مضامین

رہبرملت حضرت ماسٹرمجیب الحق صاحب سیوانیؒ

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت دسمب1908……M.A.BED.
1952ء سے قبل حضرت مولاناشمس الدین صاحب کی مسلسل جدوجہد کی وجہ سے علاقے میں دینی بیداری آگئی تھی،لیکن سائنس وٹکنالوجی اورعلوم جدیدہ وعلوم عصریہ سے ابھی تک علاقہ ناآشناتھا،پورے علاقے میں گنتی کے چند افراد بی،اے پاس تھے اورمحدودچند شجصیتوں نے میٹرک پاس کیاتھا۔علاقے میں کہیں بھی ہائی اسکول نہیں تھابلکہ مڈل تین ہی تھے،اسلئے دانشوران علاقہ کوجدیدعلم وفن کی ترقی کے لئے وسط علاقہ پرسامیں ہائی اسکول قائم کرنے کی فکرلاحق ہوئی۔لیکن اسکے لئے علاقہ میں کوئی بھی ایسا شہباز ماسٹر نہیں تھا،جوعلم وفن کی مہارت کے ساتھ انتظامی صلاحیت اورصبروتحمل کی زیورسے آراستہ ہو،مولانالیاقت صاحب ڈیوکنڈانے اسکے لئے بڑی تگ ودودکی اورکئی مہینوں کی کوششوں کے بعد اس جوہرشب تاب کولیکرعلاقہ پہنچے۔
انہوں نے 1952ء سے 1968ء تک پرساسائی اسکول میں بڑی کامیابی کے ساتھ ہیڈ ماسٹری کی اس وقت اسکول منظورکروایا،اقلیتی اسکول منظورنہیں ہواتھاانہوں نے بڑی دانائی سے اقلیتی ہائی اسکول گورمنٹ سے منظورکروایا،اقلیتی اسکول منظورکروانابہت اہم کام تھا جسکوماسٹرصاحب نے انجام دیا۔اسکول کے لئے ۹/ایکڑزمین مہیاکی،اسکے لئے 30کمروں پرمشتمل وسیع وعریض بلڈنگ تعمیرکروایااورسب سے بڑھ کریہ کہ تعلیمی وتربیتی اعتبارسے اتنی ترقی دی کہ یہ ضلع اسکولوں سے آنکھ ملانے کے قابل ہوگیا۔
گورنمنٹ کے روپئے سے رینیاتالاب کھودوایا،ہنوارہ سے پرساتک ہموارسے پرساتک ہموارسڑک بنوایااورپرساکے قریب پل تعمیرکروایاتاکہ لوگوں کو آمدورفت میں سہولت ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ علم وہنر،تہذیب وتمدن،سائنس وٹکنالوجی سے دورافتادہ اس علاقے کے لئے ترقی وآراستگی اورخصوصی طورپرعلوم جدیدہ اورتہذیب عصری سے مرصع ومزیا کرنے کاتاج اگرکسی شخصیت پرراست آتاہے تووہ صرف ماسٹرمجیب الحق صاحب دامت برکاتہم کی ذات گرامی ہے،پرساہائی اسکول میں ترقیاتی جتنے بھی پروگرام ہوئے ہیں اسمیں آپ ہی کادماغ اورآپ ہی کاسوزوگدازکام کررہا تھا،آپ کی ذات میں بجلیوں کی بیتابی اورپارے کی سیمابی تھی جسکی بناپرآپ خدمت قوم کے لئے مچلتے رہتے تھے۔
سولہ سال کی مسلسل محنتوں سے اسکول پورے آب وتاب کے ساتھ منزل کی طرف رواں تھااوراسکاہرزاویہ پایہ تکمیل کوپہنچاہواتھاکہ 1968 میں کچھ ہوس پرستوں نے اسمیں رخنہ اندازی شروع کی اورماسٹرصاحب اورانکے رفقاء کواپنے اپنے عہدوں سے دست بردارہونے کامطالبہ کیااورآخرصدروسکریٹری سے استعفاء لے کردم لیا،ماسٹرصاحب کوبھی مختلف اندازسے اسکول سے برخاست ہونے پرمجبورکیا،ماسٹرصاحب اپنے لگائے ہوئے گلشن کوچھوڑنانہیں چاہتے تھے وہ اس ادارے کے لئے عمرکاقیمتی وقت صرف کرچکے تھے اوراسکے تمام نوک پلک کواپنے ہاتھوں سے سنواراتھالیکن مجبورہوکرانہیں الوداع کہناپڑا۔
ماسٹرصاحب چونکہ ہراعتبارسے تراشیدہ ہیراتھے اسلئے پرساکوچھوڑتے ہی وہ بہار اسکول اکزامنیشن بورڈمیں سارٹی فیکٹ چیکرآفیسرمنتخب ہوگئے کویاکہ انکوپرساسے کہیں بلندوارفع عہدہ مل گیااورماسٹرسے آفیسربن گئے۔
دوسال کے بعد ۴۷۹۱ء میں وہ انجمن مفیدالاسلام کلکتہ کے چیف اگزکٹوآفیسرکی جگہ پرمسندآراہوئے،اس انجمن کے تحت کلکتہ میں ۲۵اسکول چلتے تھے،آپ ان تمام اسکولوں کے نگران وسربراہ تھے،آپ ہی کے اشارے پرانکے اساتذہ کی بحالی ہوتی اورآپ ہی کے مشورے سے انکااخراج عمل میں آتا،آپ کے پاس انجمن کی طرف سے کاریں ہوتیں، خدام ہوتے اوربڑی شان وشوکت سے آفیسری کرتے،پرسامیں آپ صرف ہیڈ ماسٹرتھے یہاں پہنچ کرآپ ہیڈ آفیسر ہوگئے اورترقی کی اوج کوچھولیا۔
26اگست1990کوناچیزنے ماسٹرصاحب کے گھرموضع اوکھٹی ضلع سیوان میں ان سے ملاقات کی،میں نے محسوس کیاکہ ماسٹرصاحب میں علم وفن اورنظم ونسق کی مہارت کے ساتھ ادبی ذوق بھی ہے،وہ انگریزی،ہندی اوراردو تینوں زبانوں کے یکساں رمزشناس وادب آموزہیں،انکاہرفقرہ محاورات وادب سے لبریزہوتاہے،میں انکے گوناگوں فضائل وکمالات،اخلاص وللہیت سے اتنامتأثرہوں کہ آج بھی دل چاہتاہے کہ اس سرمایہ فخرونازش اوررہبرملت کوعلاقے میں لاکربسالوں اورانکے خاکپاکوآنکھوں کاسرمہ بنالوں اوراس شعرکوگنگناتارہوں ؎
نازم بچشم خودکہ جمال تودیدہ است

افتم بپائے خودکہ بکویت رسیدہ است
ہردم ہزاربوسہ زنم دست خویش را

کودامنت گرفتہ بسویم کشیدہ است

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: