غزل

دیپ الفت کی مجھکو جلانا پڑا

غزل.
ازقلم.افتخار حسین احسن.
رابطہ نمبر 6202288565

دیپ الفت کی مجھکو جلانا پڑا.
کیا کہوں ہم سفر کو منانا پڑا.

خلد میں ہو مکاں ماں کی اک بات پر.
راستے سے مجھے لوٹ آنا پڑا.

بال بچوں کو بھوکا نہ دیکھا گیا.
عمر بھر باپ ہی کو کمانا پڑا.

میں ہوں پردیس میں اس لیے آج بھی.
عید تنہا ہی مجھکو منانا پڑآ.

پشت پر میرے خنجر چلاتا رہا.

مجھکو پودا وفا کا لگانا پڑا.

زخم اس نے دیا ہے مجھے اس قدر.
آج محفل میں سب کو بتانا پڑا.

روز کرتا تھا پردہ پہ تنقید جو.
آج ان کو بھی چہرہ چھپانا پڑا.

کس طرح سے ختم ہو وبا ملک سے.
یہ جبیں رب کے آگے جھکانا پڑا.

کس طرح اس کو حاصل ہو احسن خوشی.
دکھ ہمیشہ جہاں میں اٹھانا پڑا.
…………………………………..

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: