اہم خبریں

رفتار سے مایوس نہ ہوں! آہٹ سی آ رہی ہے کسی انقلاب کی !

فیاض احمد صدیقی

موجودہ دونوں ایوانوں سے پاس شدہ بل C A B،اور N R C نے ملک بھر میں ایک آگ سیاسی لگا دی ہے. ہر طرف ایک ہاہاکار سا مچ گیا ہے. بچے، بوڑھے، نوجوان، مائیں، بہن اور بیٹیاں ہر کوئی سڑکوں پہ نظر آ رہے ہیں. اتنی سخت ٹھنڈی ہونے کے باوجود یہ مظاہرے ہر روز بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں. جس بات کی پیشن گوئی معروف لیڈر جناب اسد الدین اویسی صاحب نے لوک سبھا میں کی تھی، اس کا ظہور ہر روز دیکھنے کو مل رہا ہے. راجدھانی دہلی کی مشہور یونیورسٹی "جامعہ ملیہ اسلامیہ” سے جو گلوگیر آواز اٹھی ہے، اس نے ہر امن پسند ہندوستانی کو جمہوریت کی بقا کے لئے بیدار کر دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے. خطہ ہند کا ہر گوشہ سراپا احتجاج ہے. ہر جانب سے Countiton of India کو بچانے کے لیے جان تک کی بازی لگا دینے کی باتیں سنائی دے رہی ہیں. بڑی خوشی کی بات تو یہ ہے کہ ان مظاہروں و احتجاجی جلسوں نے کہیں بھی مذہبی رنگ اختیار نہیں کیا ہے. جس کسی بھی ریلی میں اگر بات بھی کی گئی ہے تو وہ یہی اور اسی پہ زور دیا گیا ہے کہ ہندوستان ہر مذہب کے ماننے والوں کی مشترکہ ملکیت ہے. چاہے وہ ڈاکٹر کنہیا کمار کی ریلی ہو یا سماجی خدمت گار پپو یادو یا بھیم چیپ آرمی چندر شیکھر آزاد کی ہوں. مگر ان ساری باتوں کے ساتھ ساتھ پولیس انتظامیہ حکومت کے اشارے پر ہر لمحہ ان مظاہروں و احتجاجی پروگراموں کو دبانے کے لیے لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ فائرنگ کرنے و آنسو گیس کے گولے داغنے سے بھی گریز نہیں کر رہی ہے. اس وقت کئی ایک ایسے مسلم و غیر مسلم نام سامنے آئے ہیں، جنھیں پولیس نے حراست میں لے لیا ہے تا کہ یہ مظاہرے کسی طرح کم ہوں اور بل پر کوئی آنچ نہ آ سکے. لیکن ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کسی حکومت میں عام آدمی پریشان ہو جائے اور اسے اپنی جان کی پڑ جائے تو پھر عوام اس سرکار کی کرسی ہلانے کے ساتھ ساتھ پلٹا کر ہی دم لیتی ہے. جی! ایسے وقت میں اس پر قابو پانا بڑا مشکل مسئلہ بن جاتا ہے، جب تک کہ سرکار جنتا کی ہر مانگ نہ پوری کر دے. مگر اس حکومت میں یہ بھی بڑی مضحکہ خیز بات ہے کہ وزیراعظم و وزیر داخلہ مسئلہ کا کوئی حل نکالنے کے بجائے ریاست جھارکھنڈ میں ہو رہے الیکشن میں ووٹ بینکگ کے لیے پریشان ہیں اور ہر روز ریلیوں سے مخاطب ہو رہے ہیں. اپوزیشن پارٹیوں کے کئی ایک اہم نام جیسے : سونیا گاندھی، راہول گاندھی، غلام نبی آزاد، شرد پوار، ادھو ٹھاکر، اروند کیجریوال، ممتا بنرجی، اکھلیش یادو اور مایاوتی وغیرہ نے اظہارِ تشویش کیا ہیں. اور ان میں سے کچھ نے تو براہ راست راشٹر پتی سے ملاقات کر کے اس کالا قانون کے پیچھے پیدہ ہونے والے بھیانک خطرات سے بھی آگاہ کیا ہیں. _

اب تو کچھ تصاویر ایسی بھی وائرل ہو رہی ہیں، جن پہ کان دھر پانا ایک عام باشندہ کے لیے بڑا مشکل معلوم ہوتا دکھائی دیتا ہے. جی ہاں! اس میں وہی پولیس انتظامیہ جو مظاہرین پر بربریت کے لیے کسی بھی اقدام کو بجا لانے کے لیے تیار رہتی تھی، اس میں وہ بھی کالا قانون کے خلاف دھرنے پہ بیٹھے ہوئے دکھ رہے ہیں. شاید یہ بڑی تبدیلی اسی فعل کا نتیجہ ہو جس کے ذریعے نفرت کی نگری میں پھولوں کے ذریعے پیار و محبت کی شمعیں روشن کرنے کے ذریں اسباق سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات نے باشندگان وطن کو روشناس کرانے میں اہم رول ادا کیا ہے. راجدھانی دہلی اور اتر پردیش میں دفعہ 144/ نافذ ہو چکنے کے باوجود بھی ہو رہے مظاہرے اس جہت سے کافی اہم ہیں کہ دہلی پولیس مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام آتی ہیں اور رہی اتر پردیش کی بات تو یہاں بی _جے _پی راج ہی قائم ہے. ایسے وقت میں بھی عوام کے جوش و جذبات ہیں کہ وہ جمہوریت کی بقا کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں. جامعہ و علی گڑھ کے جیالوں نے جو آواز بلند کی تھی آج وہ ایک تحریک کی صورت میں تبدیل ہوتی چلی جا رہی ہے. ابھی گزشتہ دنوں اس بل کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کے لیے ملی و سول سوسائٹی تنظیموں کے افراد و دیگر مؤقر شخصیات نے "الائنس اگینسٹ سی _اے _ اے اینڈ این _ آر _ سی” کے نام سے ایک نیا قومی اتحاد تشکیل دیا ہے. ادتیہ ٹھاکر نے کہا ہے کہ : ” اب کمل پھول کھلنے نہیں دیں گے”۔ سپریم کورٹ کے سئینر ایڈووکیٹ محمود پراچہ نے بھی بروز جمعہ دہلی جامع مسجد سے زبردست احتجاج درج کرایا ہے اسی طرح سپریم کورٹ کے سابق سینئر وکیل نے بھی اسے دستور مخالف گردانا ہے. یقیناً اس مہم میں اسد الدین اویسی کی ہمت، عمران پرتاپ گڑھی کے جوش و جذبات ، چندر شیکھر کے حوصلے، کنہیا و عمر خالد کی محنت اور روش کمار کی صحافتی رول و تمام چھوٹے بڑے سیاسی و ملی اہم ناموں کی خدمات کو جتنا سراہنا دیا جائے شاید وہ کم ہوگا ۔

اس وقت پورا ہندوستان سلگ رہا ہے. مودی حکومت یہ چاہتی ہے کہ وہ نوجوان طبقے کو کسی طرح بس غیر ضروری مسئلے میں الجھا دے. لیکن اس مرتبہ اس کی ساری پلاننگ خود اس کے گلی کی ہڈی بنتی چلی جا رہی ہیں. وہ خود گھیرے میں آ گئی ہے اور ملک بھر کے باشندے اس سے جواب مانگ رہے ہیں. امت شاہ ہر روز پریس کانفرنس کرکے مسلمانوں کو یہ یقین دلا رہے ہیں کہ یہ بل کسی طرح بھی مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے،مگر عوام اب اس کی بات پہ قطعی یقین کرنے والے نہیں ہیں، کیونکہ اب اس کا دورنگی سنگھی نظریہ کھل کر سامنے آ چکا ہے. اب تو سوشل میڈیا کے توسط سے یہ خبر بھی سننے کو مل رہی ہے کہ امت شاہ اس کالے قانون پہ لوگوں کی رائے جاننا چاہتے ہیں. یاد رکھیں! امت شاہ یہ طریقہ بھی بس دھیان بھٹکانے کے لیے ایک حربہ کے طور پہ استعمال کرنا چاہتے ہیں تا کہ احتجاجات و مظاہرے کسی طرح کم ہوں. حالانکہ اسے یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ جمہوریت پہ یقین رکھنے والے افراد اس قانون کو کبھی بھی قبول نہیں کر سکتے ہیں. یقیناً صحنِ جامعہ و علی گڑھ سے ظلم کے خلاف جو چنگاری اٹھی ہے، اسے دیش بھر کی یونیورسٹیوں نے لو عطا کرکے شعلہ جوالہ بنا دیا ہے. سلام ہے ایسے طلبہ و طالبات پر کہ انھوں نے اس کے خلاف آواز بلند کرکے زبردست پہل کرنے کا کام کیا. اس وقت جب کہ ملک بھر میں بڑھتی بے روزگاری، فرقہ پرستی، مہنگائی اور اقلیتوں پہ ظلم و ستم کا دور دورہ ہے، اس کیب و این آر سی کے پیچھے سرکار یہ چاہتی ہے کہ کسی طرح عوام خصوصاً نوجوانوں کو بھٹکا کر اپنی ناکامیاں چھپا لی جائے. مگر اب تو تقریباً ہر باشندگان وطن اس کے مکر و فریب سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں کہ اس کا کام ترقی و ملک کی فلاح و بہبودی نہیں ہے بلکہ ہندو مسلم بھائی چارگی کو داؤ پر لگا کر کسی طرح مذہبی منافرت کی آگ بھڑکانا و آر ایس ایس و ساورکر کے نظریات کو اپنا کر ہندو راشٹر کی طرف پہل کرنا ہے. سوچیے ! یہ کتنی شرم کی بات ہے نا کہ ملک کے وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی یہ غیر ذمہ دارانہ بیان کتنا دھڑ لے سے دے دیتے ہیں اور دنیا بھر میں وطن عزیز پر لوگوں کو ہنسنے کا موقع فراہم کر جاتے ہیں کہ "دنگا فساد کون پھیلانا چاہتے ہیں، ان کے کپڑے دیکھ کر آپ پہچان لیں گے”. بھلا بتائیں تو سہی کہ کیا یونیورسٹی و کالجز میں تعلیم پا رہے طلبہ و طالبات دہشت گرد ہوتے ہیں؟ نہیں ___ایسا ہرگز نہیں… بلکہ یہاں کی مٹی سے تو انسان بنائے جاتے ہیں. ہاں! سچ تو یہ ہے کہ اس کی نظر میں دہشت گرد وہی ہوتا ہے جو اس کی ناکامی و بدعنوانی پر سوال اٹھائے. حالانکہ ہندوستانی جمہوریت اس کی بالکل اجازت فراہم کرتی ہے کہ ہم حکومت کی بدعنوانی پر پرامن طریقے سے انگشت نمائی کرکے راہ راست پر لانے کی سعی کریں. یہی وہ حق ہے کہ جس کی وجہ سے اس وقت قانون کے ماہرین و طلاب بھی اس کیب و این آر سی کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسے دستور مخالف قرار دے رہے ہیں.

خیر! ہر دن ہو رہے احتجاجات دھیرے دھیرے اپنا رنگ و مؤثر کن اثرات دکھا رہے ہیں. سرکار پر دباؤ بنتا جا رہا ہے. وزیر داخلہ ہر دن تقریباً پریس کانفرنس کر ہی لیتے ہیں اور اب تو عصری دانش کدوں کے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ مختلف خانقاہوں کے سجادگان بھی میدان عمل میں اتر کر دو ٹوک الفاظ میں اس بل کی مذمت اور نہ ماننے کی بات کر رہے ہیں. مگر افسوس تو اس بات پہ ہے کہ ابھی حکومت اپنی ایک نئی چال کے ذریعہ، یعنی بعض زرخرید ملاؤں و سجادگان کو اس بل کی حمایت میں بالکل الٹے سیدھے بیانات دلوا کر قوم مسلم کو بہکانے و گمراہ کرنے کا کام کر رہی ہے. ابھی اس حوالے سے حالیہ شائع شدہ اجمیر کے سجادہ نشین دیوان زین العابدین کا اعلان انتہائی شرمناک ہے. جس میں انھوں نے کہا کہ اس سے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے. یہ اعلان تو اسی کے مثل ہو گیا جیسے آپ مچھلیوں سے کہیں کہ :” مچھلیوں!!! میرے تالاب میں سانپ کے ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں، اس لیے میں تالاب سکھا رہا ہوں ___اس لیے تم گھبراؤ نہیں! تمھیں کچھ نہیں ہونے والا”۔ اسی طرح ملتی جلتی یہ خبر بھی مل رہی ہے کہ اس مہم میں محمود مدنی، مفتی عبد القاسم نعمانی، احمد بخاری، مولانا خالد رشید فرنگی اور کلب جواد وغیرہ کے نام بھی شامل ہیں. مگر ان لوگوں کو یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ ان بکاؤ مولویوں کی اب ہرگز کچھ نہیں چلنے والی ہے، دیش بھر کا نوجوان طبقہ اس بل کی مخالفت میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، چاہے انھیں جان تک کی بازی ہی کیوں نہ لگا دینی پڑ جائے، بس شرط صرف یہ ہے کہ یہ جوش و جذبے سرد خانے میں نہ جانے پائیں. یہ تو اس قوم کی بات ہے جس میں امام کی ایک غلطی پر امام کو برسرِ منبر ٹوکنے کا حق ہے، آج اسی قوم کے قائدین و سربراہان کی غلطیوں پر اگر ادب کے دائرے میں بھی کچھ سوالات کیے بھی جاتے ہیں تو سائل کو فوراً بےادب و گستاخ قرار دے دیا جاتا ہے. یہ بات ان حضرات کو ضرور یاد رہنی چاہیے کہ نئی نسل نے اس حقیقت کو اچھی طرح بھانپ لی ہے کہ ایسے نازک موڑ پر اگر کوئی قائد رسم شبیری ادا نہیں بھی کرتا ہے تو کوئی بات نہیں!____ہم خود ظلم و ستم اور جور و جفا سے مقابلہ کرنا جانتے ہیں. ہماری آنکھوں نے صلاح الدین ایوبی، ٹیپو سلطان اور سترہ سالہ مجاہد محمد بن قاسم کے قصے بھی پڑھی ہیں، کہ انھوں نے کیسے اور کس جرأت و ہمت کے ساتھ بغاوت کا مقابلہ کیا تھا . ہاں! ہمیں تو آگے بڑھنا ہے، کارواں خود بخود بنتا چلا جائے گا. اب تو انقلاب کی آہٹ سی بھی آ رہی ہے اور جامعہ ملیہ و علی گڑھ کی آواز ایک تحریک کی صورت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے. ایسے موقعوں پر تاریخ یقیناً ان سبھی حضرات کو قطعی نہیں بھلا سکتی ہے جنھوں نے اس کالے قانون کے خلاف میدان عمل میں اتر کر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور پولیس و آر ایس ایس کے غنڈوں کی طرف سے ملنے والے ظلم و ستم کو کھلے دل سے قبول کرکے بھارت کی مٹی سے اپنی سچی پیار و محنت کا ثبوت پیش کیا ہے.__

یقین مانیں! یہ میری زندگی کا پہلا اتفاق ہے کہ میں یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں. میں نے اپنی زندگی میں کبھی اس سے قبل اس قدر زور و شور کے ساتھ احتجاجات و مظاہرے ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ہے. ملک مظاہروں سے ایک عام سا باشندہ بھی اب تو بخوبی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ آزادی کے وقت ہمارے پروجوں و پرخوں نے ہماری قسمت سے انگریز غلامی کا قلادہ اتارنے کے لیے کس قدر محنت و جفاکشی کی ہوں گی . اسی طرح آج جس طرح مظاہرہ ہونے پر جگہ جگہ دفعہ 144 نافذ کرکے نیٹ سروس بلکل معطل کر دی جا رہی ہے اور پولیس بربریت کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہے، اس کے تحت کشمیری عوام پر ڈھائے گیے ظلم و ستم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے. ایسے موقعوں پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس ہندوستان کو دوبارہ سنگھی نظریات کے نذر ہونے سے بچا لیں اور جمہوریت کو دم توڑنے سے بچا لیں کہ ____

سبھی کا خون شامل ہے یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے ::::::::::::
Attachments area

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: