اسلامیات

زندگی تبدیل کرنے کا تیر بہدف فارمولہ

محمد یاسین جہازی

ارشاد ربانی ہے کہ
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلیک مِنَ الکتابِ وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ، إِنَّ الصَّلَاۃَ تنھیٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمکنر، وَلَذِکرُ اللّٰہِ اکبرُ، وَاللّہُ یعلمُ مَا تَصْنَعُونَ۔ (العنکبوت، آیۃ: ۵۴)
قرآن مجید کی تلاوت کیجیے اور نماز کی پابندی کیجیے، کیوں کہ نماز بے شرمی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم کر رہے ہو۔
تمام عبادات میں جو اہمیت و فضیلت نماز کو حاصل ہے، وہ کسی اور عبادت کو حاصل نہیں ہے،ا ور قرآن و احادیث میں جتنا تذکرہ نماز کا کیا گیا ہے، اتنا کسی اور عبادت کا نہیں کیا گیا ہے۔ اور نہ ہی کسی عبادت کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اگر تم اس عبادت کو بجا لاؤگے تو وہ تمھیں تمام گناہوں اور بے شرمیوں کے لیے حجاب بن جائے گی۔ مثال کے طور پر روزہ کے تعلق سے یہ نہیں کہا گیا ہے کہ روزہ تمام گناہوں سے باز رکھتا ہے۔ زکوٰ ۃ کے تعلق سے بھی یہ وعدہ نہیں کیا گیا ہے۔ حج کے تعلق سے بھی یہ ارشاد نہیں ہے کہ یہ تمام گناہوں کے لیے رکاوٹ بن جاتا ہے۔ الغرض کسی بھی عبادت کے حوالے سے ایسا پیغام نہیں دیا گیا ہے کہ اس کے مخصوص فوائد کے ساتھ ساتھ تمام گناہوں کے لیے آڑ بن جاتی ہے۔ یہ صفت صرف نماز کے ساتھ مخصوص ہے کہ نماز اور بے شرمی و بے حیائی ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔ نماز کے اندر وہ مقناطیسی کشش ہے کہ وہ اپنے چاہنے والے کو گناہوں کے دلدل میں پھنسنے نہیں دیتی۔ اوراس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے شاید یہ تو دیکھا ہوگا کہ ایک شخص روزہ رکھ لیتا ہے، مگر نماز نہیں پڑھتا، لیکن ایسا شخص آپ نے نہیں دیکھا ہوگا جو کہ پابندی سے تو نماز پڑھتا ہے، لیکن رمضان کا روزہ نہیں رکھتا۔ آپ نے یہ تو دیکھا ہوگا کہ ایک شخص زکوٰۃ دیتا ہے، مگر نماز نہیں پڑھتا؛ لیکن ایسا آدمی مشاہدے میں نہیں آئے گا کہ نماز پابندی کے ساتھ ادا کرتا ہے، لیکن وہ فرضیت زکوٰۃ کو ادا کرنے سے گریز کرتا ہے۔ آپ نے یہ بارہا مشاہدہ کیا ہوگا کہ ایک شخص استطاعت پر حج کرلیتا ہے، مگر نماز نہیں پڑھتا؛ لیکن ایسا آدمی آپ کو شاید ہی ملے جو نماز کا تو عاشق ہے؛ البتہ حج فرض ہونے کے باوجود زیارت بیت اللہ کے شوق سے بے نیاز ہے۔
نماز کی فطری اثر انگیزی صرف حقوق اللہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی کوتاہی نہیں آنے دیتی۔ سچے نمازی کی پہچان یہی ہے کہ اس کے اندر حیا وپاکیزگی کی صفت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ شرافت و نجابت اوراخلاق حسنہ کا عنوان بن جاتا ہے۔ اس کی امتیازی شان اسے تمام لوگوں کا منظور نظر اور مقبول بارگاہ الٰہی بنادیتی ہے اور وہ انسانیت کا حقیقی علم بردار اور اسلام کا عملی ترجمان بن جاتا ہے۔
اگر ہماری نماز ہمارے اندر یہ خصوصیات پید انہیں کر رہی ہے، تو یقین مانیے ہماری نماز بیمار ہے، ہم نماز کی چوری کر رہے ہیں۔ ہم نماز کو نماز کی شان سے ادا نہیں کر پارہے ہیں۔ ہماری نماز احسان کی کیفیت اور اخلاص نیت سے عاری ہے۔
اگر ہم اپنی زندگی میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے اخلاق، حسن اخلاق کے لیے مثال بن جائیں، ہماری زندگی گناہوں کی کثافت سے پاک و صاف رہے اور ہمارے بچے نیک تربیت اور حسن آداب کے نمونے کہلائیں، تو آپ خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی نماز کو اس کی اعلیٰ شان اور احسان کی کیفیت کے ساتھ ادا کیجیے اور کرائیے، بالیقین آپ کی زندگی یک قلم بدل جائے گی اور آپ اپنے معاشرے میں بھی قابل تقلید شخصیت بن جائیں گے اور اخروی کامیابی بھی آپ کے قدم چومے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close