اسلامیات

رمضان کے آخری جمعہ کی قدر کیجئے

افادات : عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ
سلسلہ نمبر (24)

رمضان کا آخری جمعہ بہت ہی قابل قدر ہے، اس کی جتنی قدر کی جاءے کم ہے اور اس دن کی قدر یہ ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت کی جاءے

اس آخری جمعہ کے قابل قدر ہونے کی کئی وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ یہ دن جمعہ کے فضائل رکھتا ہے. جمعہ کے دن کے بہت سارے فضائل احادیث میں بیان کئے گئے ہیں، ایک حدیث میں جمعہ کو دنوں کا سردار کہا گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا *ان یوم الجمعۃ سید الایام (مشکوۃ شریف)* بلا شبہ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے. اور ایک حدیث میں جمعہ کو عید بھی کہا گیا ہے *إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ (ابن ماجہ)* آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ عید کا دن ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے مقرر کیا ہے لہذا جو آدمی جمعہ میں آءے تو وہ غسل کر لیا کرے.

اس آخری جمعہ کے قابل قدر ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ جمعہ رمضان میں واقع ہونے کی وجہ سے رمضان کے فضائل لیے ہوئے ہے اور رمضان کے بہت سارے فضائل قرآن و حدیث میں بیان کئے گئے ہیں. سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان کے بارے میں فرمایا کہ *قد اظلکم شھر عظیم مبارک(بیھقی)* تمھارے سامنےایسا مہینہ آرہا ہے جو بڑی عظمت اور برکت والا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک حدیث میں رمضان کے مہینے کو تمام مہینوں کا سردار بتایا ہے *عن ابی سعید الخدری قال قال رسول اللہ ﷺ سید الشھور شھر رمضان واعظمھا حرمۃ ذوالحجۃ (بیھقی فی شعب الایمان)* حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ھیکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمام مہینوں کا سردار رمضان المبارک ہے اور تمام مہینوں میں زیادہ قابل احترام ذو الحجہ کا مہینہ ہے.

اس آخری جمعہ کے قابل قدر ہونے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ اخیر عشرہ میں واقع ہے اور رمضان کے ہم سے جدا ہونے میں اب چند ایام رہ گئے ہیں لہذا اب بچے کھچے دنوں کی جتنی قدر کی جاءے کم ہے، پتہ نہیں پھر اگلے سال رمضان کا یہ بابرکات مہینہ اور رمضان کا با برکت جمعہ نصیب ہو یا نہ ہو.

یہ نیت کرتے ہوئے اگر آج کوئی عبادتوں کا خصوصی اہتمام کرتا ہے تو وہ قابل ستائش ہے اللہ تعالیٰ ان کی عبادتوں کا اجر عطا فرمائیں گے، اس کو الگ سے کوئی تہوار سمجھنا یا تہوار کے طور پر منانا غلط ہے کیونکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس آخری جمعہ کے بارے میں الگ سے کوئی حدیث نہیں ہے اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے اس آخری جمعہ کے بارے میں کوئی خصوصی عبادت مروی ہے. اس لئے اس دن کو نہ تو کوئی خصوصی تہوار سمجھا جائے اور نہ تہوار کے طور پر منایا جاءے، ہاں اس روز رمضان کا با برکت مہینہ اور جمعہ کا مبارک دن سمجھ کر اور یہ سوچ کر کہ ایسا با برکت دن پتہ نہیں پھر نصیب ہو یا نہ ہو زیادہ سے زیادہ عبادت کی جاءے تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس کا ثواب ضرور مرحمت فرمائیں گے.

آخری جمعہ کے دن عبادت کے بارے میں لوگوں کو کنفیوژن رہتا ہے کہ آج کون سی خاص عبادت ہے جس کو کرنے سے زیادہ ثواب ملے گا، اس بارے میں طرح طرح کے نوافل اور ان کے پڑھنے کے خاص طریقے بتاءے جاتے ہیں ، اس سلسلے میں معلوم ہونا چاہئے کہ اس روز الگ سے کوئی خاص عبادت نہ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کی ہے اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے، لہذا کوئی خاص عبادت آج کے دن ہے ہی نہیں، ہاں اگر کوئی صلوۃ الحاجہ ، صلوۃ التوبہ، صلوۃ الاستغفار اور صلوۃ التسبیح وغیرہ پڑھنا چاہے تو منع بھی نہیں، جس کو جیسی نماز پڑھنی ہو پڑھے، کثرت سے عام نفل دس بیس رکعت یا سو رکعت پڑھ لے، دو چار دس پارہ کی تلاوت کرلے، کچھ دیر ذکر و اذکار کرتا رہے یا زیادہ سے زیادہ صدقہ کرے، جو عبادت سمجھ میں آءے کرے، رمضان ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہر عمل کا ثواب کئی گنا زیادہ کر کے عطا فرمائیں گے. اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک اور جمعہ کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: