اسلامیات

رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ

صلہ رحمی ایمان کی علامت ہے

]۸۲[ (۱) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہ ِ ا قَالَ: ”مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہ ِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہ ِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہ ِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِفَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ“۔ رواہ الْبُخَارِیُّ۔
(بخاری:۲/۶۰۹؛رقم:۸۳۱۶، ترغیب:۳/۶۲۲)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضو ر اقدس ا کا ارشاد ہے کہ: جوشخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ مہمان کا اکرام وعزت کرے، اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ بھلی بات بولے ورنہ خاموش رہے۔(بخاری)
صلہ رحمی: رزق، عمر اور محبت میں اضافہ کا ذریعہ ہے
]۹۲[ (۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہٗ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُ وْلَ اللہ ِ ا یَقُوْلُ: مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یُبْسَطَ لَہٗ فِیْ رِزْقِہِ، وَاَنْ یُنَسَّأَلَہٗ فِیْ اَثَرِہٖ فَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ. رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ والتِّرْمِذِیُّ وَلَفْظُہٗ: قَالَ: تَعَلَّمُوْا مِنْ اَنْسَابِکُمْ مَا تَصِلُوْنَ بِہٖ اَرْحَامَکُمْ، فَاِنَّ صِلَۃَ الرَّحِمِ مَحَبَّۃٌ فِی الْاَھْلِ مَثْرَأَۃٌ فِی الْمَالِ، مُنَسَّأَۃٌ فِی الاَ ثَرِ، وَقَالَ حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ.
(بخاری:۲/۵۸۸؛رقم:۵۸۹۵،مسلم:۲/۵۱۳؛ رقم: (۰۲ – ۷ ۵ ۵۲)، ترمذی:۲/۹۱؛رقم:۹۷۹۱،ترغیب:۳/۷۲۲)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا کا ارشاد ہے کہ:جس شخص کو اس بات سے خوشی ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور عمر دراز ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔
ایک روایت میں حضور اقدس ا نے فرمایا کہ: تم اپنے نسب کو اتنا ضرور سیکھو جس کے ذریعے اپنے خاندانی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کر سکو، کیونکہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا باہمی محبت بڑھنے کا سبب، مال کی کثرت وبرکت کا ذریعہ اور درازیئ عمر کا باعث بنتا ہے۔ (بخاری،مسلم)
بغاوت اور قطع رحمی کا دنیا میں بھی عذاب ہوتاہے
]۰۳[ (۳) عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا: ”مَامِنْ ذَ نْبٍ اَحْریٰ اَنْ یُعَجِّلَ اللہ ُ لِصَاحِبِہٖ الْعُقُوْبَۃَ فِی الدُّنْیَا مَعَ مَایَدَّخِرُ لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْبَغْیِ وَقَطِیْعَۃِ الرَّحِمِ“۔
(ترمذی رشید یہ:۲/۴۷؛رقم:۱۱۵۲،ابوداؤد:۲/۲۷۶؛رقم:۴۹۸۴،ابن ماجۃ:۰۲ ۳؛ رقم:۱۱۲۴، شعب الایمان:۵/۵۸۲؛ رقم: ۱۷۶۶، ترغیب:۳/۲۳۲،مشکوۃ:۰۲۴؛ رقم:۲۳۹۴)
ترجمہ:حضرت ابوبکرہ صسے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشادفرمایا ہے کہ: کوئی گناہ اِس بات کے زیادہ لائق نہیں ہے کہ حق تعالیٰ شانہٗ اُس کا اِرتکاب کرنے والے کو آخرت کی سزا کے ساتھ دنیا میں ہی سزادے سوائے دوگناہ کے:(۱)(بادشاہ وقت کے خلاف) بغاوت (۲) رشتہ توڑنا۔ (ترمذی،ابودؤد)
صلہ رحمی کی فضیلت
]۱۳[ (۴) عَنْ عَاءِشَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھَا عَنِ النَّبِیِّا قَالَ:اَلرَّحِمُ مُعَلَّقَۃٌ بِالْعَرْشِ تَقُوْلُ:مَنَْ وَصَلَنِیْ وَصَلَہُ اللہ ُ،وَمَنْ قَطَعنِیْ قَطَعَہُ اللہ ُ۔
(بخاری:۲/۶۸۸؛رقم:۹۸۹۵،مسلم واللفظ لہ:۲/۵۱۳؛ر قم:(۷۱-۵۵۵۲)، ترغیب: ۳/۹۲۲)
ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاسے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ: رشتہ داری عرش سے لٹکی ہوئی ہے اور کہتی ہے کہ: جو مجھ کو جوڑے گا (یعنی رشتہ داری کے حقوق ادا کرے گا) اُس کو اللہ جل شانہٗ (اپنی رحمت کے ساتھ) جوڑے گا، اور جو شخص مجھ کو توڑے گا (یعنی رشتہ داری کے حقوق ادا نہیں کرے گا) اللہ جل شانہٗ اُس کو (اپنی رحمت سے) جدا کرے گا۔ (بخاری،مسلم)
رشتے داروں کابدلہ چکا نا حقیقی صلہ رحمی نہیں
]۲۳[ (۵) عَنْ عَبْدِ اللہ ِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمَا عَنِ النَّبِیِّا قَالَ: لَیْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُکَافِیئِ وَلٰ کِنَّ الْوَاصِلَ الَّ ذِیْ اِذَا قُطِعَتْ رَحِمُہٗ وَصَلَھَا۔(بخاری واللفظ لَ ہٗ:۲/۶۸۸؛رقم:۱۹۹۵ ، اَبُوْدَاؤدَ:۱/۸۳۲؛ رقم:۴۹۶۱، ترمذی رشیدیہ: ۲/۳۱؛رقم:۸۰۹۱، ترغیب:۳/۱۳ ۲، مشکٰوۃ:۹۱۴؛ رقم: ۳۲۹۴)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا کا اِرشاد ہے کہ: حقیقت میں وہ شخص صلہ رحمی (اچھا سلوک) کرنے والا نہیں ہے جو بدلہ چکانے والاہو، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والاوہ شخص ہے کہ: رشتہ دار لوگ اُس سے اپنا رشتہ توڑ لیں تب بھی وہ اپنے قرابتداروں کے ساتھ اچھاسلوک کرے۔(بخاری،ابوداؤد،ترمذی)
ف: – مطلب یہ ہے کہ ایسے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلو ک کرنا جس نے اُس کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا ہو حقیقی معنیٰ میں صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ بدلہ چکانا ہے، حقیقی صلہ رحمی ایسے رشتے داروں کے ساتھ احسان و سلوک کا معاملہ کرنا ہے،جو خود اِس کی قرابت کا کوئی لحاظ نہ کرتے ہوں، اِس سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی کی بنیاد بدلہ چکانے پرنہیں بلکہ احساسِ حق شناسی اور حق ادائیگی پر ہے۔
دشمنی رکھنے والے رشتہ دار کو صدقہ دینے کی فضیلت
]۳۳[ (۶) وَعَنْ اُمِّ کُلْثُوْمَ بِنْتِ عُقْبَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھَا اَنَّ النَّبِیَّا قَالَ: اَفْضَلُ الصَّدَقَۃِ الصَّدَقَۃُ عَلٰی ذِی الرَّحْمِ الْکَاشِحِ۔رواہ الطَبرانی وابن خزیمہ فی صحیحہ والحاکم وقال صحیح علی شرطِ مسلم۔
(طَبرانی فی الکبیر:۴/۹۳۱؛رقم:۳۲۹۳، ترغیب:۳/۱۳۲)
ترجمہ:حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ:سب سے افضل وہ صدقہ ہے جو اپنے ایسے رشتہ دارکو دیا جائے جس نے دل میں دشمنی چھپا رکھی ہے۔ (طَبرانی،حاکم)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: