مضامین

رفاہ عام کی ڈگر سے اترتا ہوا ستیہ سائیں سنجیونی اسپتال

احمدقاسمی سیتامڑھی (بہار)

شہرت اور بلندی اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لئے بڑے پیمانے کردارسازی، محنت، بڑی قربانیاں، صبر اور جنون بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑی جد وجہد اور جفا کشی کے بعد انسان کسی مقام پر پہنچتا ہے جو شہرت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے اور اسی محنت کو جاری رکھنے یا مزید محنت کے بعد بلندی ملتی چلی جاتی ہے۔ انسانی بھیڑ میں موجود ہر فرد شہرت کی بلندی پر جانا چاہتا ہے مگر اسے موقع نہیں ملتا یا اس میں صلاحیت نہیں ہوتی یا ہمت نہیں ہوتی۔ اپنے آپ کو شہرت کا بلندی پر پہنچانے کا جنون کسی کسی فنکار میں اس قدر ہوتا ہے کہ وہ موت تک کو گلے لگا لیتا ہے۔
ہم بات کر رہے ہیں راتوں رات شہرت کی بلند ی پر پہنچنے والے ستیہ سائیں سنجیونی ہاسپیٹل نیا رائے پورکی جہاں پیدائشی طور پر دل میں سراخ سے متاثر بچے کے مفت علاج کا اعلان کیاگیا۔ میڈیا سمیت پوری دنیا نے اسپتال انتظامیہ کی اس ہمت اور حوصلہ کو سراہا اور حتی الوسع اس کی تشہیر کی۔ نتیجتاً صرف چند ماہ میں یہ اسپتال عالمی پیمانے پر شہرت اور ہمدردی پانے میں کامیاب ہوگیا۔ سچائی یہ بھی تھی کہ اس میں مفت علاج بھی شروع ہوگیا اور لوگ مستفیض ہونے لگے۔
بات اگر مفت علاج کی کی جائے تو یہ واقعی اہم ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اسپشلسٹ ہونے کے سبب یہ زیادہ توجہ کا مرکز بن گیا۔ انسان اپنے بچے کے لئے اپنا جان و مال، تن دھن سب کچھ لٹا دینا چاہتا ہے بس شرط یہ ہے کہ مناسب اور صحیح علاج ہو جائے اور جب بات اسپشلسٹ کی ہوتی ہے تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ جہاں تک بات مفت علاج کی ہیتو اس بیماری کے علاج میں لاکھوں روپے خرچ ہو تے ہیں جو غریبوں کے لئے جمع کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کتنے غریب توایسے بھی ہیں جن کے پاس ایک جھونپڑی اور اپنی جان کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا ہے اور انہیں اپنے بچے کی فکر ستا رہی ہوتی ہے، ایسے میں  اس اسپتال کی معنویت ساتویں آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمارا ملک صحت خدمات میں کتنا پسماندہ ہے، کسی سے چھپا نہیں ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں سفارش کے بغیر بہتر علاج نہیں ہوتا اور پرائیویٹ اسپتالوں میں لوٹ کی کھلی آزادی ہے۔ کمیشن کے لئے صرف جانچ کے نام پر ہزاروں روپے برباد کرا دئے جاتے  ہیں، لیکن حکومت اس لوٹ پر شکنجہ کسنے کی ہمت نہیں کر پاتی کیونکہ خود ناک تک بد عنوانی میں ڈوبی ہوتی ہے۔
میری 2 سال کی بیٹی بھی اس بیماری سے متاثر ہے جس کا علاج آئی جی آئی ایم ایس پٹنہ میں  چل رہا ہے، لیکن اسپسلشٹ ہونے کے سبب بڑی امید کے ساتھ اس اسپتال کا رخ کیا مگر میری امید اس وقت دم توڑ گئی جب اسپتال انتظامیہ کا بدلا ہوا رخ دیکھا۔ 1300 کیلو میٹر کا سفر کرنے کے بعد رائے پور میں ہی قیام کیا جہاں کا رہنا اور کھانا ہم جیسے غریبوں کے بجٹ سے باہرتھا پھر بھی بیٹی کا مسئلہ تھا جسے برداشت کرنا تھا۔ صبح 5 بجے آٹو ریزرو کرکے 30 کیلو میٹر کا سفر کرکے صبح 6 بجے اسپتال پہنچ گیا، پرچی کٹ گئی اور 8 بجے رجسٹریشن کا بھی نمبر آگیا۔ رجسٹریشن میں تقریباً 3گھنٹے لگے۔ جونیئر ڈاکٹروں نے رسمی جانچ کے بعد ڈاکٹروں کو دکھانے کے لئے 15 دن کے بعد کا ٹائم دیا۔ یہ سن کر میرے پاؤں کے نیچے کی زمین کھسک گئی۔کیونکہ اس ایک سفر پر میری پوری ایک مہینے کی تنخواہ ہضم ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود ایک ہی مہینے میں دوسری بار سفر کرنا جبکہ اہلیہ کی طبیعت بھی نا ساز تھی۔ ایک سفر کے بعد دوسرے سفر کی اس میں ہمت تھی اور نہ اس کی صحت اجازت دے رہی تھی۔ وہاں  کے دیگر ملازمین کا رویہ بھی انسانیت سے عاری لگ رہا تھا۔ کیونکہ جب میں تاریخ ملنے پر جونیئر ڈاکٹر سے بات کر رہا تھا اس درمیان میرے پیچھے کھڑے ایک ملازم نے انتہائی بھدریمارکس کیا جو ایک حساس انسان پر ناگوارگزرنا یقینی تھا۔ جس کے بعد میرا وہاں ایک لمحہ کے لئے رکنا بھی مشکل تھا اور میں ناکامی کے ساتھ افسردہ ہو کر واپس لوٹ گیا۔
غریبوں کے ساتھ اس سے بھدا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے کہ جو شخص ہزاروں کیلو میٹر کا سفر کرکے وہاں پہنچا ہے اسے ڈاکٹر سے ملنے کے لئے 15 دن کے بعد کا وقت دے رہے ہیں۔ اس صورت میں انسان وہاں ٹھہر سکتا ہے لیکن یہ انتہائی مشکل ہے کیونکہ 15 دنوں کی مزید چھٹی مل نہیں اور اگر مل جائے تو پیسہ کٹنا لازمی ہے۔ اسے بھی سہ لیا جائے گا مگر ستم بالائے ستم یہ کہ ہر دن کا خرچ تقریباً 1200 سے 1300 روپے کم سے کم طے ہے۔ اس حساب سے 15 دنوں میں تقریباً 20 ہزار روپے ضرور خرچ ہو جائیں گے، جو کہ اضافی اخراجات ہیں۔ اگر دوسری بار سفر کیا جائے تو تقریباً 10 سے 12 ہزار روپے خرچ ہوں گے ہی مگر بیوی اور بچے کو سفر کی صعوبتیں الگ جھیلنی پڑیں گی۔ کل ملا کر یہ ہے کہ اگر انہیں مفت علاج بند کرنا ہے تو انہیں اعلان کردینا چاہئے تاکہ یہاں کوئی اس امید سے نہ آئے مگر وہ ایسا نہیں کر سکتے شاید اس لئے کہ ان کی دکان بند ہو جائے گی۔ ٹرسٹ میں آنے والی رقم رک جائے گی اور شاید حکومت کی ہمدردی بھی ختم ہو جائے گی۔ اگر بات وقت لینے کی ہے توآن لائن اس کا انتظام ہونا چاہئے تھا جہاں ایک فارم بھرنے کے بعد مریض کو ایک متعینہ وقت دے دیا جاتا اور لوگ اپنے وقت پر ہی پہنچتے یا پھر موبائل کے ذریعہ۔ حد تو یہ ہے کہ ویب سائٹ پر جاری دو موبائل نمبر بھی آؤٹ آف سروس ہے جس سے کسی مدد کی امید نہیں کی جا سکتی ہے۔
میں جس نتیجہ پر پہنچتا ہوں وہ یہ ہے کہ شہرت کی بلندی پر پہنچنے کے لئے اس اسپتال نے جس شارٹ کارٹ کا استعمال کیا تھا اس میں کامیابی مل گئی ہے۔ اب سانپ بھی مارنا ہے، لاٹھی بچانی ہے تو کیوں نہ لوگوں کو اس طرح پریشان کیا جائے کہ لوگ آنا ہی چھوڑ دے اور مالی معاونین کو بھی خبر نہ ہو۔ بہانہ تو بنایا جا رہا ہے کہ بھیڑ بڑھنے کی وجہ سے ایسا کیا جا رہا ہے لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے۔سچ تو یہ ہے کہ وہ دھیرے دھیرے بنگلور میں موجود ستیہ سائیں ہارٹ ہاسپیٹل کے ڈگر پر چلنا چاہتا ہے جہاں پہلے اسی طرح کی سبھی سہولیات موجود تھے جو دن بدن کم ہوتے گئے اور آج آخری مرحلہ میں ہے۔ بنگلور اسپتال نے تقریباًاپنا رفاہی دروازہ بند کرہی دیا ہے اور آنے والے وقت میں ستیہ سائیں سنجیونی اسپتال بھی اپنا رفاہی دروازہ بند کردے گا کیونکہ انہیں جس شہرت کی بلندی تک پہنچنا تھا وہ پہنچ چکے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: