مضامین

رزق کا وسیع مفہوم اور تنگ نظر سماج.

*زین العابدین ندوی* سنت کبیر نگر۔ یوپی

اللہ کی عطا کردہ ہر نعمت اور اس کی بخشی ہوئی ہر دولت رزق ہے،خواہ اس کا تعلق جسمانی صحت سے ہو یا قلبی اطمینان سے، کائنات میں پھیلی ہوئی رنگا رنگی و بو قلمونی سے ہو یا اندرون خانہ بہ حفاظت رکھے ہوئے سامان عیش وعشرت سے، علم کی کثرت سے ہو یا مال کی فراوانی سے الغرض ان سبھوں کا تعلق رزق سے ہی ہے، اور ان میں سے ہر ایک کا بہتر استعمال عمدہ عبادت ہے، لیکن ہمارے اس پڑھے لکھے جاہل سماج کا عالم یہ ہے کہ اس نے رزق کے وسیع مفہوم کو سمجھنے کے بجائے اس کے مراد ومعانی کو محدود کردیا ۔۔۔۔۔۔ اور اس کا تعلق ہر ایک سے جدا کرتے ہوئے صرف مال کی فراوانی سے مربوط کر دیا اور پھر کیا تھا وہی معیار عزت بھی بن گیا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہر کوئی اس کے حصول میں پاگل و دیوانہ ہوگیا، اور حرام وحلال کی تمیز کئے بغیر مقابلہ آرائی پر اتر آیا۔۔۔۔۔ اور پھر کیا تھا شرافت کو حماقت، ظلم کو انصاف، اور حسن اخلاق کو مجبوری کا نام دے دیا گیا۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: