مضامین

رمضان اور ہمارے نظریات

محمد یاسین جہازی

خطیب الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب نور اللہ مرقدہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ
’’انسانی تہذیب و تربیت کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں: (۱) تخلیہ: یعنی نفس سے بری باتوں کو چھڑانا۔ (۲) تحلیہ: یعنی نفس میں اچھی باتیں پیدا کرنا۔ اور اسی کا دوسرا نام امر و نہی ہے۔ رمضان مین دن کے روزے کے ذریعہ مجموعہ تروک کے ذریعہ نفس کو مانجھا جاتا ہے اور رات کو اس صاف شدہ ظرف پر تلاوت و تراویح سے قلعی کی جاتی ہے، جس سے وہ چمک اٹھتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے ہمارے نفس کی تطہیر و تزکیہ کے لیے رمضان میں دن کو روزہ اور رات میں تراویح کا سسٹم مقرر کیا ہے۔ اس لیے ایک مومن ہمیشہ رمضان کا انتظار کرتا ہے ، تاکہ وہ اس مقدس مہینے کی برکت و سعادت سے فیضیاب ہوسکے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ
لو تعلم امتی ما فی رمضان لتمنوا ان تکون السنۃ کلھا رمضان
اگر میری امت کو رمضان کے خیرو برکت معلوم ہوجائے تو اس کی تمنا یہ ہوگی کہ ائے کاش پورا سال ہی رمضان بن جائے۔ صحابہ کرام اور اولیاء عظام کی سیرتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ رمضان کا شدت سے انتظار کرتے تھے اور کئی مہینے پہلے ہی رمضان کے استقبال کی تیاریاں شروع کردیتے تھے۔ استقبال رمضان کے تعلق سے خود حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ صحابہ کی مجلس میں اہمیت کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں کہ
ماذا یستقبلکم و ماذا تستقبلون؟
کون تمھارا استقبال کر رہا ہے اور تم کس کا استقبال کر رہے ہو؟ آخر حدیث میں اس کا راز بتاتے ہوئے سرورکائنات فرماتے ہیں کہ ایک ایسا مہینہ آرہا ہے ، جس کی پہلی رات کو ہی سب اہل قبلہ کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ اس ارشاد کو سننے کے بعد صحابہ رمضان کے استقبال کے لیے سراپا پرجوش ہوجاتے ہیں ۔ ؂
ماہ صیام پچھلے برس سے ابھی تلک
تو ہی بسا ہوا ہے دل بے قرار میں
دنیا کے طول و عرض میں لاکھوں کروڑوں لوگ
آنکھیں بچھا چکے ہیں تیرے انتظار میں
اور
ہورہا ہے مسجدوں میں رنگ و روغن آج کل
ہر طرف محراب و منبر پر نیا سا نور ہے
پوچھتے ہیں چاند سے گنبد و مینار بھی
رحمتوں کا وہ مہینہ ہم سے کتنا دور ہے
ایک مومن کی شان یہ ہے کہ اسے رمضان مقدس کے حوالے سے پرجوش اور سراپا استقبال ہوجانا چاہیے، لیکن وائے ناکامی! کہ ہم لوگ اس جذبہ سے محروم نظر آتے ہیں ۔ آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے بہت سے افراد استقبال تو دور ؛ رمضان کو ایک قید اور روٹین لائف کے لیے بوجھ سمجھتے ہیں ۔ بہت سے افراد اس سے آگے کی جرات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا ہمارے گھر میں کھانے کی چیز نہیں ہے ، جو روزہ رکھیں۔ کچھ لوگوں کو اپنے بارے میں یہ غلط فہمی ہے کہ ہم روزہ کی شدت برداشت نہیں کرسکتے؛ اس لیے روزہ ہی نہیں رکھتے۔ کچھ لوگ مسجد اور مسلم حلقوں سے دور رہتے ہیں تو اس وجہ سے روزہ نماز پر توجہ نہیں دیتے۔ کچھ لوگوں کا معمول یہ ہے کہ جس دن جی چاہا رکھ لیا، اور تراویح پڑھ لی۔ اور جس دن سستی آئی، دونوں کوچھوڑ دیا؛ خلاصہ کلام یہ ہے کہ رمضان ہمارے شوق و رغبت کے مطابق نہیں؛ بلکہ خواہش نفس کے مطابق گذرتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اس باعظمت اور برکت والے مہینے کی برکتوں اور رحمتوں سے محروم رہتے ہیں ۔ اور پورا رمضان گذرجانے کے باوجود نہ تو ہم اپنے نفس کا تخلیہ کرپاتے ہیں اور نہ ہی تحلیہ۔
اللہ تعالیٰ ماہ رمضان کا استقبال کرنے اور اس کے روزہ و تراویح ادا کرنے کی توفیق ارزانی کرے۔ آمین۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: