اسلامیات

روزہ رکھنے والوں کے لئے پانچ خصوصی انعامات

افادات : عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ
سلسلہ نمبر (25)

رمضان المبارک کا مہینہ نہایت عظمت اور برکت والا مہینہ ہے ، اس مہینہ میں خاص طور سے روزہ رکھنے والوں کے لئے کئی طرح کے انعامات کا وعدہ ہے، ایک حدیث میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے روزہ رکھنے والوں کے لیے پانچ خصوصی انعامات کا ذکر کیا ہے، اور فرمایا کہ یہ وہ انعامات ہیں جو مجھ سے پہلی امت کے روزہ داروں کو نہیں دیا گیا ہے *(عن ابی ھریرہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اعطیت امتی خمس خصال فی رمضان لم تعطھن امۃ قبلھم( بیھقی)*

ان میں سے پہلا یہ ہے کہ روزہ رکھنے والوں کے منہ سے نکلنے والی بو اللہ کو مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ لگتی ہے، *(خلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک)* کسی کے منہ کی بو کا اچھا لگنا اس سے محبت کی علامت ہوتی ہے. جس کو کسی سے محبت ہوتی ہے اس کی ہر ادا اچھی لگتی ہے یہاں تک کہ اس کے منہ سے نکلنے والی بو بھی اچھی لگتی ہے، گویا یہ اس بات کی علامت ہے کہ روزہ رکھنے والے اللہ کی نظر میں محبوب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے منہ کی بو اللہ کو مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ لگتی ہے.

دوسرا انعام یہ ہے کہ روزہ رکھنے والے جب تک افطار نہ کر لیں تب تک مچھلیاں ان کے گناہوں کی معافی کے لئے دعائیں کرتی رہتی ہیں *(و تستغفر لھم الحیتان حتی یفطروا)* مچھلیوں کا دعا کرنا اس بات کی علامت ہے کہ روزہ رکھنے والوں سے محبت مخلوقات میں بھی عام ہو جاتی ہے یہاں تک کہ خشکی میں رہنے والے جانوروں سے آگے بڑھ کر سمندر کی مچھلیاں بھی ان کے حق میں دعائیں کرنے لگتی ہیں، ایک دوسری حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتے ہیں کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں،لہذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر جبرئیل علیہ السلام اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتے ہیں ، لہذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر آسمان والے فرشتے اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس کے بعد زمین والوں کے دلوں میں وہ مقبول کر دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف)

تیسرا انعام یہ ہے کہ روزہ رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ جو جنت عطا کریں گے روزانہ اس کو سجاتے رہتے ہیں اور جنت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ جلد ہی میرے نیک بندے دنیا کی مشقتوں کو اپنے اوپر سے ہٹا کر تیرے پاس آنے والے ہیں *(ویزین اللہ عز و جل کل یوم جنتہ ثم یقول یوشک عبادی الصالحون ان یلقوا عنھم المؤنۃ و یصیروا الیک)* اس سے معلوم ہوا کہ روزہ دار کو جو جنت ملے گی اس کو مرنے کے بعد یا قیامت کے دن تیار نہیں کیا جاءے گا بلکہ ابھی روزہ رکھنا شروع کیا اور ابھی سے جنت کو سجانا شروع کر دیا جاتا ہے.

چوتھا انعام یہ ہے کہ روزہ داروں کو گناہوں سے بچانے کے لئے سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے تاکہ ماہ رمضان میں ان گناہوں سے وہ محفوظ رہیں جو رمضان کے علاوہ میں ان سے ہو سکتے تھے *(و تصفد فیہ مردۃ الشیاطین فلایخلصوا فیہ الی ما کانوا یخلصون الیہ فی غیرہ)* یہ بھی روزہ رکھنے والوں کے ساتھ اللہ کا بڑا فضل ہے.

پانچواں انعام یہ ہے کہ رمضان کی آخری رات میں ان کے گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے، اس پر صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ کون سی رات ہے جس میں ان کے گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے یہ شب قدر ہے کیا، آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ یہ مزدور کی مزدوری ہے جو کام پورا کرنے پر اس کو دی جاتی ہے *(و یغفر لھم فی آخرہ، قیل یا رسول اللہ ا ھی لیلۃ القدر، قال لا، و لکن العامل انما یوفی اجرہ اذا قضی عملہ (رواہ البیھقی)*

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے اور ان تمام انعامات کا مستحق بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: