مضامین

رونے والے تجھے رونے کا سلیقہ ہی نہیں

ڈاکٹرراحتؔ مظاہری

وزیراعظم مودی کواپنی تعریف خوری کاشوق، تصنع، بناوٹ،غیرملکی سیاحت، بڑے لوگوںکے ساتھ فوٹوکھنچوانے،کسی نہ کسی بہانے سرخیوںمیں رہنے کے شوق اوران کی فطری کمزوریوں سے ہندوستانی عوام روزشن کی طرح واقف ہوچکے ہیں ، ان کے لفظوں میں’’شہزادے،، نے تقریباََ ایک مہینہ پہلے ہی یہ پیشین گوئی کردی تھی کہ کہ ’’مودی کسی وقت رونے کاڈھونگ بھی کرسکتے ہیں،، توواقعی اس لڑکے کی بات اسوقت درست ثابت ہوئی کہ جب مودی نے تقریباََ ایک ڈیڑھ ہفتے تک مسلمانوںکو الٹے سیدھے بہانے کوستے رہنے کے بعد جب انتخابی مرحلوںمیں اپنی کشتی کوڈوبتے یعنی بی جے پی کوشکست کاسامناکرتے محسوس کیاتو اپنے سیاسی دوست پلٹورام، بہارکے موجودہ وزیراعلیٰ کی ڈگرپراپنے تمام گناہوںپرپردہ ڈالنے اورہندوستانی میڈیا، اپنے سیاسی حریفوںکوجھٹلانے اورمسلمانوںکوبے وقوف بنانے کے لئے جھوٹے گھڑیالی آنسوبہانے شروع کردئے، مگرسب جانتے ہیں کہ موصوف گجرات سے ہی اس تاج وتخت تک مسلمانوںکی لاشوںپرہی چل کرآئے ہیں ،مسلمانوںکوکوسنا، کاٹناتواس فردکی زندگی کے لئے سنجیونی بوٹی یاپارس کاپتھرہے، وہ اسے کیسے تیاگ سکتاہے؟
اسی کے ساتھ ایک طُرفہ تماشہ یہ بھی ہے کہ ایک روز جس وقتمودی چوہےبلّی کے فرضی کھیل میںمسلمانوں کولبھانے کے لئے ان کی ترقی، خوش حالی اوران کوغریبی کی سطح سے اوپراٹھانے کی بات کر رہے تھےہیں توٹھیک اسی دن ملک کاوزیرداخلہ پچھمی بنگال میں وہاںکی وزیراعلیٰ محترمہ ممتابنر جی کے خلاف وہاںکے ہندؤوںکو نہ صرف بھڑکانےکاکام کرتاہے ، بلکہ بنگال کے علما اورائمہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے کاکابھی خطاکارہے، وہ ببانگ دُہل اسٹیج سےکہتاہے کہ ممتادیدی نے بنگال کے لوگوںکی رقم اماموںاورمولاناؤںکودینے کاگناہ کیاہے، وہ کہتاہے کہ عوام کی پونجی میںمولاناؤںاوراماموںکاکیاحق ہے؟
ہماراسوال ان مہاشے سے یہ ہے کہ کیاممتانے ان علمااوراماموںکوجورقم دی ہے کیاوہ مندروںکی تجوریوں سے نکال کردی ہے؟ یاکسی سرکاری یوجناکے فنڈمیں نقب زنی کی ہے۔
مزے کی بات یہ کہ موصوف بھی اس بات کے اقراری ہیں کہ وہ وقف بورڈ سے ادائیگی کی گئی ہے، توپھرتمہاری چھاتی میں کیوںدردہورہاہے ، کہ ان کی معاونت اورتنخواہیں تو وقف بورڈ کی ذمہ داری میں داخل ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ جیساکہ خبروں سے معلوم ہواکہ وارانسی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے 16 اپریل جمعرات کو مشرقی اتر پردیش کے انتخابی میدان میں ایک مہم کا آغاز کیا،انھوںنے وہاں اپوزیشن پر شہریت (ترمیمی) قانون پر جھوٹ پھیلانے اور جنوب میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے شمالی ہندوستانیوں کو گالی دینے کا الزام لگایا، اور الزام لگایا کہ انتخابی نتائج کے بعد انڈیا بلاک ٹوٹ جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ میں چار بھری ریلیوں میںاعظم گڑھ، جونپور، بھدوہی اور پرتاپ گڑھ گیاہوں، یہی محسو ہواہے۔
مودی نے یہ بھی الزام لگایا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے عوام کوظاہری طورپر مطمئن کرنے کی ٹرپل ڈوز پلائی ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے "سنتوشتی” کے لیے کام کرنے کے ریکارڈ کے خلاف ہے۔
اس کے بعد انھوں نے پھرسے مسلمانوںکوڈرانے اور اپنے ووٹروںکو بھرم میں لینے کے لئے یہ بھی کہاکہ سب کا ساتھ، سب کا ساتھ کے منتر کے مطابق۔‏ment for all‏ "آپ جو چاہیں کریں،
اسی کے ساتھ انھوںنے اپنے سیاسی حریفوںپر نشانہ سادھتے ہوئے ان کویہ بھی دھونس دیدی یاپھرسے مسلمانوںکواپنے قہرسے ڈرانے کے لئےیہ دہرایا کہ ’’آپ کبھی بھی CAA کونہیں ہٹانے سکتے،،۔
دوسری طرف لکھنؤمیںدہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے جمعرات ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی اور اتر پرا دیش پر زور دیا کہ وہ انڈیا بلاک کو ووٹ دیں۔انھوںنے لوگوںکویہ بھی جتایاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کواگران عام انتخابات میں 400 سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے پر ریزرویشن ختم کر دے گی۔
اسی کے ساتھ امت شاہ کے یہ کھوکلے دعوےــبھی بی جے پی کی پتلی حالت کے غماز ہیں کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی گارنٹی کا مطلب کام کی 100 فیصد تکمیل کا وعدہ ہے۔
مودی جی کو دوبارہ وزیر اعظم بنانے کا مطلب ہے وکست بھارت کی ضمانت، جبکہ بقول شمال مشرقی دہلی کے انڈیاکے امیدوار ڈاکٹر کنہیاکمار’’ مودی کی گارنٹی کاکیابھروسہ ہے؟ مودی جی ہندورسم کے مطابق جسودابین کے ساتھ بھی شادی کے موقع پر سات پھیرے لے کران کے ساتھ 7 جنم بتانے کی گارنٹی دی تھی، مگرسب جانتے ہیں کہ وہ اپنی زبان اورگارنٹی کے کتنے پختہ ہیں،
مودی جی نے نکسل ازم، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا ہے۔
مودی جی کے ویژن کے مطابق، ہم 2047 تک ایک مکمل ترقی یافتہ اور خود انحصار ہندوستان بنائیں گے اور بھارت ماتا کو ’وشو گرو‘ ۔ مگرعوام امت شاہ سے بھی خوب واقف ہیں کہ یہ وہی امت شاہ ہیں جب ان کو2014 کے وعدے یایاددلائے گئے توکہدیاتھا: وہ تووچناوی جملہ تھا،،
بی بی سی لندن کے رپوٹرشکیل کہتے ہیں کہ ’جو یو پی سے جیتا، دلی میں حکومت اسی کی بنتی ہے،،۔تودیکھنایہ ہے کہ اتر پردیش یعنی یوپی انڈیا کی سب سے بڑی ریاست ہے جس کی انتخابی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملکی پارلیمنٹ کی 544 میں سے 80 سیٹیں یو پی سے ہیں اور اتنی بڑی تعداد کسی بھی جماعت کو اقتدار میں لانے یا اسے ہٹانے میں سب سے اہم کردار کرتی ہے۔
اب جبکہ انتخابی معرکہ کے 4 مرحلے مکمل ہو چکے ہیں تاہم یو پی میں لوگوں کا رجحان کیا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہم نے اس ریاست کے اہم شہروں ایودھیا، بنارس اور لکھنؤ کا سفر کیا۔
ہماری پہلی منزل ایودھیا تھی جہاں دو مہینے پہلے ہی رام مندر کا افتتاح کیا گیاتھا، تب سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پورے ملک سے اس مندر کے درشن یا زیارت کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔ رام مندر کی تعمیر برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے تین بڑے وعدوں میں سے ایک تھا اور الیکشن میں اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی بڑی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ایودھیا کی سنیتا پانڈے کہتی ہیں کہ ’مندر کا انتظار پانچ سو برس سے تھا ۔مودی نے مندرتوبنوادیا،مگربے روزگاری بہت بڑا مسئلہ ہے، حکومت کو اس کے بارے میں کچھ کرنا چاہیے۔‘
سیاسی پنڈتوںکاتجزیہ ہے بھی یادرکھناچاہیئے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 2014 کے لوک سبھا کے بعد سے اتر پردیش میں ہر انتخاب میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہاں تک کہ دو سب سے بڑی علاقائی پارٹیوں، سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کا 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اکٹھا ہونا بھی اسے 80 فیصد سیٹیں جیتنے سے نہیں روک سکاتھا۔ اس بار ریاست میں ایس پی اور بی ایس پی کا کوئی اتحاد نہیں ہے۔ اور کانگریس کے ساتھ اتحادی کے طور پر الیکشن لڑ رہی ہے۔
کیا اس سے اتر پردیش بی جے پی کے لیے واک اوور بن جائے گا؟ ہر الیکشن ایک نیا الیکشن ہوتا ہے، اور اپوزیشن اتحاد 2014 سے اتر پردیش میں مسلسل بدل رہے ہیں، لیکن ماضی کے اعداد و شمار پر مبنی چار سوالات ہیں جو ہمیں اتر پردیش میں 2024 کے مقابلے کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم مودی نے مسلمانوں کے حوالہ سے تبصرہ کیا تھا۔، ’’پہلے جب ان (کانگریس) کی حکومت تھی تو انہوں نے کہا تھا تھا کہ مل کی دولت پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے، اس کا مطلب یہ دولت جمع کر کے کسے تقسیم کریں گے، جن کے بچے زیادہ ہیں، ان میں تقسیم کریں گے، دراندازوں میں تقسیم کریں گے۔ آپ کی محنت کا پیسہ دراندازوں کو دیا جائے، کیا آپ کو یہ منظور ہے؟‘‘تواس کے جواب میں
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم مودی کو جم کر آڑے ہاتھوں لیا اور کہا تھاکہ مودی جھوٹوں کے سردار ہیں۔ وہ بتائیں کہ ہر سال 2 کروڑ نوکریاں اور 15 لاکھ روپئے کے وعدوں کا کیا ہوا؟ مودی ہمیشہ جھوٹ بولتے رہتے ہیں ۔اب دیکھنایہ ہے کہ کیامودی جی کے یہ گرگٹ کی طرح بدلتےکے رنگ اوران کے مگرمچھ کے آنسولوگوںکے دلوںکوموہنے کاذریعہ بن سکیں گے، ویسے ہم کو ابن انشاکایہ قول یادہے ’’ آنسوعورت کاآخری ہتھیارہے،،، کہ جب اس کاشوہراس کی بات نہیں ماتناتووہ دوآنسوبہاکراس کے دل میں اپنی جگہ لیتی اوراس سے اپنی ضد پوری کرالیتی ہے
اپنی بات کومشہورادیب اورسیاسی شخصیت آنندنرائن ملاکی بات پرختم کرتاہوں
رونے والے تجھے رونے کا سلیقہ ہی نہیں
اشک پینے کے لیے ہیں کہ بہانے کے لیے
17اپریل2024


Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114
Back to top button
Close