اسلامیات

زندگی ہےاپنےقبضے میں نہ اپنے بس میں موت

(ذکرِ مرگ:قرآن و احادیث اور اقوالِ سلف و صالحین کی روشنی میں)
ترتیب : *محمد ہاشم اعظمی مصباحی* نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یوپی 9839171719
اس دنیائے فانی میں جس طرح کسی بھی کام کی ایک انتہا ہوتی ہے جہاں پہنچ کر وہ کام ختم ہو جاتا ہے اسی طرح سے اس روۓ زمین پر موت تمام مخلوقات کا آخری انجام ہے اس پوری کائنات کو اپنے انجام تک پہونچنا ہے حتی کہ ملک الموت بھی موت کے منہ میں چلے جائیں گے، فرمانِ باری تعالی ہے: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اس دھرتی پر موجود ہر چیز فنا ہو جائے گی صرف تیرے پروردگار کی ذات ِ ذوالجلال و الاکرام باقی رہے گی۔[الرحمن: 26- 27]موت در اصل دنیاوی زندگی کی انتہا اور اخروی زندگی کی ابتدا کا نام ہے موت کے ساتھ ہی دنیاوی آسائشیں ختم ہو جاتی ہیں اور اخروی انعامات یا عذاب شروع ہوجاتے ہیں.موت اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے جس کے ذریعہ خالقِ کائنات کی قدرت اور تمام مخلوقات پر اس کا تسلط عیاں ہوتا ہے خود فرمانِ باری تعالی ہے: وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تمھارے کسی ایک کو موت آتی ہے اسے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔ [الأنعام: 61] موت اللہ تعالی کی طرف سے عدل پر مبنی ہے ایک اٹل حقیقت ہے چنانچہ تمام مخلوقات کو موت ضرور آئے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، پھر ہماری طرف ہی تمھیں لوٹایا جائے گا۔[العنكبوت 57] یاد رہے کہ موت بہت کڑوی شی ہے جس کی شدتِ تکلیف کوئی بھی بیان کرنے کی سکت نہیں رکھتا کیونکہ روح کو رگوں، پٹھوں اور گوشت کے ایک ایک ریشے سے کھینچا جاتا ہے دنیا میں کسی کو درد کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو لیکن وہ موت کے درد سے کم ہی ہوتا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حالت نزع میں دیکھا آپ کے پاس ایک پیالے میں ٹھنڈا پانی تھا آپ اپنا ہاتھ اس پیالے میں ڈبو کر اپنا چہرہ صاف کرتے اور فرماتے: "اَللَّهُمَّ أَعِنِّيْ عَلَى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَسَكَرَاتِ الْمَوْتِ” یا اللہ! موت کی سختی اور غشی پر میری مدد فرما. امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے کچھ روایات کے الفاظ میں یوں ہے کہ: بیشک موت کی غشی بہت سخت ہوتی ہے.
ایک شخص نے اپنے والد سے حالت نزع میں کہا: "ابا جان! مجھے موت کے درد کے بارے میں بتائیں تا کہ میں بھی عبرت پکڑوں” تو والد نے کہا: "بیٹا مجھے لگ رہا ہے کہ میرے پیٹ میں خنجر چلائے جا رہے ہیں” ایک اور قریب المرگ شخص سے موت کی المناکی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: "ایسا لگ رہا ہے کہ میرے پیٹ میں آگ بھڑکائی جا رہی ہے” اسی لئے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ : اگر تمہاری طرح جانور موت کو جان لیتے تو ان میں کوئی موٹا جانور کھانے کو نہ ملتا ۔ *موت کو یاد کرنے کے فوائد احادیث رسول کی روشنی میں*: حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا یا رسول اللہ! کسی کا حشر شہیدوں کے ساتھ بھی ہوگا؟ آپ نے فرمایا ہاں جو شخص دن رات میں بیس مرتبہ موت کو یاد کرتا ہے وہ شہید کے ساتھ اٹھایا جائیگا۔ اس فضیلت کا سبب یہ ہے کہ موت کی یاد دنیا سے دل اُچاٹ کردیتی ہے اور آخرت کی تیاری پر اکساتی ہے لیکن موت کو بھول جانا انسان کو دنیاوی خواہشات میں منہمک کردیتا ہے۔
فرمانِ نبوی ہے کہ موت مومن کے لئے ایک تحفہ ہے اس لئے کہ مومن دنیا میں قید خانے جیسی زندگی بسر کرتا ہے، اسے اپنی خواہشاتِ نفسانی کی اور شیطان کی مدافعت کرنا پڑتی ہےاور یہ چیز کسی مومن کے لئے عذاب سے کم نہیں مگر موت اسے ان مصائب سے یاد دلاتی ہے لہذا یہ اس کے لئے تحفہ ہے۔
فرمانِ نبوی ہے کہ موت مسلمان کے لئے کفارہ ہے، مسلمان سے مراد وہ مومنِ کامل ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس میں مومنوں کے اخلاقِ حسنہ پاۓ جائیں اور وہ ہر کبیرہ گناہ سے بچتا ہو، ایسے شخص کی موت اس کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے اور فرائض کی ادائیگی اسے گناہوں سے منزہ وپاک کردیتی ہے۔
حضرتِ عطاء خراسانی رحمۃاللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی مجلس سے گزرے جس میں لوگ زور زور سے ہنس رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اپنی مجلس میں لذتوں کو فنا کردینے والی چیز کا ذکر کرو، پوچھا گیا حضور وہ کیا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا وہ موت ہے۔
حضرتِ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت کو کثرت سے یاد کرو، اس سے گناہ ختم ہو جاتے ہیں اور دنیا سے بے رغبتی بڑھتی ہے۔
فرمانِ نبوی ہے کہ موت جدائی ڈالنے کے لئے کافی ہے۔ آپ نے مزید ارشاد فرمایا کہ موت سب سے بڑا ناصح ہے۔
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف تشریف لے جارہے تھے کہ آپ نے ایسی جماعت کو دیکھا جو ہنس ہنس کر باتیں کررہےتھے۔ آپ نے فرمایا موت کویاد کرو رب ذوالجلال کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جو میں جانتاہوں اگر وہ تمہیں معلوم ہوجاۓ تو کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں ایک مرتبہ ایک شخص کی بہت تعریف کی گئی، آپ نے فرمایا کیا وہ موت کو یاد کرتا ہے ؟ عرض کیا کہ ہم نے کہیں نہیں سنا ۔ تب آپ نے فرمایا کہ پھر وہ ایسا نہیں جیسا تم خیال کرتے ہو۔
*بزرگانِ دین کے ارشادات*: حضرتِ عبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں دسواں شخص تھا جو(ایک دن) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر تھا، ایک انصاری جوان نے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے زیادہ باعزت اور ہوشیار کون ہے؟اپ نے فرمایا جو موت کو بہت یاد کرتا ہے اور اس کے لئے زبردست تیاری کرتا ہے وہ ہوشیار ہے اور ایسے ہی لوگ دنیا اور آخرت میں باعزت ہوتے ہیں۔
جنابِ حسن رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ موت نے دنیا کو ذلیل کردیاہے اس میں کسی عقلمند کے لئے مسرت ہی نہیں ہے۔ جناب ربیع بن خیثم کا قول ہے کہ مومن کے لئے موت کا انتظار سب انتظاروں سے بہتر ہے۔ مزید فرمایا کہ ایک دانا نے اپنے دوست کو لکھا اے بھائی ! اس جگہ جانے سے پہلے جہاں آرزو کے باوجود بھی موت نہیں آئےگی (اس جگہ) موت سے ڈر اور نیک عمل کر۔
امام ابنِ سیرین کی محفل میں جب موت کا تذکرہ کیا جاتا تو ان کا ہر عضو سن ہوجاتا تھا، حضرتِ عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا دستور تھا کہ ہر رات علماء کو جمع کرتے ، موت ، قیامت اور آخرت کا ذکر کرتے ہوئے اتنا روتے کہ معلوم ہوتا جیسے جنازہ سامنے رکھا ہے۔
جناب ابراییم التیمی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ مجھے موت اور اللہ کے حضور حاضری کی یاد نے دنیاوی لذتوں سے ناآشنا کردیا ہے۔ حضرتِ کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جس نے موت کو پہچان لیا اس سے تمام دنیا کے دکھ ، درد ختم ہو گئے۔
جناب مطرب رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کوئی شخص بصرہ کی مسجد کے وسط میں کھڑا کہ رہا تھا کہ موت کی یاد نے خوفِ خدا رکھنے والوں کے جگر ٹکڑے ٹکڑے کردئیے، رب کی قسم تم انہیں ہر وقت بےچین پاؤگے۔
حضرتِ اشعث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم جب بھی حضرتِ حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ، وہاں جہنم ، قیامت اور موت کا ذکر سنتے۔
حضرتِ ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی سنگدلی کی شکایت کی تو انہوں نے کہا موت کو یاد کیا کرو، تمہارا دل نرم ہوجاۓگا، اس نے ایسا ہی کیا اور اس کا دل نرم ہوگیا ، وہ حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کا شکریہ ادا کیا۔
*موت کے ذکر پر عیسیٰ علیہ السلام کی حالت*: حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب موت کا ذکر سنتے تو ان کے جسم سے خون کے قطرے گرنے لگتے۔ حضرتِ داؤد علیہ السلام جب موت اور قیامت کا ذکر کرتے تو ان کی سانس اکھڑ جاتی اور بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا، جب رحمت کا ذکر کرتے تو ان کی حالت سنبھل جاتی۔ جنابِ حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے، میں نے جس عقلمند کو دیکھا اس کو موت سے لرزاں اور غمگین پایا۔
حضرتِ عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے ایک عالم سے کہا مجھے نصیحت کرو، انہوں نے کہا تم خلیفہ ہونے کے باوجود موت سے نہیں بچ سکتے، تمہارے آباء و اجداد میں آدم علیہ السلام سے لیکر آج تک ہر کسی نے موت کا جام پیا ہے اب تمہاری باری ہے۔ حضرتِ عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو بہت دیر تک روتے رہے۔
حضرتِ ربیع بن خیثم رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کے ایک گوشے میں قبر کھود رکھی تھی اور دن میں کئی مرتبہ اس میں جاکر سوتے اور ہمیشہ موت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے، اگر میں ایک لمحہ بھی موت کی یاد سے غافل ہو جاؤں تو سارا کام بگڑ جاۓ۔
حضرتِ مطرب بن عبد اللہ بن الشخیر رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے اس موت نے دنیا داروں سے ان کی دنیا چھین لی ہے پس اللّٰہ تعالیٰ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرو جو دائمی ہیں۔
حضرتِ عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے عنبسہ سے کہا موت کو اکثر یاد کیا کرو اگر تم فراخ دست ہو تو یہ تم کو تنگدست کردے گی اور اگر تم تنگدست ہو تو یہ تم کو ہمیشہ کی فراخ دستی عطا کر دے گی۔
جناب ابو سلیمان الدرانی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے میں نے ام ہارون سے پوچھا کہ تجھے موت سے محبت ہے؟ وہ بولی نہیں میں نے پوچھا کیوں؟ تو اس نے کہا میں جس شخص کی نافرمانی کرتی ہوں اس سے ملاقات کی تمنا کبھی نہیں کرتی، موت کے لئے میں نے کوئی کام نہیں کیا لہذا اسے کیسے محبوب سمجھوں۔
جناب ابو موسیٰ تمیمی کہتے ہیں کہ مشہور شاعر فرزدق کی بیوی کا انتقال ہو گیا تو اس کے جنازہ میں بصرہ کی مقتدر ہستیاں شریک ہوئیں جن میں حضرتِ حسن رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے آپ نے فرمایا اے ابو فراس! تو نے اس دن کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے کہا ساٹھ سال سے متواتر اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کر رہا ہوں، جب اسے دفن کر دیا گیا تو فرزدق نے اس کی قبر پر کھڑے ہوکر کہا:
_اخاف وراء القبر ان لم تعافنی۔ اسد من القبر التہایا واضیقا_
_اذا جاءنی یوم القیمۃ قائد۔ عنیف وسواق یسوق الفرزدقا_
_لقد خاب من اولاد آدم من شتیٰ۔ الی النار مغلول القلادۃ ارزقاً_
اے اللہ! اگر تو مجھے معاف کر دے، میں قبر کے افشار اور شعلوں سے خائف ہوں۔
جب قیامت کا دن آےگا تو ایک سنگدل ہیبت ناک فرشتہ فرزدق کو ہنکائیگا۔
بلا شبہ نسلِ آدم کا وہی شخص رسوا ہوا جسے طوق پہنا کر جہنم میں بھیجا گیا۔[مکاشفۃ القلوب ص ٢٠١تا۲۰۴رضوی کتاب گھر دہلی] Hashimazmi78692@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: