اسلامیاتمضامین

رمضان کا مہینہ رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے

از افادات : عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ

رمضان کا مہینہ رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے، اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بارش کی طرح برستی ہیں، ایک ایک عمل کا ثواب اس مہینے میں کئی گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے، اس طرح یہ مہینہ اللہ کی رحمتوں کو سمیٹنے اور ثواب کا ذخیرہ جمع کرنے کا مہینہ ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بڑا کرم اور احسان ہے کہ اس نے اس رمضان جیسے مہینے کو پانے کی توفیق مرحمت فرمائی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیں رمضان کی با برکت گھڑیاں نصیب ہوئیں، ورنہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اس رمضان سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے، جب اللہ جل جلالہ و عم نوالہ نے ہمیں اور آپ کو یہ مبارک گھڑی نصیب فرمائی تو ہمیں اور آپ کو چاہیے کہ اس رمضان کے ایک ایک لمحہ کی قدر کریں، اور ثواب حاصل کرنے کے جو بھی طریقے ہو سکتے ہیں ان سب کو اپنا کر نامہء اعمال میں ثواب کا ذخیرہ جمع کریں، نیز اس طرح روزہ رکھ کر نماز، تلاوت، ذکر اور دیگر عبادات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں. اگر ہم نے رمضان کے ان مبارک لمحات کی قدر نہ کی، ہم نے اپنے آپ کو اللہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق نہیں بنا یا اور یہ مہینہ یوں ہی غفلت میں گزر گیا تو بلاشبہ یہ ہمارے لیے انتہائی افسوس کا باعث ہوگا بلکہ حدیث کے مطابق جبرئیل ع نے ایسے آدمی کے لئے ہلاکت کی بد دعا کی ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس نے اس کو اپنے لئے مغفرت کا ذریعہ نہیں بنا یا.

اس مہینے کی کتنی اہمیت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم رجب کے مہینے سے ہی یہ دعا فرماتے تھے (اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا الی رمضان) اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان میں برکت دے اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری موت رمضان سے پہلے آجاءے اور ہم رمضان کا مہینہ نہ پا سکیں، اور حدیث میں ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کی تیاری رجب سے ہی شروع فرما دیتے تھے.

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا (فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ) جو شخص اس مہینے کو پاءے تو وہ روزہ رکھے، اور سرور کائنات احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ رمضان سے ایک دن پہلے صحابہ ء کرام کے سامنے تقریر کی، اس تقریر میں آپ نے رمضان کی فضیلت اور اہمیت بیان فرمائی تاکہ رمضان کی قدر و قیمت پہلے سے ہی ذہن نشیں ہو جاءے اور رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد سے کوئی لمحہ غفلت میں نہ گزرے

اس تقریر میں آپ نے فرمایا ( من تقرب فیہ بخصلۃ من الخیر کان کمن ادی فریضۃ فیما سواہ و من ادی فیہ فریضۃ کان کمن ادی سبعین فریضۃ فیما سواہ) جس نے اس مہینے میں کوئی نفلی عبادت کی گویا اس نے دوسرے مہینے کے اعتبار سے فرض ادا کیا اور جس نے اس مہینے میں فرض ادا کیا گویا اس نے دوسرے مہینے میں ستر فرض ادا کئے، اس جملہ کا خلاصہ یہ ہوا کہ اس مہینے میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر ملتا ہے،

لہذا ہم تمام ایمان والوں کو چاہیے کہ اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ سے زیادہ تقرب حاصل کرنے کی کوشش کریں اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس کی توفیق مرحمت فرماءے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: