اہم خبریں

زبان میں مہارت کے لیے اس زبان میں بول چال ضروری: پروفیسر محمد اسلم اصلاحی

شعبہ عربی ذاکر حسین دہلی کالج میں غازی الدین خان لیکچر کا انعقاد

نئی دہلی/12/نومبر
زبانوں کی تعلیم میں بول چال کی زبان اپنی جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آپ کسی زبان میں گفتگو کرنے پر قادر نہیں ہیں تو موجودہ وقت میں آپ کو وہ اہمیت حا صل نہیں ہو پاتی ہے، جس کا آپ استحقاق رکھتے ہیں؛ اسی طرح گفتگو میں اصل مقصد پیغام رسانی ہوتا ہے، جملہ سازی میں نحوی قواعدکی زنجیروں میں الجھنا ذہن کو مشکل میں ڈال دیتا ہے۔قواعد جملوں کی صحت میں یقینا معاون ہوتے ہیں؛ البتہ ابتدائی مرحلے میں قواعد پر بہت زیادہ زور سیکھنے کے عمل کو مشکل بنادیتا ہے۔ان خیالات کا اظہار جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں شعبہ عربی کے پروفیسر سابق صدر شعبہ اوراسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیزکے سابق ڈین جناب محمد اسلم اصلاحی صاحب نے شعبہ عربی ذاکرحسین دہلی کالج کے پانچویں غازی الدین خان لیکچر میں کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ گفتگو کی زبان میں نحوی قواعد کی تقدیم و تاخیر بہت زیادہ معیوب نہیں سمجھی جاتی ہے، کسی مجلس میں اگر آپ کو پانی کی ضرورت محسوس ہورہی ہے اور آپ صرف ”پانی“ کا لفظ بولیں تو مخاطب آپ کا مقصد سمجھ کر فورا آپ کو پانی پیش کردے گا؛ حالاں کہ اگر آپ پانی طلب کرنے یا پیاس کا اظہار کرنے کے لیے نحوی قواعد کی روشنی میں پورا جملہ بنانا چاہیں گے تو جملہ کی طوالت میں پانی پینے کی خواہش سر د بھی ہوسکتی ہے۔بلب آن کرنے کے لیے اگر آپ افتح النور کا لفظ بولیں گے تو فورا بلب آن کردیا جائے گا؛ البتہ اگرعلم صرف کی روشنی میں اسی فتح کو کھولنے کے معنی میں لیں گے تو آپ یہی سوچ کر کہ یہ تودروازہ کھولنے کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ کہ بلب آن کرنے کے لیے، کنفیو زن کا شکارہوجائیں گے اور زبان سیکھنے کا عمل دشوار سے دشوار تر ہوجائے گا۔
پروگرام کا آغاز سال دوم کے طالب علم عزیز الرحمن کی تلاوت سے ہوا، جب کہ نعت نبی سال دوم ہی کے طالب علم مقتدا حسن نے پڑھی۔جس کے بعد شعبہ کے سینئر استاذ ڈاکٹر محمد قاسم عادل نے غازی الدین خان لیکچرسیریز کا تعارف کرایا،انھوں نے بتایا کہ آج سے پانچ سال قبل ۵۱۰۲ء میں غازی الدین خان کے نام سے ایک سالانہ یادگاری لیکچر کا آغاز کیا گیا تھایہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ شعبے کے دوسرے سینئر استاذ ڈاکٹر محمد طارق ندوی نے مہمان مکرم کا تعارف کراتے ہوئے عربی زبان وادب کے تعلق سے ان کی گراں قدر خدمات پر روشنی ڈالی اورطلبہ کو ان کی شخصیت کو نمونہ بناکرجد وجہدکرنے اور مقصد کو حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔پروگرام میں کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مسرور احمد بیگ نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وقت کی اہمیت کو پہچانیں اور اس کی قدر کریں۔ جس طرح کالج کے کیمپس میں داخلے کے لیے روزانہ آپ کو گیٹ پر اپنا شناختی کارڈ دکھانا ہوتا ہے بالکل اسی طرح آپ کوتعلیمی زندگی کے بعد عملی میدانوں میں داخلے کے لیے اپنا شناختی کارڈ دکھانا ہوگا؛ اس لیے محنت کریں اور اپنے منتخب کیے ہوئے میدان میں اپنی جداگانہ شناخت بنائیں تا کہ آپ دور ہی سے پہچانیں جا سکیں اور آپ کو آپ کامطلوبہ مقام مل سکے۔
پروگرام کے اختتام پر صدر شعبہ جناب ڈاکٹر عبیداللہ صاحب نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ بولنا،بولنے ہی سے آتا ہے، ہم جتنا زیادہ بولیں گے ہماری گفتگو اتنی ہی نکھر تی جائے گی اور ہماری بول چال کی صلاحیتوں میں جلا پیدا ہوتا جائے گا۔ ہندوستان میں لوگوں نے عربی کو ایک مشکل زبان کی حیثیت دیدی ہے؛ حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انگریزی میں بولنے اور لکھنے کے اعتبار سے تقریبا دو الگ زبانیں نظر آتی ہیں؛کیوں کہ لکھنے کا املا الگ ہوتا ہے او ربولنے کا تلفظ الگ جب کہ عربی میں ایسی صورت حال نہیں ہے۔ ہم جولکھتے ہیں وہی بولتے ہیں، اسی طرح عربی میں الفاظ کا ذخیرہ ناقابل شمار حد تک پھیلا ہوا ہے جب کہ انگریزی اور دیگر زبانوں میں الفاظ کی تعداد عربی کی بہ نسبت بہت کم ہے۔جس سے یہ بات جگ ظاہر ہے کہ عربی زبان دیگر زبانوں کی بہ نسبت قدرے آسان ہے۔بچوں میں سیکھنے کا جذبہ ہو اور اساتذہ میں سکھانے کی دھن تو عربی سے زیادہ آسان کوئی بھی دوسری زبان نہ نظر آئے گی۔پروگرام میں شعبہ کے دیگر اساتذ ڈاکٹر عامر جمال،ڈاکٹر قمر الدین،ڈاکٹر نسیم احمد،ڈاکٹرعبدالملک اور ڈاکٹر محمد ابرار الحق کے ساتھ شعبہ کے تمام طلبہ او رطالبات نے شرکت کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: