مضامین

زائرین کعبہ سے اقبال یہ پوچھے کوئی

اللہ نے آپ کو اپنے گھر بلاکر آپ کی میزبانی کی ہے اب آپ کو اللہ کے نام اور اس کے کلمہ کی پاسبانی کرنا ہے عبدالغفار صدیقی

9897565066
اللہ کا شکر ہے کہ حج کے تمام مراسم خیر و عافیت اور بحسن و خوبی انجام پاگئے۔حجاج کرام اپنے گھروں کو واپس ہورہے ہیں۔ان کا استقبال کیا جارہا ہے۔وہ بھی ملاقاتیوں کی ضیافت زمزم اور کھجور سے کررہے ہیں۔ملاقات کرنے والے بڑی حسرت سے ان کے سفر کی داستان سن رہے ہیں۔وہاں کے بہترین انتظامات،حجاج کرام کے جوش و جذبے،عرفات و مزدلفہ اور طواف کعبہ کے مناظر،مسجد بنوی،ریاض الجنۃ اور جنت البقیع کے روح پرور قصے سن کر ہر کسی کے دل میں یہ حسرت پیدا ہورہی ہے کہ کاش مجھے بھی ان مقامات مقدسہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوجائے۔غریب شخص حاجی صاحب کو دیکھ کر اور زم زم کے دو قطرے حلق میں اتار کر اپنی حسرت کی تکمیل کرلے رہا ہے۔وہ سوچتا ہے میں نے اگر مکہ و مدینہ نہیں دیکھا تو کیا ہوا،کم سے کم میری آنکھوں نے ان کو تو دیکھا ہے جن کی آنکھوں نے مکہ مدینہ دیکھا ہے۔
اے زائرین حرمین! میں بھی آپ کا دل کی گہرائیوں سے استقبال کرتا ہوں۔میں بھی اپنی بانہیں پھیلا کر آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔مجھے بھی آپ کی قسمت پر ناز ہے کہ آپ اس ذات کے گھر کا طواف کرکے آرہے ہیں جس کو میں سجدے کرتا ہوں۔آپ ان کوچوں سے گزرے ہیں جہاں کائنات کی سب سے مقدس ہستی کے قدم پڑے ہیں۔آپ واقعی اس قابل ہیں کہ آپ کو محبت سے دیکھا جائے،آپ کو گلے لگایا جائے،آپ کی باتیں سنی جائیں۔مگر میں آپ سے یہ جاننے کا خواہش مند ہوں کہ آپ وہاں سے صرف زم زم اور کھجور ہی لائے ہیں؟یا اور کچھ بھی لائے ہیں؟ ہاں آپ میں سے بہت سے لوگ دیگر اشیاء ضروریہ بھی لائے ہوں گے۔اپ ان احباب کے لیے تحفے لائے ہوں گے جنھوں نے جاتے وقت آپ کو تحفے دیے تھے،کتنے ہی لوگ اپنی اولاد اور اپنی بہو اور داماد کے لیے سامان لائے ہوں گے۔آپ کا بڑا وقت اسی منصوبہ بندی میں گزر گیا ہوگا کہ کس کے لیے کیا لے جانا ہے۔کیوں کہ واپسی پر آپ کو معلوم تھا کہ کتنے ہی چہرے آپ کی طرف نگاہ طلب سے دیکھیں گے۔بقول حفیظ میرٹھی:
میرا سمندر پار سفر پر جانا ایک قیامت تھا
جیسے ہر چہرے پہ لکھا ہو میرے لیے کیا لائے گا
آپ کا یہ سامان لانا کوئی گناہ بھی نہیں کیوں کہ اللہ نے تو دوران حج،فراغت کے اوقات میں تجارت تک کی اجازت عطا فرمائی ہے۔لیکن میں آپ سے فانی دنیا کی عارضی چیزوں کے بارے میں نہیں معلوم کررہا ہوں۔میں تو ان روحانی کیفیات کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں جو آپ کو صرف وہیں مل سکتی تھیں۔اس لیے کہ مادی چیزیں جو آپ لائے ہیں وہ تو سب آپ کے اپنے ملک بلکہ اپنے شہر میں بھی دستیاب تھیں،آپ مصلے اور تسبیحات،زم زم اور کھجور کے لیے تواتنی دور نہیں گئے تھے نا؟یہ ترکی اور چائنیز مصلے و تسبیحات تو دہلی کی جامع مسجد پر بہت ملتی ہیں،کھجوریں بھی ہر قسم کی دستیاب ہیں،ہاں زمزم ذرا کمیاب ہے،مگر مل جاتا ہے۔مجھے یہ بتائیے کہ آپ نے اس عالمی اجتماع سے عالمی اخوت کا پیغام اخذ کیا یا اب بھی آپ مسلکی،فروعی،اور علاقائی تعصب میں دوسروں کو اپنے سے الگ سمجھتے ہیں۔کیا آپ واقعی دنیاکے سارے مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھنے لگے؟مجھے یہ بتائیے طواف کعبہ کے وقت آپ کے اندر خدا سے عشق و محبت کی وہ صفت پیدا ہوئی جس کے سامنے ساری محبتیں پھیکی ہیں۔کیا اب آپ نے یہ عہد کرلیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی محبت میں اس طرح گرفتار نہیں ہوں گے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کا سبب بن جائے۔مجھے بتائیے مکہ کی گلیاں دیکھ کر آپ کو بلال حبشی ؓ کی احد احد کی آوازیں سنائی دیں،آل یاسر کی چینخوں سے آپ کا دل ٹرپ اٹھا کہ نہیں۔سمیہ ؓ کی شہادت نے آپ کے اندر شوق شہادت بیدار کیا یا نہیں،صفا و مرہ کی دوڑ سے آپ نے کیا سبق سیکھا؟ آپ کو مسجد نمرہ سے دیے گئے خطبے کے کچھ بول یاد رہے یا سب بھول گئے؟مزدلفہ کی ایک شب نے امید سحر جگائی کہ نہیں۔سچ سچ بتائیے کہ شیطان پر کنکر مارتے وقت واقعی آپ کو شیطان پر غصہ بھی آرہا تھا یا یوں ہی کنکریوں کی تعداد پوری کرنے پرہی سارا دھیان رہا۔آپ نے اپنے نفس کے شیطان کو بھی کچھ کنکریاں ماریں یا اسے تھپکی دے کر سلادیا۔لبیک الّٰھم لک لبیک کی صدائیں دل و دماغ میں پیوست ہوئیں یا زبان پر ہی رہیں۔
اے زائر حرم:میرے آقا کے شہر کی زیارت آپ نے کی۔آپ بدرو احد کے میدان سے بھی گزرے ہوں گے۔روضہ ئ رسول پر آپ نے حاضری بھی دی ہوگی۔مجھے بتائیے کہ محبت رسول کی عملی کیفیت کیا ہے۔واپسی پر پلٹ پلٹ کر آپ نے حضور ؐ کی طرف دیکھا یا نہیں آپ کی آنکھوں سے غم ہجر کا سمندر بہہ کر باہر آیا یا جلد بازی میں رونا بھی بھول گئے۔آپ کو میدان بدر کے تین سو تہرہ تو یاد رہے ہوں گے مگر بدر کا معرکہ کیوں پیش آیا؟یہ بھی آپ کو کسی نے بتایا؟ریاض الجنۃ میں دورکعت پڑھنے کی سعادت پانے کے لیے جتنی کوششیں آپ نے کیں؟ کیا حقیقی جنت کے حصول کے لیے بھی اتنی کوشش کرنے کا عزم لے کر آپ واپس آئے ہیں؟آپ یہ تو بتا رہے ہیں کہ حکومت کے انتطامات بہت خوب تھے،مگر خادمین حرمین کے دشمنان اسلام سے تعلقات کیسے ہیں یہ تو بتائیے۔
میرے عزیزو:امت کی ایک بڑی اکثریت نے حج کیا،ارکان ادا کیے،اللہ قبول فرمائے۔لیکن یہ ایک سوال ہے کہ کتنوں کا حج شعوری رہا اور کتنوں کا غیر شعوری؟ جاتے وقت تربیتی کیمپوں میں بھی زیادہ تر آپ کو حج کی دعائیں یاد کرائی گئیں،ہر مقام کے لیے تسبیحات سمجھائی گئیں،لیکن مقصد حج پر کم ہی روشنی ڈالی گئی۔اس لیے آپ کی اکثریت محض زم زم کا تبرک بانٹ رہی ہے۔اب آپ کا امتحان ہے کہ حج سے پہلے کی زندگی میں اور حج کے بعد کی زندگی میں کیا فرق لوگ محسوس کرتے ہیں۔اب آپ کی ہر ادا پر سینکڑوں نگاہیں اٹھیں گی۔اب آپ کو اپنے حج کی لاج رکھنا ہوگی۔اللہ نے آپ کو اپنے گھر بلاکر آپ کی میزبانی کی ہے اب آپ کو اللہ کے نام اور اس کے کلمہ کی پاسبانی کرنا ہے۔آپ کو شہر نبی میں قیام کا موقع ملا ہے،روضہ رسول پر آپ سلام بجاکر آئے ہیں،لیکن اب آپ کو اپنی زندگی سے بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ میرے لیے اللہ اور رسول کا حکم ہی حرف آخر ہے۔جس جگہ آپ نے اس سال بے روح خطبہ سنا ہے،اسی جگہ پر چودہ سوسال پہلے میرے اور آپ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے بھی خطبہ دیا تھا۔میری گزارش ہے کہ ایک بار وہ خطبہ آپ پڑھ لیں اور بس اسی خطبہ کو اپنی عملی زندگی میں اتار لیں تو آپ حج کے مقاصد کو پاجائیں گے۔ورنہ علامہ اقبالؒ کا سوال آپ سے بھی یہی ہوگا:

زائرین کعبہ سے اقبال یہ پوچھے کوئی
کیا حرم کا تحفہ زم زم کے سوا کچھ بھی نہیں

مضمون نگار آزاد صحافی اور راشدہ ایجوکیشنل اینڈ سوشل ٹرسٹ کے چیرمین ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: