اہم خبریں

سابق امیرجماعت مولانا محمد سراج الحسن کے سانحہئ ارتحال پر جماعت اسلامی ہند، بیدر کا اظہارِ تعزیت

بیدر: 3/اپریل (پریس ریلیز) سابق امیر جماعتِ اسلامی ہند مولانا محمد سراج الحسن صاحب کے سانحہئ ارتحال پر جماعت اسلامی ہند، بیدر کیامیر مقامی، ارکان و کارکنان، متفقین اور وابستگان مرد و خواتین نے اظہارِ تعزیت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بلا شبہ مولانا محمد سراج الحسن کی وفات تحریک اسلامی اور ملّت کا ایک زبردست خسارہ ہے۔ بے مثال خطیب ان کی خطابت سامعین کو اپنا اسیر بنالیتی تھی۔ موصوف 88 برس کے تھے۔ 2 اپریل 2020 بعد نماز عصر رائچور میں مولانا محمد سراج الحسن انتقال کرگئے۔ اناللہ و اناالیہ راجعون۔اس سانحہئ ارتحال پر محمد نظام الدین امیر مقامی جماعت اسلامی ہند، بیدر نے بتایا کہ مولانا محمد سراج الحسن کی شخصیت ہمہ جہت پہلوؤں کا منبع تھی۔ موثر خطابت، تعلقات میں گرم جوشی، متوازن فکر، اور سادہ لیکن محنتی مزاج، ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ مولانا کی ولادت مارچ 1932 میں جوال گیرا، ضلع رائچور (کرناٹک) میں ہوئی۔ مولانا سراج الحسن کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ جس سے بھی ملتے، بہت ٹوٹ کر ملتے تھے۔ ہر ملنے والے سے، چاہے اس سے ان کی پہلی ملاقات ہی ہوئی ہو، اتنی محبت، اپنائیت اور گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے کہ وہ ان کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔محمد عارف الدین معاون امیر مقامی جماعت اسلامی ہند، بیدر نے بتایا کہوہ نوجوانی ہی میں جماعت سے وابستہ ہو گئے تھے۔ 1958 سے 26 برس تک وہ حلقہ کرناٹک کے امیر رہے، اس کے بعد انہیں مرکزی سکریٹری کی حیثیت سے مرکز جماعت اسلامی ہند بلا لیا گیا، 1990 سے 2003 تک انھوں نے کل ہند امیر کی حیثیت سے ذمے داری نبھائی۔ اس کے ساتھ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، بابری مسجد رابطہ کمیٹی جیسے اداروں میں بھی سرگرم اور فعال کردار ادا کیا۔ مولانا نے اپنی بصیرت اور متعدل مزاجی کے ذریعہ ان مسائل کو حل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مولوی محمد فہیم الدین صاحب سابق رکن شوریٰ جماعت اسلامی ہند، کرناٹک کے مطابق مولانا محمد سراج الحسن کے اجداد کا تعلق ضلع بیدر سے تھا۔ وہ حلقہ کے امیر کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ضلع بیدر کے مختلف دیہی علاقوں کا بذریعہ سائیکل دورہ کرتے تھے، بیدر سے آپ کا خصوصی لگاؤ تھا اور یہاں کے تحریکی کاموں میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔ مولانا کا بیدر سے لگاو? کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اکثر بیدر آیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ امیر جماعت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے بھی سال میں کم از کم 2مرتبہ بیدر آیا کرتے تھے۔محمد مجتبیٰ خان معاون امیر مقامی جماعت اسلامی ہند، بیدر نے مرحوم کو دعوت اسلامی کے کاموں میں خصوصی دلچسپی تھی۔ مختلف مذاہب کی نمایاں شخصیات سے ان کے گہرے روابط تھے۔ انھیں ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے انھوں نے ‘دھارمک جن مورچہ’ کی تشکیل کی۔ انکی ان خدمات کی وجہ سے انہیں ملک کی تمام دینی و ملّی جماعتوں اور غیر مسلموں کے مختلف حلقوں میں قدر و تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔محمد طحہ کلیم اللہ سیکریٹری مقامی بیدر نے محمد فائز الدین، حیدرآباد کے ایک واقعہ کے حوالے سے بتایا کہ وجے واڑہ میں جماعت کی ریاستی کانفرنس میں شنکر آچاریہ سوامی سرسوتی مدعو تھے۔ فائز الدین نے انھیں حیدرآباد ائر پورٹ سے ریسیو کیا اور وجے واڑہ تک شنکر آچاریہ کے ساتھ ہم سفر رہے۔ راستے بھر مولانا محترم کا ذکر کرتے رہیاور جب ان کی تقریر کا وقت آیاتو ایک ایسی بات کہہ دی کہ پورا مجمع جذبات میں آگیا۔شنکرآچاریہ نے کہا کہ ”اگر ایشور نے مجھ سے میری آخری خواہش معلوم کی تو میں کہوں گا کہ سورگ میں مجھے مولانا سراج الحسن کے قریب جگہ عطا فرما۔”اظہار تعزیت میں بتایا گیا کہ اللہ مولانا سراج الحسن سے راضی ہوجائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کی سئیات سے درگزر فرماتے ہوئے انہیں جنّت الفردوس میں جگہ دے، ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل سے نواز اور تحریک اسلامی کو ان کا
نعم البدل عطا فرمائے_ آمین!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: