری کائنات انسانی نہایت ہی خستگی وشکستگی کے عالم میں معاش ومعیشت دونوں اعتبار سے اپنے بد ترین دور سے گزر رہی ہے وہیں ہماری ہندوستانی متعصب میڈیا نے زخم خوردہ قلب وذہن بلکہ زخمی جسم و روح پر نمک پاشی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ زمینی سچائی کو بیان کیا جاتا غریبوں مزدوروں اور ڈاکٹروں کی آواز بن کر قدم قدم پر حکومت کی ناکام پالیسیوں کو اجاگر کیا جاتا وقت کے حکمرانوں کو حقیقت کا آئینہ دکھا کر اپنی اصل بنیادی ذمہ داری کو انجام دیا جاتا لیکن برا ہو حرص وہوس کے ان پجاریوں کا کہ وہ اپنی حیثیت ہی بھول گئے اور کورونا وائرس جیسی خطرناک مہلک بیماری کو بھی مذہبی رنگ دینے کی فرعونی سازش کے تحت دن رات کام کر تے رہے اور یہ مذموم سلسلہ ہنوز جاری ہے تبلیغی جماعت پر ملک میں کورونا وائرس پھیلانے کے جھوٹے پروپیگنڈے کئے گئے اور اس بہانے پوری مسلم برادری کو بدنام کر کے اپنی ناپاک صحافت کا بد ترین ثبوت پیش کیا گیا میڈیا کی سازش اور اس کے درپردہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کی پر اسرار خاموش حمایت کا پردہ فاش کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولاناارشدمدنی نے بیان جاری کیا جسے ملک تقریباً تمام اخبارات نے بھی شائع کیا ہے کہ سینتالیس ملکوں کے 1640 غیر ملکی تبلیغی جماعت کے ارکان تھے ان میں سے دوکی موت اور چند کی رپورٹ مثبت کے علاوہ کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ مولانا مدنی نے محنت شاقہ کے بعد جمع اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغی جماعت میں مجموعی طور پر 1640غیر ملکی تھے، ان میں سے طبی جانچ میں تقریبا64کی رپورٹ مثبت آئی ہے جب کہ صرف دو غیر ملکی تبلیغی جماعت والوں کی موت واقِع ہوئی جن64جماعتیوں کی رپورٹ مثبت آئی تھی ان لوگوں کی رپورٹ بعد میں منفی آگئی یعنی سب تندرست ہو گئے۔ لیکن میڈیا نے پورے ملک میں کورونا وائرس پھیلانے کا تبلیغی جماعت پر جھوٹا الزام لگاکر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضا سازگار کی جس کی وجہ سے پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول قائم ہوا یہاں تک کہ جگہ جگہ ان پر حملے ہوئے، ماب لنچنگ ہوئی متعددافراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا مزید برآں بے چارے غریب سبزی اور پھل فروشوں کا بائیکاٹ کرکے نہ صرف ملک کے قانون کی دھجی اڑائی گئی بلکہ پوری دنیا میں ملک کو بدنام کیا گیااور حکومت خاموش تماشائی بنی رہی مولانا مدنی نے کہا کہ میڈیا اور حکومت نے کورونا سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے مسلسل کہا تھا کہ مجموعی طور پر اتنے کورونا کے متاثرین سامنے آئے ہیں جن میں سے تبلیغی جماعت والے کو کبھی، 20فیصد، کبھی 25فیصد، کبھی30فیصد بتایاگیا۔جب کہ جماعت والے ویڈیو جاری کرکے کہتے تھے ہمارا ٹسٹ کیا گیا اور سب کی رپورٹیں منفی آئی ہیں،اس طرح میڈیا ہی نہیں بلکہ کچھ صوبوں کے بڑے بڑے منسٹر بشمول چیف منسٹر بھی الگ سے نام پیش کرکے تبلیغی جماعت والوں کے بہانے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ذلیل کوشش کرتے رہے اور میڈیا اسے بڑھا چڑھاکر پیش کرتا رہا۔حکومت اور میڈیا کی اس کالے کرتوت پر بین الاقوامی تنظیم، عالمی ادارہ صحت، اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے لیکن حکومت اس وقت تک تبلیغی جماعت کا نام لیکر الگ الگ اعداد و شمار پیش کرتی رہی جب تک اس کا مقصد پورا نہیں ہوگیا۔جبکہ دنیا جانتی ہے کہ کسی بھی بیماری کا تعلق کسی بھی خاص مذہب وبرادری سے قطعی نہیں ہوتا ہے لیکن کورونا وائرس کو میڈیا نے حکومت کی سرپرستی میں مسلمان بنادیا اس طرح سے بات کا بتنگڑ بنایا جارہا ہے اورجنتاکو الوبناکر ان کا دھیان اصل مسئلے سے ہٹاکر دوسری طرف لے جایا جارہا ہے تاکہ عوام ان سے اصل مدعوں کے بارے میں سوال نہ کرے۔ میڈیا کے اس ناپاک متعصب رویہ نے سماج میں نفرت کا ایسا زہر گھول دیا ہے جو کہ ایک جمہوری اور سیکولرملک کے لئے انتہائی خطرناک ہے جب ملک کورونا سے لڑ رہا ہے اور ملک میں کروڑوں مزدور سڑکوں پر ہیں لاکھوں لوگ دانے دانے کو ترس رہے ہیں۔ایسے وقت میں میڈیا کا گھناؤنا کھیل بغیر منظم سازش اور حکومت میں بیٹھے لوگوں کے اشارے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مولانا مدنی نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے جمع کردہ اعداد شمار اس بات کی دلیل ہے کہ میڈیا نے کس طرح سے ایک خطرناک اورمہلک بیماری کو مذہبی رنگ دینے کے لئے پوری ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔ایسے لوگ جو ملک کو مذہبی فرقہ پرستی کی طرف لے جارہے ہیں وہ ملک کے کبھی بھی وفادارنہیں ہوسکتے بلکہ ملک کے غدار ہیں۔ اب معاملہ سپریم کورٹ میں بے مثبت نتیجہ آنے کی امید ہے کیونکہ یہ محض مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ملک کے اتحاد اور قومی یکجہتی سے جڑاہوا ہے ایسی گندی سوچ سے کسی مخصوص فرقہ اور طبقہ کانہیں بلکہ ملک اورقوم کا نقصان ہوتاہے اس پروپیگنڈے سے مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے کی مذموم حرکت کی گئی ہے جس کے نتیجے میں لوگ مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں، کہیں نہ کہیں اس طرح کے مذموم پروپیگنڈے کی وجہ سے اکثریت کے ذہنوں میں یہ گرہ مضبوط ہوگئی ہے کہ کوروناوائرس مسلمانوں کے ذریعہ پھیلائی گئی کوئی بیماری ہے۔ افسوس کہ چین سے چلتے ہوئے انڈیا تک پہنچتے پہنچتے کورونا کو ہندوستانی گودی میڈیاوالوں نے مسلمان بنادیا ہے یہ کس قدرمضحکہ خیز ہے مگر اس سے کہیں زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ لوگ اس طرح کے پروپیگنڈہ اور جھوٹ کو سچ سمجھ لیتے ہیں، میڈیا کے سلسلہ میں یہ کہاوت بالکل سچ ثابت ہورہی ہے کہ اتنا جھوٹ بولوکے جھوٹ بھی سچ معلوم ہونے لگے۔ ہندوستانی عوام کو درحقیقت اس ترتیب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹی وی وچینل خود ایسانہیں کررہے ہیں بلکہ اس کے پیچھے بعض نادیدہ وطن فروش غداروں کا دماغ کام کررہا ہے جن کی ہدایت پر یہ سب کچھ ہورہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ سب سرکارکی سرپرستی میں ہورہا ہے۔ غیرمنظم لاک ڈاؤن سے سرکارکی خامیاں اورناکامیاں سامنے آنے لگیں ہیں جن پر پردہ ڈالنے کیلئے اس وباکو مذہبی رنگ دیا جانا ضروری ہوگیا تھا فرقہ پرستوں کا یہ حربہ کامیاب رہا اور مسلمانوں کو پورے معاملہ میں ویلن بنا دیا گیا ۔ اگرسوچ کے تنگ دائرہ سے باہر نکل کر اورمذہب سے اوپر اٹھ کر ہم امن اتحاداور یکجہتی کے لئے اب بھی کام نہیں کریں گے تو آنے والے دنوں میں خودہمیں اپنا وجودسنبھالے رکھنا مشکل ہوجائے گا، اب وقت آگیا ہے کہ ملک کے ہر وفادار شہری کو ملک کی سلامتی امن واتحاد،یکجہتی اور بھائی چارے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ کو زندہ رکھنے کے لئے اپنے سردھڑ کی بازی لگادینی چاہئے یاد رکھئے زندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پر نہیں رہتیں بلکہ اپنے کرداروعمل سے حالات کا رخ پھیر دیا کرتی ہیں اور ملک کے موجودہ حالات میں ہم سب کو مل کر یہی کرنا ہے۔اس لئے کہ بقول غالب :
ہیں کواکب کچھ نظرآتےہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: