مضامین

سانحۂ وفات پرعلماء وقائدین امت اورملی اداروں کےتعزیتی تأثرات اورقراردادیں

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

آپ کےحادثۂ وفات کی خبرمتعلقین پرایک صاعقۂ آسمانی بن کرگری ،آناًفاناًیہ خبر پورےملک میں پھیل گئی،اورہرجاننےوالےکورلاگئی ،علمی اورسیاسی دنیامیں ایک سناٹاچھاگیا ، اس ناگہانی حادثہ نے ہرواقف کارشخص پرایک سکتہ کی کیفیت طاری کردی ۔
٭علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ لکھتےہیں:
” یہ کیسے بتاؤں کہ اس ناگہانی اورغیر متوقع غم سے مجھے کیوں چپ سی لگ
گئی ،ہر چند زبان خاموش تھی ،لیکن کئی دنوں تک سوتے جا گتے مرحوم کی
صورت آنکھوں میں پھرتی اور خواب میں نظر آتی رہی۔ تدمع العین
ویحزن القلب ولا نقول الا مایرضی ربنا وانابفراقك
لمحزونون
٭حضرت علامہ مناظراحسن گیلانی فرماتےہیں کہ :
” میں حیدرآباد آچکا تھا،مشہور مصنف پروفیسرالیاس برنی کی صاحبزادی کی
شادی کی تقریب تھی، اس مجلس سے باہر نکل رہا تھا کہ اچانک ایک ملنے
والے نے خبر سنائی ۔
‘‘بہار کے مولانا سجادؒ کا انتقال ہو گیا ’’
جوتے پہن رہا تھا ، ہاتھ کانپنے لگے ، پاؤں میں لغزش تھی ، دُ ہرا کے پوچھا
کیاکہتے ہو ، پھر توثیق کی ۔تقریباً نصف کروڑمسلمانان بہار کی یتیمی کا نقشہ
آنکھوں میں گھومنے لگا ، بار بار زبان پر عربی کا یہ مشہور شعر جاری تھا
وما کان قیس ھلكه ھلک واحد
ولکنه بنیان قوم تھد ما
عجیب حال میں گھر آیا ، چند مصرعے بے ساختہ دماغ میں چکر کھانے لگے ،
روتا جاتا اور لکھتا جاتا تھا”
٭حضرت مولاناحفظ الرحمن صاحب کابیان ہےکہ:
"میں ایک صبح کو راو لپنڈی جیل میں بیٹھا ہوا اخبار پڑھ رہا تھا کہ انقلاب
اور ملاپ میں جمعیۃ علمائے ہند کا یک بر قیہ نظر سے گذرا جس میں یہ حسرت
زدہ الفاظ درج تھے "کل پھلواری شریف (پٹنہ) میں حضرت مولانا ابو
المحاسن سید محمد سجاد صاحب ناظم اعلی جمعیۃ علمائے ہند کا چند روز علیل رہ کر
انتقال ہو گیا”۔ اناللہ وانا الیہ راجعون کہتا ہوا دل پکڑ کر بیٹھ گیا ، اور پھر دل
کی بھڑاس نکالنے کے لئے اپنے اکابر واحباب کے نام خدا جانے مرثیہ خوانی
میں کیا کچھ لکھا گیا اور اس طرح دل کے بوجھ کو ہلکا کیا ۔
٭حضرت مولانااحمدسعیددہلویؒ فرماتےہیں:
مسلمان قوم کےسر پرسےایک ایسے بزرگ کا سایہ اٹھ گیا ، جس کا
بدل مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا۔اناللہ واناالیہ راجعون
۔ اللھم اغفر لہ و ارحمہ۔
٭حضرت مولاناسعیداحمداکبرآبادی ؒنے”برہان "میں ان الفاظ کےساتھ حضرت مولاناؒکی روح کوخراج عقیدت پیش کیااورگویااپنادل نکال کررکھ دیا:
"پچھلےدنوں ہندوستان نےاس خبروحشت اثرکونہایت رنج واندوہ سے
سناکہ مولاناابوالمحاسن سیدمحمدسجادبہاریؒ چندروزکی علالت کےبعداس
دنیائےفانی سےرحلت فرماگئے،خبرچونکہ بالکل غیرمتوقع طورپرملی تھی
،اس لئےفرط حزن والم نےحیرت کی صورت اختیارکرلی یعنی ہم یہ جانتے
ہیں کہ ہماری بزم علم وعمل کاکوئی لعل شب چراغ گم ہوگیاہے،لیکن اس
احساس کےباوجودتحیرکی فراوانی ہم کورخصت گریہ اورفرصت نوحہ بھی
نہیں دیتی،۔۔۔۔۔
آہ صدآہ!کہ مسلمانان ہندکی یہ متاع گرانمایہ ان سے ۱۷/شوال ۱۳۵۹؁ھ
بروزدوشنبہ ہمیشہ کےلئےچھین لی گئی،اچھامرنےوالےرخصت!توجااور
اپنےساتھ ہندوستان کےلاکھوں مسلمانوں کی حسرت نصیب آرزوؤں اور
تمناؤں کوبھی لیتاجا،شایدہندوستان کےآٹھ کروڑمسلمانوں کی موجودہ تباہ
حالی تجھ سےبرداشت نہ ہوسکی،کہ تویہاں سےگھبراکرخداکی بارگاہ میں
ان کی طرف سے فریادکرنےجارہاہےلیکن تونےہم میں اسلامی حریت و
آزادی اورعملی جدوجہدکی جوگرم روح پیدا کردی ہےوہ ہم کوتیرےبعد
بھی شعلۂ سوزاں وتپاں کی طرح بےقراررکھےگی،اورہمارےکاروان طلب
کاجب کبھی کوئی قدم منزل مقصودکی طرف بڑھےگا ،تیرے نقش پاکی یاد
سے خالی نہ ہوگا،رب السماء والارض تجھےکروٹ کروٹ جنت نصیب کرے،
تویہاں ہمیشہ مسلمانوں کےغم میں پریشان حال رہا،خداتجھےاپنےدامان رحمت
میں ایک مقام نبیل وعظیم عنایت فرمائےکہ اس زندگی کوتونےاعلاء کلمۃ اللہ
اوراعلان حق کےلئےہی وقف رکھا،آمین ۔
٭آپ کےسانحۂوفات کاسب سے زیادہ صدمہ جمعیۃ علماء ہنداورامارت شرعیہ بہار میں محسوس کیاگیا،جوکہ ایک قدرتی بات ہے،آپ کی وفات پرایک سےزائدمرتبہ تعزیتی قراردادیں منظورکی گئیں،کئی جلسوں میں خراج عقیدت پیش کی گئی:
٭جمعیۃ علماء ہندکی مجلس عاملہ کااجلاس دہلی میں ۵، ۶/جولائی ۱۹۴۱؁ء کوحضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنیؒ کی صدارت میں منعقدہوا،اوراس میں یہ تعزیتی قراردادمنظور کی گئی:
"جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کایہ جلسہ زعیم الامۃ،مجاہدملت ،مفکر
جلیل ،عالم نبیل حضرت مولاناابوالمحاسن سیدمحمدسجادصاحب ناظم اعلیٰ
جمعیۃ علماء ہندونائب امیرشریعت صوبہ بہارکی وفات پراپنےعمیق رنج
واندوہ کااظہارکرتاہےاوراس سانحۂ روح فرساکومسلمانان ہندکےلئے
ناقابل تلافی نقصان سمجھتاہے،مولاناؒکی ذات گرامی مذہب وملت اور
اسلامی سیاست کی ماہرخصوصی تھی،ان کی مذہبی ،قومی ،وطنی خدمات
صفحات تاریخ پرآب زرسےلکھی جائیں گی،اورمسلمانان ہندان کوکبھی
فراموش نہیں کریں گے۔
حضرت مولاناابوالمحاسن سید محمدسجادبہاری ؒ غیرمعمولی علمی وعملی اور
فکری صلاحیتوں کامجموعہ تھے،اورجمعیۃ علماء ہندکابیش قیمت سرمایہ تھے
،ان کی کمی شدت سےمحسوس کیا گیا،یہ مجلس مولاناکی اہلیہ محترمہ اور
۔۔ ۔۔دیگراعزاء کےساتھ اپنی دلی ہمدردی ظاہرکرتی ہے،اوررب
العزت جل شانہ کی بارگاہ میں دست بدعاہے کہ مولانا کو جنت
الفردوس میں جگہ دے،اوران کی تربت کواپنی رحمتوں کی بارش سے
سیراب کرے”
٭ایک اورتعزیتی قراردادجمعیۃ علماء ہندکےاجلاس لاہور(منعقدہ:۲تا۴/ربیع الاول ۱۳۶۱؁ھ مطابق ۲۰تا۲۲/مارچ ۱۹۴۲؁ء زیرصدارت حضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنیؒ) میں منظورکی گئی:
"جمعیۃ علماء ہندکایہ جلسہ حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادصاحب
نائب امیرشریعت صوبہ بہاروناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ہند کی وفات
حسرت آیات پردلی رنج وغم کااظہارکرتا ہے ، مولاناکی ذات
گرامی مجمع الکمالات تھی،جس طرح ان کو علوم دینیہ میں اعلیٰ
مہارت حاصل تھی،اسی طرح اسلامی سیاست میں بھی قدرت
نےان کوکامل دستگاہ عطافرمائی تھی،خلق خداکی خدمت اور
مسلمانوں کی حفاظت ان کےنصب العین کے خاص اوراہم
اجزاء تھے،علماء ہندوستان میں ان کی شخصیت ان کی خدمات
جلیلہ کےلحاظ سےنمایاں تھی،ان کےاخلاص وایثارکےموافق
اورمخالف یکساں معترف تھے ،حق تعالیٰ ان کی تربت کواپنی
رحمتوں سےسیراب کرے،اورجنت الفردوس میں ان کواپنے
جواررحمت میں جگہ دے”
٭پھرصدراجلاس حضرت شیخ الاسلام مدنیؒ نےاپنےخطبۂ صدارت میں قلبی تأثرات کااظہارکرتےہوئےارشادفرمایا:
"حضرات!رفقاء کارکےاس اجتماع میں ہم حضرت مولاناابوالمحاسن سید
محمدسجاد صاحب ؒ کی عظیم اوربرگزیدہ شخصیت کو فراموش نہیں کرسکتے،
جنہوں نےگذشتہ تیس(۳۰)سال میں مسلمانان ہندکی زبردست خدمات
انجام دی ہیں،اس عرصہ میں مسلمانان ہندکی تمام اہم مذہبی اور سیاسی
تحریکات میں کوئی ایک تحریک بھی ایسی نہیں ہے،جس میں مرحوم نے
پورے جوش اورسرگرمی کےساتھ نمایاں حصہ نہ لیاہو،جمعیۃ علماء ہند
میں ان کی شخصیت بہت اہم تھی،انہوں نےاپنی تمام زندگی جمعیۃعلماء
کی خدمت اوراس کوترقی دینےکےلئے وقف کردی تھی،اپنی زندگی
کےآخری دورمیں مرحوم جمعیۃ علماء ہندکےناظم اعلیٰ کی حیثیت سے
خدمات انجام دےرہےتھےان کی وفات مسلمانوں کےلئےعموماً اور
جمعیۃ علماء ہندکےلئےایک ایساقومی وملی سانحۂ عظیم ہےجس کی تلافی
نہیں ہوسکتی”
پورےملک میں یوم سجادمنایاگیا
جمعیۃ علماء ہندنےحضرت مولاناؒکی یاداوراعتراف خدمات میں کئی جلسے منعقدکئے،دو جلسے جامع مسجددہلی میں ہوئے،پہلاجلسہ ۲۱/شوال المکرم ۱۳۵۹؁ھ(۲۲/نومبر۱۹۴۰؁ء)جامع مسجددہلی میں حضرت مولاناعبیداللہ سندھیؒ کی صدارت میں ہواجس میں حضرت مولاناسجادؒکی وفات حسرت آیات پرتقریریں ہوئیں،اسی اجلاس میں یہ طےکیاگیاکہ ایک ہفتہ کےبعداسی جگہ ایک بڑاعام جلسۂ تعزیت ہوگا،اوراسی دن پورےملک میں” یوم سجاد”منایاجائےگا۔
اس تجویزکےمطابق ۲۸/شوال المکرم ۱۳۵۹؁ھ (۲۹/نومبر ۱۹۴۰؁ء) کو پورے ملک میں "یوم سجاد”منایاگیا،اورظاہرہےکہ اس مناسبت سے ملک کے مختلف حصوں میں متعددجلسے بھی ہوئے،ایک بڑااجلاس عام جامع مسجددہلی میں ہوا، جس میں حضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنیؒ کی بھی تقریرہوئی،ایک جلسۂ تعزیت جوبلی باغ دہلی میں کیاگیا ،ملک کےدوسرے حصوں میں کئےگئےجلسوں اورپروگراموں کی تفصیل معلوم نہ ہوسکی۔
٭امارت شرعیہ توآپ کاگھرہی تھا،آپ کی وفات سے توگویاگھرہی اجڑگیا،آپ ۱۸/شوال المکرم ۱۳۳۹؁ھ (۲۵/جون ۱۹۲۱؁ء)کونائب امیرشریعت منتخب ہوئےتھے،اور ٹھیک پورےبیس(۲۰)سال مکمل ہونےپر۱۷/شوال المکرم ۱۳۵۹؁ھ(۱۸/نومبر۱۹۴۰؁ء) کوآپ کاوصال ہوا،یہاں کاپورانظام دراصل آپ ہی کےہاتھ میں تھا،آپ کی وفات سے پورےحلقۂ امارت میں صف ماتم بچھ گئی،بہارکی توآپ جان تھے، آپ ہی ایک چراغ تھےجس سےساراگھر روشن تھا، امارت شرعیہ کےلئےیہ بہت صبرآزماوقت تھا،حضرت امیرشریعت ثانی مولاناشاہ محی الدین صاحب قادری پھلواروی ؒاوردوسرے ذمہ داران اس حادثہ سے کتنے متأثرتھےاس کی شدت کااندازہ اس سے ہوتاہےکہ حضرت مولاناسجادؒکی وفات پرپورے چار (۴)سال بیت گئے لیکن آپ کی جگہ (نائب امیرشریعت)پرکسی شخص کاانتخاب عمل میں نہ آسکا،اس لئےکہ حضرت مولاناسجادؒ نےاس منصب کواتنی بلندی عطاکردی تھی کہ کوئی شخص اس جگہ پربیٹھنے کےلائق نظرنہ آتاتھا،لیکن جگہ توبہرحال پرکرنی تھی ،چارسال کےبعد حضرت امیرشریعت ثانی ؒ نے اس جگہ پرآپ ہی کےتلمیذرشیدحضرت مولانا عبدالصمد رحمانیؒ کا انتخاب فرمایا،لیکن فرمان میں یہ صراحت کردی کہ حضرت مولاناسجادؒکاکوئی بدل ہندوستان میں موجودنہیں ہے، دیکھئے فرمان کی یہ عبارت:
"مولاناسجادؒ کےوصال کےبعدسےادارہ امارت شرعیہ میں نائب امیر
شریعت کی جگہ خالی تھی،عملاًاگرچہ مولاناعبدالصمدرحمانی ناظم امارت
شرعیہ نیابت کےبعض امورکوانجام دیتےرہےتھے،لیکن ضابطہ کے
طورپروہ اس منصب کےلئےمامورنہیں کئےگئےتھے۔
ان چار سال کےکام نہایت اطمینان بخش ہیں ،اس وقت بجزاس کے
کہ مولانامرحوم کی مجمع الکمالات ذات سےادارہ امارت شرعیہ محروم
ہےاورجس کابدل بظاہرہندوستان میں نہیں ہے۔۔۔۔آج ۸/ربیع
الثانی ۱۳۶۴؁ھ یوم جمعہ کو مولاناعبدالصمدرحمانی کاتقررعہدۂ نیابت
امارت پرکردیاگیا”
حضرت امیرشریعت ثانی ؒنےآپ کی وفات پرانتہائی اثرانگیزمضمون تحریرفرمایا جس کی سطرسطر سےمحبت وعقیدت ٹپکتی ہے،مضمون کاآغازاس عبارت سےہوتاہے:
"مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد غفراللہ لہ ورحمہ کا حادثۂ ارتحال بے حد جاں
سوز اور انتہائی صبرآزما ہے،ایسی ذات جس نے دین ومذہب کی حمایت
اور مسلمانوں کی صلاح میں جان لگادی ،عافیت وآرام سب کچھ لٹادیا،
خلوص مجسم تھے،۔۔۔
ممتازمحقق مولانانورالحسن راشدکاندھلوی صاحب کایہ احساس مبنی برحقیقت ہےکہ:
"مولاناسجادؒکی وفات کاصدمہ ایسامحسوس ہوتاہےکہ برسوں تک تازہ
رہا،اورجب بھی کوئی بڑی ملی ضرورت یا سانحہ پیش آتااس وقت
مولاناسجادؒ کی بصیرت،دانشمندانہ قیادت اوردوراندیشانہ رہنمائی کی یاد
کی جاتی اورشایدلوگ زبان سےکہتے ہوں گے:
جب کوئی فتنہ زمانہ میں نیا اٹھتا ہے
لوگ اشارہ سے بتادیتےہیں تربت میری

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: