مضامین

رام جنم بھومی پوجن اور بھارتی مسلمان

پروفیسر ڈاکٹر محمد عبید اللہ صاحب قاسمی پروفیسر ذاکر حسین کالج دہلی

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمعیت علماءِ ہند اور دیگر تمام مسلم فریق اور ملک کے تمام مسلمان قابلِ ستائش ہیں اور اس بات پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے متحد ہوکر سپریم کورٹ میں بابری مسجد مقدمہ کی قانونی لڑائی بہت جرأت واستقلال، ثابت قدمی، انتھک محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور کامیابی کے ساتھ لڑی ہے. یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ عدالت میں فریقِ مخالف کا یہ مرکزی دعوی ثابت نہیں ہوسکا کہ بابری مسجد کو مندر توڑکر بنایا گیا ہے. فریقِ مخالف نے بہت زور لگایا اور ہر طرح سے کوششیں کیں مگر اس کے باوجود سپریم کورٹ میں اس کا دعوی ثابت نہیں ہوسکا. مسلمانوں کے لئے یہ بہت بڑی قانونی اور moral کامیابی ہے جو عدالت کے فیصلے اور دستاویزات میں ثبت ہوچکی ہے اور تاریخِ ہند اور تاریخِ عالم نے اسے ریکارڈ کرلیا ہے. یہ الگ بات ہے کہ اس کے باوجود کورٹ نے حتمی فیصلہ بابری مسجد کی زمین کو مندر تعمیر کے لئے حوالے کرنے کے لئے کیا.

مذکورہ بالا مسلم فریقوں کا یہ بھی انتہائی قابلِ ستائش اقدام رہا کہ انہوں نے بابری مسجد کے بارے میں مذاکرات کے نام پر رچی گئی سازش کو بھی ناکام بنادیا، وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے اور واضح طور پر انہوں نے بابری مسجد کی زمین کو مندر کے لئے دینے سے انکار کردیا. جبکہ فریقِ مخالف کی جان توڑ کوشش تھی کہ مذاکرات کے ذریعے مسلمانوں کی رضا ورغبت سے مسجد کی زمین بت خانے کے لئے حاصل کرلی جائے تاکہ اس کے ذریعے دنیا کو باور کرایا جاسکے کہ واقعۃً مسجد کو مندر توڑ کر بنایا گیا تھا ورنہ مسلمان اپنی رضامندی سے انہیں زمین ہرگز نہ دیتے، ہندو عوام کا جذباتی تعلق تعمیر ہونے والے مندر سے اسے حقیقی بتاکر قائم کردیا جائے، اس کی بنیاد پر آئندہ بڑے سیاسی فوائد حاصل کیئے جائیں اور مندر توڑ کر مسجد بنانے کے دعوے پر کوئی ثبوت نہ ہونے پر ہمیشہ کے لئے پردہ پڑجائے مگر الحمد للہ اس میں بھی انہیں کامیابی نہیں مل سکی اور عدالت میں اس دعوے کا کھوکھلاپن اور اس حقیقت پر پڑا پردہ پوری دنیا کے سامنے چاک ہوکر رہ گیا. غرضیکہ مذاکرات کی بجائے عدالت کا راستہ ہر اعتبار سے بہت مفید رہا.

اب جبکہ عدالتی فیصلے کے مطابق مندر تعمیر کا کام شروع ہوچکا ہے فریقِ مخالف عدالت کے فیصلے میں مرکزی دعوے اور اخلاقی بنیادوں میں شکست خوردہ ہونے کی وجہ سے اس کی کسک اور ذلت ہمیشہ محسوس کرتا رہے گا اور اکثریتی طبقے کی اکثریت کا جذباتی تعلق قائم کرنے میں ناکام رہے گا، پوری دنیا اس حرکت کو محسوس کرتی رہے گی اور دنیا میں اس پر بحثیں ہوتی رہینگی.

اس موقعے پر مسلمانوں کو مایوس اور اداس ہرگز نہیں ہونا چاہیے. انہوں نے غفلت وکوتاہی ہرگز نہیں کی ہے، اپنی بساط بھر کوشش کی ہے اور خانۂ خدا کو طویل قانونی لڑائی کے ذریعے حاصل کرنے کی جدوجہد کی ہے. یہ ساری چیزیں آسمان سے ریکارڈ کی جاچکی ہیں.

اس موقعے پر مسلمانوں کو استغفار کرنا ہے، اپنے گناہوں سے توبہ کرنا ہے، خدا کو راضی کرنے کا عہد کرنا ہے اور دین ودنیا دونوں میں ترقی حاصل کرکے خود کو بہترین قوم ثابت کرنے کا عزم کرنا ہے، باہمی انتشار سے اجتناب کرنا ہے اور ہر اس چیز سے بچنا ہے جس سے آپسی اتحاد کو نقصان پہنچے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: