اسلامیات

رمضان میں اللہ سے اپنے گناہوں کو معاف کرا لیجیے

افادات : عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ
سلسلہ نمبر (8)

حضرت جبریل علیہ السلام نے ایسے شخص کے لئے ہلاکت کی بد دعا کی ہے جس نے رمضان کا با برکت مہینہ پایا اور اس مہینہ میں اس کو گناہوں سے معافی نہیں مل سکی . اس پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے آمین کہا. *ان جبرئیل عرض لی فقال بعد من ادرک رمضان فلم یغفر لہ قلت آمین (رواہ الحاکم)* حضور اکرم ص فرماتے ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آءے اور انھوں نے کہا کہ وہ شخص ہلاک ہو جائے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہیں ہو سکی. میں نے کہا آمین. ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے ہلاک و برباد ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے جس کو حضرت جبرئیل علیہ السلام کی بد دعا لگ جاءے اور جس پر حضور اکرم نے آمین کہ دیا ہو، اللہ ہماری اس سے حفاظت فرمائے آمین.

مگر ایک ایمان والے بندے سے یہ بات بعید ہے کہ وہ ایسی بد دعا کا مستحق بنے، کیوں رمضان میں قدم قدم پر مغفرت اور گناہوں کی معافی کا وعدہ ہے، جس نے رمضان کا روزہ رکھا اس کے لئے مغفرت کا وعدہ ہے، جس نے تراویح اور دیگر عبادتوں کے ذریعے رمضان کی راتوں کو زندہ رکھا، قیام لیل کیا اس کے لئے مغفرت کا وعدہ ہے، جس نے شب قدر میں عبادت کی اس کے لئے مغفرت کا وعدہ ہے، جس نے روزہ دار کو افطار کروایا اس کے لئے مغفرت کا وعدہ ہے اور جس نے دعا کی اس کی دعا کی قبولیت کا وعدہ ہے، ان سب کے باوجود اگر کسی کا گناہ معاف نہیں ہو سکا تو اس سے بڑا محروم کون ہوگا، اس سے محروم وہی ہو سکتا ہے جو رمضان آنے کے باوجود بغیر کسی عذر کے روزہ نہ رکھے اور نہ کوئی عبادت و کار خیر کرے.

لہذا اس مہینے میں ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ ان اعمال کو بجا لانے کے ساتھ کثرت کے ساتھ استغفار بھی کریں ، اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کے لئے دعا بھی مانگتے رہیں. سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس مہینہ میں کثرت کے ساتھ استغفار کرنے کا حکم دیا ہے، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا *واستکثروا فیہ من اربع خصال… و اما الخصلتان اللتان ترضون بھما ربکم فشھادۃ ان لا الہ الا اللہ و تستغفرونہ (رواہ ابن خزیمہ فی صحیحہ و البیہقی فی شعب الایمان)*

کثرت کے ساتھ استغفار کرنا یعنی اللہ سے گناہوں کی معافی مانگنا صرف گناہوں سے معافی کا طریقہ ہی نہیں بلکہ یہ اللہ کی محبوبیت اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے. اللہ تعالیٰ نے فرمایا *ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطھرین( سورہ بقرہ)* اللہ تعالیٰ زیادہ توبہ کرنے والوں اور زیادہ پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتے ہیں. اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمیں اپنی محبت، اپنی رضا اور اپنا قرب نصیب فرمائے آمین

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: