اسلامیات

روزے کا احترام

محمد یاسین جہازی

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ : من لم یدع قول الزور والعمل بہ ، فلیس للہ حاجۃ ان یدع طعامہ و شرابہ (بخاری، باب من لم یدع قول الزور)
و عنہ ان رسول اللہ ﷺ قال : الصیام جنۃ ، فاذا کان احدکم صائما، فلا یرفث ولا یجھل فان امرء قاتلہ او شاتمہ، فلیقل : انی صائم، انی صائم (موطا امام مالک، باب جامع الصیام)
سامعین کرام! جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے کہ ماہ رمضان میں غیر رمضان کی بنسبت تین طرح کی تبدیلیاں کی جاتی ہیں: (۱) تکوینی نظام میں تبدیلی۔ (۲) اعمال کے ثواب میں اضافہ۔ (۳) روزہ مرہ کے معمولات اور عبادات میں تبدیلیاں۔ پہلی دونوں باتوں کے حوالے سے گذشتہ جمعہ میں بات ہوچکی ہے۔ آئیے آج تیسری تبدیلی کے تعلق سے گفتگو کرتے ہیں۔
محترم حضرات! عام دنوں کے مقابلے میں رمضان کے روز مرہ کی عبادات میں بھی تغیر وتبدل ہوتا ہے اور معمولات میں بھی فرق آتا ہے۔ اسی طرح عام دنوں کے مقابلے میں ماہ رمضان میں افعال و اقوال کے تعلق سے بھی ہماری ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ عبادات میں تبدیلیاں یہ ہوتی ہیں:کہ(الف) تراویح کی نماز پڑھی جاتی ہے۔(ب)نماز وتر جماعت سے ادا کی جاتی ہے۔(ج) آخر عشرے کا اعتکاف کیا جاتا ہے۔(د) تراویح میں پورا قرآن سننے اور سنانے کا بہت زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے۔اور معمولات میں تبدیلیاںیہ ہوتی ہیں کہ(الف) دن میں کھانے، پینے اور جماع کرنے سے رکا جاتا ہے۔(ب) افطاری کی جاتی ہے۔(ج) سحری کا کھانا کھایا جاتا ہے۔(د) سونے جاگنے کا شیڈول بھی بدل جاتا ہے۔یہ وہ باتیں ہیں ، جو ہمارے لیے ایک گونہ غیر اختیاری ہیں ، یعنی ہم چاہیں یا نہ چاہیں ، ان تبدیلیوں سے ہم کو گزرنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر دن میں کھانے پینے سے روکنا ضروری ہے، اس کے بغیر ہمارا روزہ ہی صحیح نہیں ہوگا؛ لہذا یہ ہمارے لیے غیر اختیاری ہے ؛ لیکن اگر آپ افطاری نہ کریں اورسحری نہ کھائیں ، تو بھی آپ کا روزہ ہوجائے گا ، آپ کے لیے یہ دونوں کام واجب نہیں ہیں ؛ لیکن پورا مہینہ آپ سحری نہ کھائیں اور افطاری نہ کریں، ایسا کرنا دشوار ہوگا؛ لہذایہ افعال ہمارے لیے ایک حد تک غیر اختیاری ہیں۔
عبادات و معمولات کے علاوہ دو اور چیزیں ہیں، جو سراسر اختیاری ہیں ، جن کا کرنا نہ کرنا مکمل ہمارے کنٹرول میں ہیں۔ اور روزہ کی تکمیل اور اس میں کمال پیدا کرنے کے لیے ان سے بچنا نہایت ضروری ہیں۔ اگر ان سے نہیں بچتے ، تو مسئلے کی رو سے اور شکل کے اعتبارسے آپ کا روزہ تو ہوجائے گا ، لیکن صحیح معنی میں ثواب و نتیجہ مرتب ہونے کے اعتبار سے وہ روزہ نہیں ہوگا۔ ان میں سے پہلی چیز ہے کہ: روزوں کو شہوانی، شیطانی اور درندگی والے اقوال و افعال سے پاک رکھا جائے؛ کیوں کہ یہ چیزیں نفس انسانی کو اخلاق رذیلہ پر ابھارتی ہیں اور اسے بہیمیت کی طرف لے جاتی ہیں ، یہ روزوں کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے ، کیوں کہ روزہ کا بنیادی مقصد تقویٰ و پرہیز گاری پیدا کرنا اور نفس کے اندر موجود قوت شہویہ کو زیر کرنا ہے اور یہ چیزیں قوت شہویہ کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : من لم یدع قول الزور والعمل بہ ، فلیس للہ حاجۃ ان یدع طعامہ و شرابہ کہ جو شخص جھوٹ بولنااور جھوٹی باتوں پر عمل کرنا نہ چھوڑے ، تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی قدر نہیں ہے۔ یاد رکھیے ایک طرف حدیث قدسی ہے کہ روزہ میرے لیے ہے میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کہ ، کیوں کہ اس نے کھاناپینا اور خواہشات کو میری خاطر چھوڑا اور دوسری طرف یہ ارشاد ہے کہ اللہ کو اس کی بھوک اور پیاس سے کوئی سروکار نہیں، معلوم ہوا کہ روزہ میں لایعنی باتوں سے بچنا، جھوٹ، غیبت، چغل خوری ، لڑائی جھگڑااور ہر برے اعمال سے بچنا ضروری ہے ، ورنہ پھر روزہ کا کوئی فائدہ ہی حاصل نہیں ہوگا۔
اور اگر ایسا ہوتا ہے کہ آپ ان برائیوں سے بچنا چاہتے ہیں ، لیکن آپ کا ساتھی ان باتوں پر مجبور کرتا ہے ، تو ایسے وقت میں نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کو سینے سے لگالیجیے کہ الصیام جنۃ ، فاذا کان احدکم صائما، فلا یرفث ولا یجھل فان امرء قاتلہ او شاتمہ، فلیقل : انی صائم، انی صائم
روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کوئی روزہ سے ہو، تو بے حیائی کی باتیں نہ کرے اور نہ ہی جہالت کی باتیں کرے ۔ اگر کوئی شخصے لڑے یا گالی دے ، تو ایسا نہ کرے کہ جواب میں لڑنے اور گالی دینے لگے ؛ بلکہ اس کے بجائے یہ کہہ دے کہ دیکھو بھائی ، میرا روزہ ہے ، میں روزے سے ہوں۔
دوسری چیز ہے :ایسی چیزوں سے بھی بچنا ضروری ہے ، جو روزہ توڑنے کی دعوت دیتی ہے، چنانچہ بلا ضرورت کسی چیز کو چبانا، منہ میں تھوک جمع کرکے نگلنا، ٹوتھ پیسٹ اور منجن وغیرہ سے دانت صاف کرنا، تمام دن حالت جنابت میں گذاردینا، بیوی سے دل لگی کی باتیں کرنا، جس سے جماع یا انزال کا خوف ہو، عورت کا ہونٹوں پر اس طرح سرخی لگانا کہ پیٹ میں جانے کا اندیشہ ہواور اس طرح کے تمام کام مکروہ ہیں۔ ان سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ ارشاد نبوی ہے : افطر الحاجم والمحجوم (بخاری، باب الحجامۃ والقئی للصائم) پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا، یعنی ٹوٹنے کے قریب ہوگیا ، کیوں کہ ممکن ہے کہ خون چوستے وقت پیٹ میں چلایائے یا خون نکلنے کی وجہ سے کمزوری لاحق ہوجائے اور روزہ توڑنے کی نوبت آجائے۔ روزے کو اس کے تقاضے کے ساتھ پورا کرنے کے لیے ان باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: