اسلامیات

رمضان میں عبادت میں سبقت لے جانے کی کوشش کیجئے

افادات : عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ
سلسلہ نمبر (26)

محض مال و دولت جمع کرنے کی غرض سے ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا اور صرف دنیاوی ساز و سامان حاصل کرنے کے مقصد سےایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا اللہ کی نظر میں نا پسندیدہ کام ہے، ہاں اگر کوئی عبادت، نیکی اور خیر کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ پاک کو بے حد پسند ہے بلکہ اللہ پاک نے ایمان والوں کو حکم دیا ہے کہ اس کے لئے دوڑ لگاؤ، باہم مقابلہ آرائی کرو اور دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو.

اللہ تعالیٰ نے فرمایا *(و سارعوا الی مغفرۃ من ربکم و جنۃ عرضھا السموات و الارض، اعدت للمتقین( سورۃ آل عمران )* اور تم اپنے رب کی مغفرت اور ایسی جنت کوحاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے جلدی کرو جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے، جو متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے. اور ایک جگہ فرمایا، *(و سابقوا الی مغفرۃ من ربکم و جنۃ عرضھا کعرض السماء و الارض. (سورۃ الحدید)* اللہ کی مغفرت اور ایسی جنت کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو جس کی کشادگی زمین و آسمان کی طرح ہے.

یہ ایمان والوں کے لئے ایک عمومی حکم ہے، نیکی اور خیر کا کوئی بھی کام ہو اور کوئی بھی وقت ہو، رمضان کا موقع ہو یا کوئی اور موقع ہو، یہ حکم ہمیشہ کے لئے ہے. لیکن خاص رمضان میں بھی عبادت کے لئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایمان والوں کو خصوصی حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ رمضان میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر عبادت کرنے اور عبادت میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو.

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے قریب ارشاد فرمایا : لوگو! تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آگیا ہے جو بڑی برکت والا ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں خاص طور پر تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی خاص رحمت نازل فرماتے ہیں ، گناہوں کو معاف فرماتے ہیں اور اس مہینے میں دعاؤں کو قبول کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں تمہارے نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کو دیکھتے ہیں اور فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتے ہیں ، لہذا تم اللہ کو اپنی نیکیاں ہی دکھاؤ ، بد نصیب ہے وہ شخص جو اس مہینے میں بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہ جائے ‘‘۔
*(عن عبادۃ بن الصامت رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال یوماً و حضرنا رمضان: اتا کم رمضان شہر برکۃ یغشا کم اللّٰہ فیہ فینزل الرحمۃ و یحط الخطایا ویستجیب فیہ الدعاء ینظر اللّٰہ تعالیٰ الی تنافسکم فیہ ویباھی بکم ملئکتہ فارواللّٰہ من انفسکم خیرا فان الشقی من حرم فیہ رحمۃ اللہ عزوجل( رواہ الطبرانی )*

لہذا ایمان والوں کو چاہیے کہ اس ماہ مبارک کے ایک ایک لمحہ کی قدر کریں اور اس ماہ مبارک میں جب بھی توفیق ملے زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے اور عبادت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی پوری کوشش کریں . اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: