اسلامیات

رمضان کا تعارف

مفتی شمیم احمد قاسمی . ناظم دارالعلوم الحنفیه ديوبند . واستادِحدیث وفقه جامعة الشيخ حسین احمد المدنی دیوبند

ارشادِ خداوندی ہے : شهر رمضان الذی انزل فیه القران هدی للناس وبینات من الھدی والفرقان فمن شہد منکم الشہر فلیصه. (البقرة:١٨٥)
رمضان کا مہینہ وہ( مہینہ) ہے جس میں نازل کیا گیا قرآن، جو ھدایت ہے لوگوں کے لئے ،اورجس میں روشن دلیلیں ہیں ہدایت پانے ، اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے کے لیے ،سوجو شخص اس مہینے میں موجود ہو اس کو ضرور اس میں روزہ رکھنا چاہیے۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ تمام آسمانی کتابیں اسی ماہِ مبارک میں نازل ہوئی ہیں ،حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ صحابی رسول حضرت واثله رضی الله عنه سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ صحفِ ابراہیم علیہ السلام رمضان کی پہلی تاریخ میں ،تورات رمضان کی چھٹی تاریخ میں ،زبور رمضان کی بارھویں تاریخ میں، انجیل اٹھارھویں تاریخ میں اور قرآن کریم 24تاریخ گزرنے کے بعد پچیسویں تاریخ میں نازل ہوا ؛نزول قرآن کی تاریخ میں دوسرے قول بھی ہیں ،تاہم اتنا نصِ قرآن سے ثابت ہے کہ قرآن کا نزول شب قدر میں ہوا ہے۔
(مسند احمد بن حنبل١٠٧/٤ ابن كثیر :بحوالہ معارف القرآن:۱/ ٤٤٨)
قرآن کریم کی آیات حسب موقع اور حسبِ ضرورت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلسل 23 برس تک نازل ہوتی رہیں، لیکن رمضان کے مہینے کی شب ِقدر میں یہ کتابِ ِعظیم مجموعی طور پر بیک وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے ۔انا انزلناہ فی لیلة القدر (القدر:۱) بیشک ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں اتارا ہے۔ انا انزلناہ فی لیلة مبارکة اننا کنا منذرین (الدخان:۳) ہم نے اس کتاب کو ایک برکت والی رات یعنی شب قدر میں اتارا ہے، ہم اس کے ذریعے آگاہ کرنے والے تھے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے تابی :
کوئی تو وجہ ہے کہ الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بے تابی کے ساتھ اس ماہ مبارک کا انتظار فرمایا کرتے تھے اور جب رجب کا مہینہ شروع ہوجاتا تو وفورِ شوق میں آپ کی زبان مبارک سے یہ دعائیہ الفاظ ادا ہونے لگتے: اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان و بلغنارمضان. ( المعجم الاوسط للطبرانی۱۳۹/۹) اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکتیں عنایت فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا دے ؛ جیسے ہی رمضان شروع ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا عالم دیدنی ہوتا ،خوشی اور مسرت کی اس کیفیت کا اندازہ ان الفاظ سے ہوتا ہے جو آپ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو مخاطب کرتے ہوئے ادا فرماتے : اتاکم رمضان سید الشہورمرحبا به و اهلا.(مسند الشامیین للطبرانی:٤٢٩/٦)
مہینوں کا سردار تمہارے پاس آ چکا ہے، ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں ۔
حضور اکرم صلی الله عليه وسلم کے دو تعارفی خطبے:
پہلا تعارفی خطبه: عن سلمان الفارسی خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی آخریوم من شعبان فقال :یاایہاالناس ! قداظلکم شہر عظیم مبارک، شہر فیه لیلة خیر من الف شهر ،شهر جعل الله صیامه فریضةو قیام لیلةتطوعا من تقر ب فیه بخصلة کان کمن ا دی فریضة فی ماسواہ و من ادی فریضة فیه کان کمن ادای سبعین فریضة فی ماسواہ وھو شہرالصبر، والصبر ثوابه الجنة وشھر الموا ساة وشهريزادفي رزق المؤمن فیه، من فطر فيه صائما کان مغفرۃ لذنوبه وعتق رقبته من النار وكا ن له مثل اجرہ من غیران ینقص من اجرہ شیء. قالوا : یا رسول الله! لیس کنایجد ما یفطر الصائم ،فقال رسول الله صلی اللہ علیه وسلم یعطی الله ھذا الثواب من فطرصاءماعلی تمرة او شربة ماء او مذقةلبن و ھو شہراوله رحمةواوسطه مغفرةوآخرہ عتق من النار من خفف عن مملوکه فیه غفرالله له واعتقه من النار(شعب الایمان للبیہقی:،معارف الحدیث :،ابن خزیمہ: ، مشکوۃ: ١٧٤، الترغیب :٩٤/٢)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک خطبہ دیا اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ا ے لوگو ! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو نےجا رہا ہے، اس مہینے کی ایک رات( شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس مہینے کے روزے الله تعالی نے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ الہی میں کھڑے ہونے( یعنی تراویح پڑھنے)کونفل عبادت قراردیا ہے (جس کابہت بڑاثواب رکہاہے) جو شخص اس مہینے میں اللہ تعالی کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سنت یا نفل) ادا کرے گا تو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابر ملے گا، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ، یہ ہمدردی اور غمخواری کامہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے ، جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لئے افطار کرایا تو اس کے لئے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا زریعہ ہوگااور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاگیا، یا رسول اللہ!( صلی اللہ علیہ وسلم) ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا ( تو کیا غرباء اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الله تعالی یہ ثواب اس کو بھی دیگا جو ایک کھجور پریا دودھ کی تھوڑی سی لسّی پر یا پانی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرادے، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلسلہ کلام جاری رکہتے ہوئے آگے ارشاد فرمایا : کہ جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلا دے،تو اس کو اللہ تعالی میرے حوض کوثر سےایسا سیراب کر ےگا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی تا آنکہ وہ جنت میں پہنچ جائےگا ۔
مزید آپ صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ، درمیانی حصہ مغفرت ،اور آخری حصہ آتشِ دوزخ سے آزادی ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جوآدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف و کمی کر دے گا توالله تعالی اس کی مغفرت فرما دے گا اور اسے دوزخ سے رہائی اور آزادی دےگا _(اسوہءرسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم : ۲٤٠)

دوسرا تعارفی خطبه : عن عبادةبن الصامت ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال یوما وحضرنا رمضان : اتا کم رمضان شھر برکة یغشاکم الله فیه فينزل الرحمة ويحط الخطايا ويستجيب فيه الدعاء ینظرالله تعالیٰ الی تنافسکم فیه ويباھی بکم ملاءکته فارواالله من انفسکم خیرا فان الشقی من حرم فیه رحمة الله عزوجل. (مسند الشامیین للطبراني:٦ /٤٢٩۔ الترغیب:)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : کہ رمضان کا مہینہ قریب تھا ،اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے پاس برکتوں کا مہینہ آرہا ہے ،اس ماہ مبارک الله تعالی ہمیں اپنے دامان رحمت میں ڈھانپ لے گا ، غلطیوں سے درگزر فرمائے گا ، اور تمہاری دعائیں قبول کرے گا ، اس لئے الله تعالی کو اپنی نیکیاں دکھانے کی کوشش کرو ، بڑا ہی بد نصیب ہے وہ شخص جو اس( رحمتوں اور برکتوں والے) مہینے میں بھی الله کی رحمت سے محروم رہ جائے:(رمضان کیا ہے ؟:۲۸۔رمضان نیکیوں کا موسم بہار:۲۰ )

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: