مضامین

رمضان المبارک توبہ اور مغفرت کا مہینہ

عبید الرحمن ایوبی کیرانوی متعلم دار العلوم ندوۃ العلماء،لکھنئو

اللہ تعالی نے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہماری تربیت کے لئے بنایا ہے اور اللہ تعالی نے اس ماہ مقدس کا اصل مقصد بیان فرمایا ہے کہ "اے ایمان والوں تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیساکہ تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے ” مذکورہ آیت کے آخر میں روزہ کی فرضیت کا مقصد بیان فرمایا ہے ( لعلكم تتقون ) یعنی تاکہ تمہارے اندر تقوی پیدا ہو جائے ۔ تقوی اس دنیا میں ہر مسلمان کی آخری منزل ہے، ہماری ساری جدوجہد، ساری کوششیں،ساری عبادتیں اور ساری بھاگ دوڑ اس لئے ہونی چاہیئں کہ ہم متقی بن جائیں ۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں جگہ جگہ ہمیں اس کا حکم فرمایا ہے، ارشاد ربانی ہے "اے ایمان والوں تقوی اختیار کرو ” ۔

تقوی اس بات کا نام ہے کہ آدمی کا دل میں اس بات کا احساس اور فکر پیدا ہو جائے کہ میں اللہ تعالی کا بندہ ہوں اور مجھے اللہ تعالی کے سامنے اپنے ہر فعل کا جواب دینا ہے، اگر میں اعمال صالحہ کروں گا تو مجھے اللہ تعالی کی طرف سے اس کا انعام ملے گا اور اگر برائی کے کام کروں گا تو اس کی مجھے سزا ملے گی ۔ یہ احساس جب دل میں جاگزیں ہو جاتا ہے اور صبح سے لیکر شام تک ہر کام میں انسان کو یہ فکر رہتی ہے تو اس کو تقوی کہتے ہیں ۔ درحقیقت اللہ تعالی ہمارے دل میں احساس پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ تم ہر وقت اللہ تعالی کے دربار میں ہو اور اس کے سامنے اسلیئے یہ خیال ہر وقت ذہن میں رہے کہ میں جو بھی کام کر رہا ہوں، اللہ تعالی اس کو دیکھ رہے ہیں اور مجھے اس کام کی جزا یا سزا ملے گی ۔

دراصل ہمارے ہر قول و فعل کو ریکارڈ کیا جارہاہے ہے اور اللہ تعالی فرما تے ہیں کہ ” جب قیامت میں پہنچو گے تو یہ حالت ہوگی کہ ” تمہارے نامئہ اعمال کھول کر تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا، اب اپنا نامئہ اعمال پڑھ لو،تم اپنا حساب کرنے کے لئے کافی ہو ” ۔
درحقیقت ہماری زندگی کی ایک ایک بات محفوظ ہے اور اسی بات کا احساس اللہ تعالی ہمارے دلوں میں پیدا فرمانا چاہتے ہیں اور اسی احساس کے پیدا ہوجائے کا نام تقوی ہے ۔ روزہ بھی درحقیقت مسلمان کے دل میں یہی احساس پیدا کرتا ہے کہ روزہ رکھنے کے بعد خواہ بھوک پیاس لگ رہی ہو، لیکن انسان کچھ نہیں کھاتا پیتا ہے ۔ کیونکہ اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ اگر میں تنہائی میں جاکر کچھ کھا پی بھی لوں اور کوئی مجھے دیکھ بھی نہ رہا ہو تو اللہ تعالی ضرور دیکھ رہا ہے ۔ اسلیئے بھوک پیاس سے کتنا ہی بے تاب ہو جائے لیکن اللہ تعالی کے خوف کی وجہ سے کچھ کھانا پینا گوارہ نہیں کرتا ہے اس کا نام تقوی ہے ۔
لیکن روزہ سے تقوی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالی کی خاطر کھانا پینا چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ان کاموں کو بھی چھوڑ دیا جائے جو اللہ تعالی نے حرام قرار دئیے ہیں کیونکہ اگر کھانا پینا تو چھوڑ دیا لیکن حرام کام نہ چھوڑا تو تقوی حاصل نہ ہوگا۔

حدیث میں آتا ہے کہ رمضان المبارک کا پہلا حصہ رحمت ہے، دوسرا مغفرت ہے اور تیسرا حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ ہے، اس لیے اس ماہ مقدس میں اللہ تعالی کی طرف رجوع کر لیں اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں سچی توبہ کرلیں کہ یا اللہ ہم اقراری مجرم بن کر آپ کے سامنے حاضر ہوئے ہیں، یہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے جس میں آپ رحمت کی ہوائیں چلاتے ہیں اور اس ماہ میں رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں اور جہنم کی آگ سے نکالا جاتا ہے، ہم آپ کی بارگاہ اپنی اور اپنے تمام مسلمان بھائیوں کی طرف سے توبہ کرتے ہیں ہماری توبہ قبول فرما لیں ۔ہر مسلمان ہر نماز کے بعد اللہ تعالی کی بارگاہ میں یہ درخواست پیش کرتا ہے ارشاد ربانی ہے ” اے اللہ ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کر لیا ہے اگر آپ ہماری مغفرت نہیں فرمائیں گے اور ہم پر رحم نہیں فرمائیں گے تو ہم بہت خسارے میں چلے جائیں گے ۔

اسی طرح ایک خاص عمل جس کا ہر مسلمان کو اس مامقدس میں اہتمام کرنا چاہئے یہ ہے کہ کچھ دیر پہلے اٹھ جائیں اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں نفل پڑھ کر اس وقت اللہ تعالی سے مانگیں کیونکہ اس وقت اللہ تعالی کی طرف سے ایک منادی یہ آواز لگاتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں ۔
موجودہ حالات میں میرے خیال میں آج ہم جن مصائب کا شکار ہیں وہ بھی اسی وجہ سے ہیں، آج کے دور میں شاید ہی ایسا کوئی شخص ملے جو سکھ اور اطمنان میں ہو،کرنا وائرس کی وجہ سے پوررے ملک میں یہی حال ہے، مجموعی طور پر دیکھیں تو ملک میں امن و امان نہیں ہے، سیاسی، معاشی حالات بھی ابتر ہیں، الغرض کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں امیدکوئی کرن نظر نہیں آتی ہے ۔ یہ صورتحال دراصل اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے لیے تازیانہ ہے۔ ارشاد ربانی ہے ” ہم لوگوں کو دنیا ہی میں بڑے عزاب سے پہلے چھوٹے عزاب چکھاتے ہیں تاکہ وہ واپس آجائیں” اور دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے کہ ” ہم بدحالی اس لئے بھیجتے ہیں تاکہ لوگ گناہوں سے توبہ کر لیں اور عاجزی اختیار کریں ” خلاصہ یہ کہ ہمارے اوپر آنے والے مصائب اورپریشانیاں اس حرام خوری کا وبال ہے جو ہم نے اختیار کر رکھی ہے ۔ اپنے گردوپیش پر نگاہ دوڑائیں تو یہی نظر آئےگا کہ روزہ رکھتے ہیں لیکن جب افطار کا وقت آتا ہے تو یہ نہیں سوچتے جس مال سے افطاری کر رہے ہیں مال کہاں سے کمایا چنانچہ حرام مال سے افطاری کیجاتی ہے ۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم توبہ واستغفار سے مصائب کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالی سے اپنا تعلق قائم کریں، بہت سی قومیں ایسی ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کے توبہ و استغفار کے وجہ سے ان سے عزاب ہٹا دیا، جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا ذکر فرمایا ہے کہ عزاب انکے قریب آچکا تھا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے عزاب دیکھ لیا تھا ۔ لیکن اللہ تعالی کی طرف سے توفیق ہوئی اور ساری قوم باہر نکل آئی اور اللہ تعالی سے روکر اور گڑگڑاکر توبہ کی تو اللہ تعالی نے ان سے عزاب ہٹا دیا ۔ اللہ تعالی سے توبہ واستغفار کرنا عزاب کو دور کر دیتا ہے ۔ میری آپ تمام حضراسے دراخواست ہے کہ میں اور آپ ہم تمام ملکر اس رمضان میں اللہ تعالی سے توبہ واستغفار کریں اور اپنے حالات کا جائزہ لیں اور اللہ تعالی کی بافرمانیوں سے اور بدعنوانیوں سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرے ۔ ایک گزارش یہ ہے کہ میں اور آپ تمام اپنا جائزہ لیں کیونکہ ابھی بھی وقت ہے، نہ جانے یہ مبارک مہینہ آئندہ سال کسی کونصیب ہوا اور کسی کو نصیب نہ ہوا، اس مہینہ کو اللہ تعالی کی نعمت سمجھیں اور اس کے لمحے لمحے سے فائدہ اٹھائیں اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ اس مہینہ میں ہمارے اندر تقوی اور اللہ تعالی سے جواب دہی کا احساس پیدا ہو رہا ہے یا نہیں؟ اگر پہلے یہ احساس تھا اور اس میں ترقی ہوئی ہے یا نہیں؟ ۔
کیونکہ اللہ تعالی نے یہ مقدس مہینہ ہمیں اس لئے عطا فرمایا تھا کہ ہمارے اندر تقوی پیدا ہو ۔ اگر یہ جائزہ لینے کے بعد یہ محسوس ہو کہ تقوی اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں جواب دہی کا احساس پیدا ہوا ہے، اور اللہ تعالی کی خشیت دل میں پیدا ہوئ ہے تو یہ مہینہ آپ کے لیے مبارک ہے ۔
لیکن خدا نہ کرے کہ رمضان المبارک کا مہینہ بھی نصیب ہوا اور ہم نے نہ تو حرام خوری چھوڑی اور نہ ہی ہمارے دل میں اللہ تعالی کے حضور جواب دہی کا احساس پیدا ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مہینہ میں ہم اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے، جیسے اس مہینہ سے پہلے گناہوں کی نجاستوں میں لت پت تھے اسی طرح اب بھی ہیں۔ اللہتعالی ہمیں اس سے محفوظ فرمائیں
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس مبارک مہینہ میں نماز کے ذریعے، راتوں کی عبادت کے ذریعہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کریں اور توبہ واستغفار کا اہتمام کریں اور اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق عطافرمائیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: