مضامین

زمین کھاگئی آسمان کیسے کیسے (حضرت مولانااسرارالحق قاسمی رحمۃ اللہ

جناب سعود احمد صدیقی صاحب ، باندرہ ممبئی

آج (۷دسمبر ۲۰۱۸)کا دن باشندگان سیمانچل کے لئے خصوصا اور ملت اسلامیہ ہند کے لئے عموما نہایت ہی افسوس کا دن ہے کہ فرشتہ اجل نے ہمارے بیچ سے ایک ایسی شخصیت کو اپنی آغوش میں لے لیا (اناللہ واناالیہ راجعون )جن کی رہبر ی ملت اسلامیہ ہند کے لئے بہت ہی ناگزیر تھی ۔ آج کا دور وہ دور ہے جس میں ہر طرف سے اسلام اور مسلمانوں پردن بدن یلغار ہورہاہے ۔ اوریہ یلغار کبھی الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سے تو کبھی پرنٹ میڈیا کے ذریعے سے تو کبھی شوشل میڈیا کے ذریعے سے ہورہاہے ۔کہیں اسلام کے قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں تو کہیں بے گناہ مسلمانوں کی عزت و آبرو پر آنچ آرہی ہے تو کہیں ان کے لہوسے ہولی کھیلی جارہی ہے ۔ان نازک حالات میں ان تمام محاذوں پر کام کرنے والے کچھ گنے چنے چند علمائے کرام ہیں انہی میں سے ایک مولانااسرارالحق قاسمی رحمۃ اللہ علیہ (ممبر آف پارلیمینٹ ) بھی تھے جو ملت اسلامیہ کو بام عروج پر دیکھنا چاہتے تھے اور اس کے لئے انہوں نے کافی محنت بھی کی۔ اوریہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی قوم تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی ہے تو مولانا نے اپنی پوری زندگی کو اسی کے لئے وقف کردیا تھا اوریہی ان کا راس المال تھا ۔انہوں نے اس کے لئے متعدد ادارے قائم کیا اور پسماندہ علاقوں میں مکاتب کا جال بچھا یا ۔آپ کا جس علاقے سے تعلق تھا اسے لوگ سیمانچل کہتے ہیں۔ جس میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے مگر اس تناسب کے اعتبار سے وہا ں کوئی یونیورسیٹی ہے اور ناہی کوئی بہترین کالج ۔ اس کمی کو پوراکرنے کے لئے آپ نے بہت کوششیں کیں۔ اسی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے کہ اے ،ایم ، یو کو منظوری ملی مگر تعمیری کام مکمل نہیں ہوسکا۔ سیمانچل میں بچیوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لئے کوئی معقول انتظام نہیں تھا تو آپ نے اس خلاکو پرکرنے کے لئے ملی گرلز ہائی اسکول قائم کیا ۔ جہاں بچیوں کو اعلی سے اعلی تعلیم دی جاتی ہے اور عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا بھی حسین امتزاج ہے تا کہ وہ عصری تعلیم کے ساتھ آخرت کی سعادتوں سے بھی بہرہ ور ہوسکیں ۔ لیکن مولانا کا جو سپنا تھاوہ ادھورا اور نامکمل رہ گیا ۔مگر مجھے امید ہے کہ ان کے نامکمل کاموں کو ان کے جانشین صاحبان منزل تک پہونچاکر دم لیں گے ۔ ان شاء اللہ
موصوف ایک جید باعمل عالم اورمشہورصحافی کے علاوہ مقبول ومشہورمقرر بھی تھے جن کی تقریر میں جاذبیت تھی اور تحریر یں پرکشش ۔اخباروالوں کو آپ کے نگارشات اورتخلیقات کا بہت ہی بے صبری سے انتظار رہتاتھا اور آپ کے مضامین کو سرفہرست شائع کروانے کا اکثر ایڈیٹروں کواہتما م رہتاتھا ۔ آپ صاحب نسبت تھے اور بعض برزرگوں کے خلیفہ مجاز بھی
آپ کی رفعت وعظمت کا کیا تذکرہ کیا جائے ۔آپ تو ان خوش نصیبوں اور سعادتمندوں میں سے ہیں جن کو بیک وقت متعدد مناصب وعہدے حاصل ہوئے ہیں ۔اگر آپ دارالعلوم دیوبند کے مجلس شوری کے ممبر تھے تو دوسری طرف پارلیمینٹ کے بھی ممبر تھے ۔ اگر آپ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے ممبر تھے تو مسلم پرسنل لا بورڈ کے بھی ممبرتھے اور ایک زمانے تک جمعیت علمائے ہند کے جنرل سیکریٹر ی رہے ۔ اورتاہنوز ملی تعلیمی فاؤنڈیشن کے سربراہ بھی تھے جس کے تحت کافی فلاحی کام انجام دیے جارہے ہیں ۔
الغرض موصوف میں بہت ساری خوبیاں تھیں اور وہ بہت سے کمالات کے مالک تھے ۔ ان کارناموں میں سے شاہکا ر یادگار ملی گرلز ہائی اسکول اور اے ایم یو ہیں جنہیں تاریخ کے سنہرے باب میں لکھا جائے گا جویقیناًقابل رشک ہے ۔
اللہ اس امت کو نعم البدل عطافرمائے اور مرحوم کو غریق رحمت کر ے اورانہیں جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبرجمیل عطافرمائے۔ آمین یارب العالمین ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: