مضامین

دینی مکاتب کی ضرورت اور اہمیت

مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی

سرکاری پرائمری اسکول
بچہ خط (پتر) لکھ سکے۔ کچھ حساب جان جائے، جس سے روزی کمانے کے لائق ہوجائے۔ اور دوکان پر بیٹھے تو بہی کھاتہ ٹھیک رکھ سکے۔ یہ باتیں بچوں کو سرکاری پرائمری اسکولوں میں سکھائی جاتی ہیں، جن کی تعلیم کا مقصد ہی یہ ہے اور اسی مقصد کو سامنے رکھ کر ان کا نصاب بنایا گیا ہے۔
سرکار نے یہ بات صاف کردی ہے کہ نہ سرکار دینی اور مذہبی ہے، نہ اس کی تعلیم دینی اور مذہبی۔ سرکار دنیا کے کاموں کے لیے ہے۔ ملک کا انتظام ٹھیک ہو اور وہ ترقی کرتا رہے، یہ سرکار کا مقصد ہے۔ پس ا س کی تعلیم کا بھی یہی مقصد ہے۔ روحانیت، خدا شناسی اور خدا پرستی کی باتیں – خواہ وہ کتنی ہی ضروری ہوں – مگر سرکار ان کی ذمّہ دار نہیں ہے۔ یہ کام دین اور مذہب کے ماننے والوں کا ہے کہ وہ اپنے طریقہ پر دین و مذہب کی تعلیم دیں۔ بچوں کو خدا پرست اور دین داربنائیں۔
سرکار نے یہ بھی طے کر لیا ہے کہ شروع کی تعلیم -جس کو ”پرائمری تعلیم“ کہا جاتا ہے – وہ ہر بچہ کو لازمی اور ضروری طور پر دی جائے گی۔ ماں باپ خوشی سے بچوں کو پرائمری اسکول میں نہیں بھیجیں گے، تو وہ ان پر جبر کرے گی، مقدمے چلائے گی، ان کو سزائیں دلوائے گی اور بچوں کو تعلیم دلانے پر مجبور کرے گی۔
یہی ماننا چاہیے کہ سرکار کی نیت ٹھیک ہے کیوں کہ وہ یہ چاہتی ہے کہ ملک کا ہر ایک فرد- مرد ہو یا عورت- بے پڑھا نہ رہے۔ جہالت بہت بری چیز ہے، اُس سے ملک کی ترقی میں بھی فرق آتا ہے اور ملک بدنام بھی ہوتا ہے۔
سرکار یہ چاہتی ہے کہ بچوں کا دماغ اور ذہن ایسے سانچہ میں ڈھل جائے کہ ملک کی خیرخواہی ان کی فطرت بن جائے۔ ملک کی عزت ان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو۔ وہ اس پر قربان ہوجانے کو اپنی عزت سمجھیں۔ میل ملاپ ایسا ہو کہ بھارت کے تمام باشندے آپس میں ایک دوسرے کو بھائی بھائی جانیں۔ نہ ان میں اونچ نیچ ہو، نہ چھوت چھات، تاکہ جمہوریت کا جو اصل مقصد ہے وہ کامیاب ہو۔
بے شک سرکار یہ کسی سے نہیں کہہ سکتی کہ وہ اپنا مذہب چھوڑے، لیکن اگر مذہبی تعلیم نہ ہوگی، تو ظاہر ہے مذہب خود ہی چھوٹ جائے گا۔
مذہبی تعلیم کی ضرورت اور اہمیت
آخرت کے لحاظ سے مذہب چھوٹنے کا جو بھی وبال ہو، وہ اپنی جگہ ہے، دنیا کے لحاظ سے مذہب چھوٹنے کا وبال یہ ہے کہ جب خدا کا خوف دل میں نہیں رہتا، تو انسان جو کچھ بھی کر گزرے،کم ہے۔قانون انسان کی بری باتیں نہیں چھڑا سکتا۔ بہت سے بہت انسان کو اس پر مجبور کردیتا ہے کہ وہ بری باتیں کھلّم کھلا ّ نہ کرسکے۔ صرف خدا کا خوف ہی ایسی چیز ہے، جو انسان کے دل کو پاک اور اس کے اخلاق کو بلند کردیتا ہے۔ پس صرف اپنے مذہب کی خاطر نہیں؛ بلکہ ملک کی خیرخواہی کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اگر سرکار مذہبی تعلیم کی ذمّہ داری نہیں لے سکتی، تو یہ ذمّہ داری ہم خود اپنے اوپر لیں اور اپنے طور پر بچوں کی مذہبی تعلیم اور دینی تربیت کا انتظام کریں، تاکہ ہمارے بچے جب جوان ہوکر قوم اور ملک کا مستقبل اپنے ہاتھ میں لیں، تو جس طرح وہ قوم اور وطن کے خیرخواہ ہوں، ایسے ہی وہ مذہب کے پابند، معبود ِ حقیقی کے سچے پرستار، خلق ِ خدا کے ہمدرد، مہذب اور بااخلاق شہری ہوں۔ جن سے ملک کی شان بلند ہو اور وطن ِ عزیز امن و امان، محبت و انسیت کا قابل ِ فخر گہوارہ بن سکے۔
فریضہئ مسلم
مان لیجیے ہمارے پڑوسی ”برادران ِ وطن“ ان باتوں کا خیال نہیں کرتے، تب بھی ہمارے فرض میں کوئی کمی نہیں آتی، بلکہ ہمارے لیے اور ضروری ہوجاتا ہے کہ خلق ِ خدا کو خدا پرستی، روحانیت اور اعلیٰ اخلاق کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیں۔ اور بہت ہی اچھے کردار کا نمونہ پیش کرکے وہ فرض انجام دیں، جس کو اللہ کے کلام پاک نے مسلمانوں کا فرض منصبی اور نونہالان ِ اسلام کی زندگی کا نصب العین قرار دیا ہے۔ ارشاد ِ ربّانی ہے:
وَ کَذَالِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا
(سورہ بقرہ، آیت:۳۴۱،پ:۲)
”اور ایسے ہی (یعنی جس طرح بیت المقدس کے بدلہ میں روحانی ہدایت کا بہترین مرکز ”خانہئ کعبہ“ تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے، اسی طرح) ہم نے تمھیں سب سے بہتر اور نیک امت بنایا تاکہ تم تمام انسانوں کے لیے (خدا پرستی اور پاک بازی) کی گواہی دینے والے ہو (خوفِ خدا انصاف اور سچائی کا نمونہ پیش کرتے رہو) اور تمھارے لیے اللہ کا رسول گواہی دینے والا (اور ان اعلیٰ اوصاف کا نمونہ پیش کرنے والا ہو)۔“
کُنْتُمْ خَیْْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُوْمِنُونَ بِاللّٰہِ (سورہ آل عمران، آیت:۰۱۱،پ: ۴)
”مسلمانو! تم ایک ایسی بہتر امت ہو، جو تمام انسانوں کو (اصلاح و ہدایت کا نفع پہنچانے) کے لیے وجود میں آئی ہے۔ تم نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے ہو۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: