اسلامیات

رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے

افادات : عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ
سلسلہ نمبر (22)

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان کے مہینے کو صبر کا مہینہ قرار دیا ہے. آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے. *و ھو شھر الصبر ،و الصبر ثوابہ الجنۃ(رواہ ابن خزیمہ)*

اس سے معلوم ہوا کہ روزہ کا الگ اجر ہے اور محض صبر کرنے کا الگ اجر ہے، اور جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے صبر کا مظاہرہ کرے گا تو اس کو یہ دونوں اجر دیئے جائیں گے. اور چونکہ روزہ میں خاص طور پر صبر کی ضرورت پڑتی ہے اس وجہ سے اس کو صبر کا مہینہ قرار دیا ہے.

صبر صرف مصیبت اور پریشانی کو برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ کے حکم کو کو بجا لانے میں جو مشقت محسوس ہوتی ہے اور نفس پر گرانی معلوم ہوتی ہے اس کو برداشت کرنا بھی صبر کہلاتا ہے. یہ صبر کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ ایک اعلی مقام کا نام ہے اور اس پر اللہ کی جانب سے بڑے انعامات کا وعدہ ہے اور یہ اسی بندہ کو حاصل ہوتا ہے جس کو اچھی قسمت ملی ہو قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا *و ما یلقھا الا ذو حظ عظیم(حم السجدۃ)* اور اس کی توفیق اسی کو ملتی ہے جو بڑے نصیبہ والا ہوتا ہے، تمام انبیاء کرام اللہ کے خاص اور مقرب بندے تھے اس وجہ سے ان کو یہ وصف حاصل تھا اللہ نے فرمایا *کل من الصابرین(الانبیاء)* "تمام انبیاء کرام صبر کرنے والے تھے”، اور اتنا ہی نہیں بلکہ صبر کرنے والوں کو اللہ کی محبوبیت نصیب ہوتی ہے قرآن پاک میں ہے *و اللہ یحب الصابرین(آل عمران)* اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں.

صبر کا بدلہ حدیث بالا میں جنت بتایا گیا ہے قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا *انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب (الزمر)* صبر کرنے والوں کو بلا حساب اجر دیا جائے گا اور فرمایا *و جزاھم بما صبروا جنۃ و حریرا (سورۃ الدھر)* اور ان کے صبر کی وجہ سے ان کو جنت اور ریشم کے کپڑے ملیں گے.

صبر پر ملنے والے ان انعامات کی وجہ سے ایمان والوں کو چاہیے کہ روزہ رکھنے میں اگر کچھ پریشانی اور دقت کا سامنا ہو تو اس کا بہانہ بنا کر روزہ کو ترک نہ کریں اور اگر روزہ رکھ لیا ہے تو گرانی محسوس نہ کریں اور نہ ایسا ہو کہ روزہ کی مشقت کی تاب نہ لا کر کبھی اس پر برس رہے ہیں اور کبھی اس پر برس رہے ہیں بلکہ مکمل طور پر صبر کا مظاہرہ کریں اور جب ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ روزہ کا اجر بھی عطا کریں گے اور صبر پر جو انعامات رکھے ہیں وہ بھی مرحمت فرمائیں گے، یعنی اللہ کا تقرب اللہ کی محبوبیت اور آخرت میں جنت نصیب ہوگی. اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی محبوبیت اور اپنی رضا نصیب فرمائے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: