اسلامیات

رمضان صبر، رحم دلی کے ساتھ بیشمار اچھی باتیں سکھاتا ہے

مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی

رمضان المبارک ایمان والوں سے سچائی اور الله تعالیٰ کے یقین میں اضافہ کر کہنے اور کرنے کے فرق کو کم کرنے کیلئے کہتا ہے۔ سچ میں، الله کی روشنی محسوس کی جا سکتی ہے جب جب کوئی بنا کسی مذہبی بنیاد پر کسی کے درد اور ضرورت میں ساتھ دیتا ہے۔اسلام لفظ زبان ‘انالحق’ جو کہ ویدانتا سے ملتا جلتا لفظ ہے۔ اس کے معنی ہر مخلوق میں اس کے بنانے والے کو دیکھو اور ہر ایک کیلئے سچائی سے ان کی بہتری کے بارے میں سوچو۔جب ایک روزہ رار روزہ رکھتا ہےاور دن بھر کھانے پینے سے بچتا ہے تو وہ دل سے بھوکے پیاسے انسانوں کی پریشانیوں کو اتنا ہی سمجھتا ہے جتنا کہ کھانے پینے کی چیزوں کو اپنی زندگی میں۔ اس لئے لوگ رمضان المبارک میں عوامی افطار کا انتظام، زکوٰۃ دینا اور عوام کیلئے ٹھنڈے پانی کا انتظام کرتے ہیں۔ یہ سب سماجی ہم آہنگی اور پیارو محبت بڑھانے کیلئے کیا جاتا ہے، کیونکہ عوام کو پتہ ہیکہ سماج وہ سنہرہ باغ ہے جو چھاؤں، پھول، تازہ ہوا ور سکون دیتا ہے۔ رمضان المبارک ایمان والوں میں صبر اور مدد کرنے کی عادت ڈالتا ہے۔ جو بعد میں اسے پورے سال جاری رکھتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر عدم برداشت، بھائی چارہ اور امن کو فروغ ملتا ہے۔اس کی وجہ سے انتہا پسندی کے رجحان پر بھی روک لگتی ہے۔ رمضان المبارک دلوں میں رحمدلی بھر دیتا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں الله تعالیٰ کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے = رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں جو سب سے اہم واقعہ پیش آیا، وہ حق و باطل کے درمیان ایک عظیم معرکہ تھا،جو بدر کے مقام پر پیش آیا اور جس نے مجموعی طور پر مسلمانوں کے حالات پر بڑے مثبت اثرات مرتب کیے۔ ایک طرف انہیں سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی برتری نصیب ہوئی، دوسری طرف ان کی بہادری، شجاعت اور جواں مردی نے مدینے اور اس کے آس پاس موجود یہودی اور عیسائی قبائل کی شورشوں کو بھی دبادیا۔ اس کے ساتھ ہی ابو جہل سمیت نام ور روسائے قریش اور سردار اسلامی تیغِ جہاد کا لقمہ بن کر عبرت کا نشان بن گئے اور کفارِ مکّہ کا غرور و تکبّر خاک میں مل گیا۔ کفرواسلام کی اس پہلی باقاعدہ جنگ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن نے اس فتح عظیم کو ’’یوم فرقان‘‘ کے نام سے یاد کیا اور اللہ نے قرآن کی ایک سورت، سورۃ الانفال میں غزوئہ بدر کے واقعے کی تفصیل بیان کرکے اسے تمام غزوات میں امتیازی درجہ عطا فرمایا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: رمضان المبارک کے درمیانے دس روز باعث مغفرت ہیں۔ مغفرت کے معنی گناہوں کی بخشش ہے گویا جب اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کو پہلے دس دنوں کی رحمت کے بہانے سے اپنے دروازے پر آنے کی اجازت دے دیتے ہیں اس کی نظر کرم کا وہ بندہ مرکز بن جاتا ہے اس سایہ شفقت میں پناہ لے کر کچھ یاد اللہ شروع کر دیتا ہے اور اس کی رحمت کو جوش آتا ہے اور جوش رحمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ار صبح کا بھولا شام کو گھر آگیا ہے تو بھولا نہ کہیں۔ اس کو پچھلی خطائوں سے درگز فرمائیں، سو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف رفما دیتے ہیں گویا پچھلا نامہ سیاہ قلم زد ہوا اور یہ بھی صرف رمضان المبارک کی کرشمہ سازی ہے کہ اس کے ہر دن، ہر رات اور ہر ہر ساعت کے کچھ اپنے انوار ہیں جن سے ہر صاحب دل فیضیات ہوتا ہے یہ فضیلت بھی رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے کے حصہ میں نہ آئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی بھرپور تیاری کرنے اور اسکی سعادتوں والے ایام کو پاکر بھر پور نیکیاں کمانے کی توفیق دے… اور معبود برحق اس رمضان المبارک میں ہمیں توفیق دے کہ ہم ایسے اعمال کریں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری بخشش و مغفرت فرما کر ہم سے راضی ہو جائے :

*{آمین ثم آمین یا رب العالمین}*

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: